حفیظ سنٹر میں ریاست ’پی کے‘ بن گئی

تحریر: ملک عمید

Banner

گزشتہ ہفتے احمدیوں کی مخالفت میں لگائے گئے ایک اسٹیکر نے حفیظ سنٹر کی دھوم ساری دنیا تک پہنچا دی۔ یوں حفیظ سنٹر بین الاقوامی شہرت یافتہ ہوگیا۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟ ایک تاجر کی دکان سے احمدی مخالف اسٹیکر اتارنے کی خبر پنجاب حکومت نے ٹویٹر پر برادرم رضا رومی صاحب کو دی۔ ساری دنیا میں واہ واہ ہوگئی۔ ایسے لگا کہ ملک بدلنے لگا ہے۔ تاجروں نے بھی کہا کہ چلو ایک اسٹیکر ہی ہے، وہ بھی تنظیم والوں کا، ہمارا کیا جاتا ہے۔ ایک اسٹیکر اترا، ہزار لگتے ہیں اور لگے ہوئے ہیں اپنے حفیظ سنٹر میں جگہ جگہ…. مگر جس دن ان صاحب کو پکڑ لیا گیا جن کی دکان پر اسٹیکر لگا ہوا تھا تو تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ غضب خدا کا، ہم میں سے ایک کو پکڑ لیا۔ یقین کیجیے کہ اگر اس تاجر کو اسٹیکر کی بجائے ٹیکس نہ دینے پر بھی پکڑا ہوتا تو ہنگامہ اتنا ہی ہونا تھا۔ اس صورت میں احتجاج کی زبان تھوڑی اقتصادی ہوتی، یہاں تھوڑی مذہبی ہوگئی۔ تنظیم کے لوگ آئے۔ شور مچ گیا۔ حکومت نے ایک اسٹیکر اتارا تھا، اب بینروں کی بہار لگ گئی۔ حفیظ سنٹر کے باہر بینر ہی بینر لگ گئے۔ کہاں تو اسٹیکر بس ایک دکان کے شیشے پر چسپاں تھا، اب مارکیٹ کے باہر اس سے بھی سنگین بینر لگ گئے ۔ ”قادیانیوں کو ظاہری شناخت دو….“۔ لو جی کر لو گل۔ برا ہو سوشل میڈیا کا جو گھر کے جھگڑے ساری دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔
پہلا اسٹیکر بھی چند لمحوں میں سات سمندر پار تک پہنچ گیا اور یہ والے بینر بھی دیس دیس کی سیر کو نکل لیے اور وہ بھی محض چند منٹوں میں۔ حکومت بیچاری ساری دنیا میں نیشنل ایکشن پلان کا سودا بیچتے بیچتے تھک گئی ہے اور کوئی خریدنے میں نہیں آرہا۔ یہاں کبھی بلوے ہوجاتے ہیں اور کبھی نازی جرمنی کی یادیں تازہ کرنے والے مطالبے چوک پر لکھ دیے جاتے ہیں۔ سو حکومت نے بھی کمال کا حیلہ کیا۔ وہ بینر جن کے اتارنے کی اب حکومت میں نہ سکت ہے اور نہیں ہی 02عزم ، ان کے اوپر کچھ اور بینر لگا دیے گئے ہیں جن پر نعتیہ شعر لکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اے پی ایس کے بچوں کو سلام بھیجنے والے بینر بھی لگے ہوئے ہیں۔ البتہ تاجروں کے نفرت انگیز بینر بہر حال پردے کے پیچھے سے جھانکتی کسی دوشیزہ کی طرح تھوڑے تھوڑے نظر ضرور آرہے ہیں۔ گویا حکومت نے ایسے بینر نفرت آمیز بینروں کے اوپر لگا دیے ہیں جنہیں بہرحال تاجر اتار نہیں سکتے نہ ہی کوئی غصہ میں آکر انھیں پھاڑ سکتا ہے۔ اس سے مجھے ہندی فلم ‘پی کے’ کا وہ منظر یاد اگیا جس میں عامر خان ہجوم کی مار سے بچنے کے لیے ‘انشورنس پالیسی’ کے طور پر مقدس تصاویر خود پر چسپاں کرلیتا ہے تاکہ ہجوم میں سے کوئی اسے مار نہ سکے مبادا اسے تھپڑ مارنے سے ان مقدس تصویر کی بے حرمتی نہ ہوجائے۔

ملک عمید کی دیگر تحریرات:آئی ایس آئی کے بے شمار ایجنٹوں میں ایک اور کا اضافہ

مزید پڑھئیے:سماجی نقطۂ پگھلاؤ

مزید پڑھئیے:تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبھیڑ تو

مزید پڑھئیے:ایل ایل ایف اور لاہور

مزید پڑھئیے:دہشت گردکامیاب ہورہے ہیں، دس کھلی کھلی نشانیاں

جن صاحب نے بھی یہ حیلہ دریافت کیا کافی دلچسپ اور قابل داد ہے مگر دور اندیشی سے دیکھا جائے تو ایسے حیلے زیادہ عرصہ نہیں چلتے۔ ہماری ریاست نے کافی عرصے سے اپنا کام چھوڑ کر ‘پی کے’ کا کام شروع کردیا ہے. ہجوم پر قانون کے نفاذ کی بجائے اس کی خوشامد اب ہمارے ریاستی اداروں کا عام چلن ہوچکا ہے۔ ہجوم اگر کسی بات پر غصے میں ہے تو اس کا ہماری ریاست نے یہ حل ڈھونڈا ہے کہ جو مظلوم ہے، اسے جا کر کہا جائے کہ بیٹا کھسک لو، ہم بچا نہیں سکتے۔ بعد میں جب لوگ سب کچھ توڑ پھوڑ کر اور آگ لگا کر اپنی بھڑاس نکل چکے ہوتے ہیں تو حکام حالات کو اپنے ’قابو‘ میں لے آتے ہیں۔ گویا کسی بھی مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ’ کرنے دو، جو کرتے ہیں‘۔

banner2
ہماری تو اپنی ریاست اور حکومتی اداروں سے یہی امید ہے کہ جلد ہی ہومیو پیتھی کی دوائیاں ترک کر کے کوئی دھانسو قسم کی ایلو پیتھی دوا استعمال کی جائے گی جس کا کوئی اثر بھی نظر آئے اور نتائج بھی نکلیں۔ کب تک ہم ’سب ٹھیک ہوجائے گا‘ کی رٹ سنتے رہیں گے۔ آپ کا کردار صاحب آپ ہی نبھائیں گے۔ کوئی باہر سے نہیں آئے گا۔

یہ بلاگ اس سے پہلے دنیا پاکستان میں شائع ہوا تھا