لطف یہ ھے کہ آدمی عام کرے بہار کو

تحریر: طاہر احمد بھٹی۔ فرینکفرٹ۔ جرمنی

سردیوں کی شام کو بے منزل آوارگی سے گزارنا ہر کسی کا نصیب بھی نہیں اور ذوق بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔
ہمیں ایک طویل عرصے سے یہ علت نصیب ہے۔ کل شام ایک دوست کے ساتھ فورسہائیم Pforzhiem کی سیر کو نکلے تو یہ چند تصاویر قارئین کے ذوق نظارہ کے لئے بنائیں۔ جو دراصل اس اشاعت کی وساطت سے اہل پاکستان کے لئے food for thought بھی ہیں۔

christmas4

جرمنی کے اس شہر کا پرانا نام گولڈ سٹڈGold studd  ہے اور اس کی دولت اور ثروت کی وجہ سے جنگ عظیم میں اس کو تباہ کرنے کی خاص کوشش کی گئی جو اس وقت تو کامیاب رہی اور اس کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا مگر جرمن قوم کی تعمیری قوت نے اس تباہی کو شکست دی اور ملبے کو ایک جگہ پہاڑی کی شکل میں اکٹھا کر کے آنے والی نسلوں کے لئے اپنی قوت ارادی کی یادگار بنا دی اور جیتا جاگتا، فعال اور باوقار شہر پھر سے کھڑا کر دیا۔ اسی شہر کے مرکزی بازار کو کرسمس کے لئے سجایا گیا ہے اور تصویریں اسی سر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔

christmas5
دوسری خاص بات یہ کہ ایسے خوشی کے تہواروں پر سامان ضرورت سے سٹور لدے ہوتے ہیں مگر اشیاء کی قیمتیں 20% سے لے کر 70% تک کم کر دی جاتی ہیں تا کہ لوگ تہوار کی خوشی کو صرف دیکھیں نہ بلکہ اس میں سے اپنا حصہ بھی لے سکیں۔

christmas6
جاپان میں ایک زمانے میں یہ دستور تھا کہ کوئی جاپانی دنیا میں کوئی مفید یا خوشنما پودا بھی دیکھتا تو وہ اس کا بیج یا پنیری اپنے ملک کے لئے ضرور ساتھ واپس لاتا تھا۔۔۔۔۔کچھ ایسا ہی جذبہ خاکسار کا بھی ہے کہ جرمنی کی ہر ترقی اور آسودگی کا بیج اور پودا اہل پاکستان کے لئے بھجوایا جائے۔
کراچی روشنیوں کا شہر،
اسلام آباد خوبصورتی میں بین الاقوام شہرت کا حامل،
لاہور کلچر کا گہوارہ،
کوئیٹہ قبائیلی رواج کا امین
پشاور سرحدی رسوم کا گڑھ
کشمیر۔۔۔۔۔جنت نظیر اور
شمالی علاقہ جات کے حسن کے بیان کے لئے الفاظ کم پڑ جائیں۔۔۔۔۔لیکن
کسی لمحئہ نا سپاس میں ہم نے اپنا منہ شکران نعمت سے ناشکری کی طرف موڑ لیا اور اپنے بگڑے ھوئے فہم کا نام اچھا سا رکھ کے پوری قوت سے بربادی کی منزل کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔۔۔۔خدا کا احسان ہے کی ابتدائی قربانیوں اور مخلصین کی دعا سے ہمیں وہ منزل ابھی تک نہیں ملی۔۔
بھرا پرا کراچی۔۔۔۔۔مگر رہنے کے لئے غیر محفوظ۔۔۔کھلا ڈلا لاہور۔۔۔۔۔مگر دھماکے۔ سر سبز اسلام آباد مگر ناکے اور بیرئیر۔
امن سے رہنے اور محبت سے ملنے والے لوگوں کو کیا ہوا؟

طاہر بھٹی کی دیگر تحریرات پڑھیں:ارباب اختیار کے لئے کسوٹی

مزید پڑھیں:اربابِ اختیار کے لئے کسوٹی: حصہ دوئم

مزید پڑھئیے:یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ

مسجدیں خدا کا گھر کہلا تی تہیں مگر وہاں سے نفرت کی منادی شروع ہو گئی۔۔۔اور خدا اور خدا کے رسول کے نام پر ہوئی۔۔
جہاد مسلمانوں کی قومی اور ملی غیرت کا امتیاز تھا۔۔۔اب وہ اہم اسلامی امتیاز جہلاء کے ہاتھ کھلونا بن گیا اور ریاست منہ تکتی رہی کہ یا اللہ یہ مسلمان اپنی قوم سے جو لڑ مر رہا ہے اسے جہاد کیسے کہیں۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رحمت عالم ہے اس کے نام پر انسانوں کا بے دریغ قتل عام؟
جس موت یعنی خودکشی کو اسلام میں حرام کہا گیا ہے اس کو خود کش بمبار جنت کی ضمانت سمجھ رہا ہے۔۔انّا للہ و انّا الیہ راجعون۔۔۔
اور اللہ کی تائید نے منہ موڑ لیا۔۔۔۔
کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطئہ زمیں پر۔
وھی خطئہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں۔
پچھلے کچھ برسوں کا نقشہ ہے۔۔۔میں نے پنسل سکیچ بنایا ہے رنگ جان بوجھ کے نہیں بھرے۔۔۔۔یہی بہت خوفناک ہے!!
میرے اس مراسلے کے ساتھ تصویریں ہیں جو بہت روشن اور دل کھینچ ہیں۔۔ان بازاروں میں بچے بوڑھے، امیر غریب، مومن کافر، لوکل مہاجر، عوام خواص، مسلمان اور عیسائی سب کے سب بے خوف و خطر گھومیں پھریں گے اور ایک دوسرے کو کرسمس کی مبارکبادیں دینگے۔۔۔۔۔۔۔ہم عیدوں پہ اب اپنوں کو یہ کہتے ہیں کہ۔۔۔۔حالات ٹھیک نہیں۔۔رش والی جگہوں پہ نہ جانا۔۔۔اور جلدی واپس آ جانا۔
یہ خوف اپنے گھر میں کیوں؟
یہ وطن ہمارا ہے۔۔۔۔ہم ہیں پاسباں اسکے۔۔۔۔
چاند میری زمیں پھول میرا وطن۔۔۔
اس لئے اب ایسا کچھ کریں کہ یہ ترانے سچ لگیں اور پاکستان ہمارا ہو۔۔۔۔ہر پاکستانی کا۔۔۔۔ہر شہری کا ہر دیہاتی کا۔۔۔۔ہر مسلمان کا اور ہر عیسائی کا۔
ملک قوموں کی ملکیت اور میراث ہوتے ہیں۔۔۔۔دھڑوں، گروہوں اور فرقوں کے نہیں۔اور قوم یکجہتی سے بنتی ہے باہم دست و گریبان ہجوم پر قوم جیسا باوقار لفظ اطلاق ہی نہیں پاتا۔
لاہور پہنچنے کا ارادہ رکھنے والا شخص جتنا بڑا مسلمان اور نیک کیوں نہ ہو وہ پشاور کی سمت سفر کر کے لاہور نہیں پہنچ سکتا۔
اپنی سمت درست کریں۔۔۔۔محبت سب کے لئے۔۔۔۔۔عام کریں۔ انسانوں کے لئے رحمت بنیں۔۔۔بلا امتیاز مذہب و ملت دکھ سکھ میں شریک ہونا سیکھیں اور اسلام کی سلامتی کے پیغام کے ساتھ غیر مسلموں کا اعتماد بحال کریں تو ہمارے شہر بھی امن۔سلامتی اور محبت کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔۔۔بقول مولانا حالی۔۔
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔
شہر نفرتوں سے بستے نہیں اجڑتے ہیں اور ملک نفرتوں سے ترقی نہیں کرتے۔ انبیاء میں سے ایک کا نام بھی نہیں لیا جا سکتا جو اپنی سچائی کی وجہ سے انسانوں پر جبر اور قہر کی تعلیم دیتے ہوں۔۔۔۔تو آپ اگر نفرت کے بیج بو رہیں ہیں تو اپنا تعارف کروائیں کہ آپ ہیں کون ؟اور اس کام کے لئے آپ نے پاکستان کو کیوں چنا ہے؟؟۔
عام پاکستانی جب زلزلے اور آفات میں ننگے پاوں مدد کے لئے بھاگ کھڑا ہوتا ہے تو عام پاکستانی کو درحقیقت نفرت کسی سے نہیں۔۔اس کے جذبات، اس کی محبت، اس کی خیرخواہی کچھ نادیدہ ہاتھ اچک کے لے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ان عیسائی اقوام کے ملکوں میں جب عید آتی ہے تو یہ ہمیں بڑی خوشدلی سے عید مبارک کہتے ہیں۔ پاکستان سب کا ہے اور عام پاکستانی محبت کا متلاشی بھی ہے اور محبت کو عام بھی کرنا چاھتا ہے۔ 25 دسمبر کو کرسمس کی آمد آمد ہے۔میں اس کی وساطت سے پاکستان کی عیسائی برادری کو ان کے تہوار پر مبارکباد کا پیغام دیتا ہوں۔ اور اس ابتداء کے ساتھ اہل پاکستان کو محبت کو عام کرنے اور نفرت کو ختم کرنے کے جہاد کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان کے شہروں اور دیہات میں امن، اخوت،ہمدردی، تعمیر نو، اور باہمی غیر مشروط ہمدردی کی شجر کاری کی مہم چلانے کی دعوت دیتا ہوں۔
اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے لئے للکارتا ہوں اور جب کوئی رحمت للعالمین کے بینر اٹھا کے غیر مسلموں کو مغلظات بکے تو اس جلوس سے علیحدہ ہو جانے کا مشورہ دیتا ہوں۔ یہ سارے تہذیبی اور تعمیری جہاد ہیں۔۔
یہ جہاد کیوں نہیں کرتے؟؟؟
لطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو۔
موجِ ہوائے رنگ میں آپ نہا لیا تو کیا۔

 

  • Irfan Shah

    “Yad aayen ge aap k sukhan aap k bad”