ایک اور بلڈی سویلین

تحریر: عماد ظفر

bloody civilian

محبوب واپڈا کا لائن مین تھا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں فوج کے ایک حاضر سروس میجر کے گھر کی بجلی کا کنکشن منقطع کرنے اس کے گھر پہنچا۔ میجر زاہد اس کے اس سنگین جرم پر شدید مشتعل ہو گیا اور واپڈا کے اسـں ملازم کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ حبیب کیونکہ محض ایک معمولی سرکاری ملازم تھا اور ساتھ میں فقط ایک بلڈی سویلین اس لیئے نہ تو اس کے بیہمانہ قتل پر کسی بڑے ٹی وی چینل نے بریکنگ نیوز پیش کرنے کی جسارت کی اور نہ ہی کوئی انسانی حقوق کے رہنما کسی ٹی وی چینل پر آ کر بھاشن دیتے نظر آئے۔ البتہ جب تھانہ سہالہ کے باہر مقتول کے محکمے کے ساتھیوں نے احتجاج شروع کیا تو بادل ناخواستہ ٹی وی چینلز کو چند سیکنڈز کیلئے خبر نشر کرنا پڑ گئی۔میجر زاہد کیونکہ فوج کا حاضر سروس آفیسر ہے لہاذٰ مقدس گائے کے رتبے پر فائز ہے۔پولیس کو اسے گرفتار کرنے کیلئے کم سے کم وزیر داخلہ کی سطح سے خصوصی احکامات کا انتظار ہے ۔

ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں انصاف کا تصور کرنا بھی دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے اور اگر قاتل فوج کے ادارے سے ہو تو پھر تو یقینا انصاف کا حصول ناممکن ہے۔ کچھ عرصہ قبل راولپنڈی میں ہی ایک میجر نے نوجوان بہن بھائیوں کو سر عام تشدد کا نشانہ بنایا تھا لیکن نہ تو آزاد میڈیا اس خبر کو نشر کر سکا اور نہ ہی پولیس کو ہمت ہوئی کہ اسے گرفتار کرتے۔آزاد عدلیہ نے بھی خاموشی میں ہی عافیت جانی۔

اب محبوب کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ افراد سراپا احتجاج تو ہیں لیکن ان کا یہ احتجاج نہ تو واپڈا کے اس غریب سرکاری نوکر کی زندگی واپس لا سکتا ہے اور نہ ہی اس ملک میں قائم بلڈی سویلینز اور فوجی افسروں کے درمیان زمین و آسمان کے اس فرق کو دور کر سکتا ہے۔ایسا فرق جو سویلینز کو ایک نچلی زات کا شودر یا دلت بنا دیتا ہے اور فوج سے تعلق رکھنے والے افراد کو برہمن کا درجہ دیتا ہے۔ فوج کے افسران پر قانون نہ تو بلوچستان میں ہزارہا افراد کو گمشدہ بنانے پر لاگو ہوتا ہے اور نہ ہی ڈاکٹر شازیہ جیسی خواتین کی عزت لوٹنے پر۔ اس ملک کے آئین کے ساتھ بھی اگر زیادتی کرنے والا فوجی وردی میں ہو تو وہ قانون کی گرفت سے باہر رہتا ہے۔ کسی ٹریفک کے سنتری سے لیکر پولیس کے اعلی افسران کی ہمت تک نہیں ہوتی کہ وہ فوجی کو روکنے یا جرمانے کا تصور تک بھی کریں۔

ہم بھی عجیب قوم ہیں اپنے گھر کیلئے چوکیدار رکھتے ہیں انہیں اپنا پیٹ کاٹ کر پالتے ہیں تنخواہیں دیتے ہیں اور پھر انہی کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں۔ اگر یہ واپڈا کا لائن مین کسی سیاستدان کے ہاتھوں مارا جاتا تو حوالدار میڈیا اس وقت تک زمین آسمان ایک کر چکا ہوتا۔ ہر طرف آپ کو سیاسی مخالفین کے بیانات نظر آ رہے ہوتے۔انسانی حقوق کی اہمیت پر روشنی ڈالی جا رہی ہوتی۔ لیکن کیونکہ قاتل کا تعلق اس ادارے سے ہے جو غداری اور محب وطنی کے سرٹیفکیٹ خود بناتا اور تقسیم کرتا ہے اس لیئے خاموشی میں ہی سب نے بھلائی جانی۔ اور ویسے بھی چپ رہنے میں ہی عافیت ہے وگرنہ سلیم شہزاد جیسی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔

محبوب یقیناََ یا تو پاگل تھا یا پھر نشے کی حالت میں ورنہ ایک زی شعور پاکستانی سرکاری ملازم کبھی بھی کسی فوجی افسر کے گھر کی بجلی کا کنکشن کاٹنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ سب کو انجام کا پتہ ہے کہ یا تو گمشدہ افراد کی فہرست یا پھر محبوب کی طرح سیدھے اوپر۔ بسمہ کی موت پر ہم سب نے شور مچا دیا تھا اور سیاستدانوں کے پروٹوکول پر طنز و تنقید کے نشتر چلائے تھے لیکن اب اس دلخراش واقعہ پر سب کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔ نہ کوئی خبر نہ کوئی اداریہ۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ انہیں اس لائن مین جیسے انجام سے دوچار کر دیا جائے گا۔

چلیے یہ بیچارہ بلڈی سویلین خود تو مر گیا لیکن ایک بار پھر اس ملک کے انصاف کے نظام اور مقدس گائے کے رتبے پر چند سوالیہ نشانات ضرور چھوڑ گیا۔ ایسے سوالات جو میرے اور آپ جیسے لوگ بس اپنے آپ سے کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔کیا سرکاری فرائض کی انجام دہی ایک سنگین جرم ہے؟ کیا قانون محض سویلینز پر ہی لاگو ہوتا ہے؟ کیا صحافت اور صحافیوں کی ہمت فوج کی کوتاھی اجاگر کرتے وقت غائب ہو جاتی ہے؟ چلئے ایک لمحے کو فرض کیجئے اگر واپڈا کے کسی ملازم نے اس میجر زاہد کو قتل کر دیا ہوتا تو ابھی تک پورے شہر کو سیل کر دیا گیا ہوتا۔ حوالدار اینکرز اسے ابھی تک یہود و نصاری کی سازش قرار دیتے میجر زاہد کو شہید قرار دے چکے ہوتے اور کئی مفتی حضرات اس کی تصدیق کر چکے ہوتے۔ فوج کے ادارے کی جانب سے ایک میڈل کا بھی اعلان کیا جا چکا ہوتا۔ آئی ایس پی آر کے درجنوں پیغامات ابھی تک نشر ہو گئے ہوتے۔لیکن کیونکہ مقتول ایک بلڈی سویلین ہے اس لیئے بس معاملہ دبائے جانے پر ہر طرف سے رائے دی جا رہی ہو گی۔لواحقین کو خصوصی پیکج کی آفر ہو چکی ہو گی۔اور اگر وہ پھر بھی نہ انے تو انہیں نامعلوم نمبروں سے دھمکی آمیز پیغامات آنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہو گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جو ہمیشہ ٹویٹ کرنے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں انہوں نے نہ تو ٹویٹ کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی کسی پیغام کی۔ جناب آپ تو دشمن کے بچوں کو پڑھانے جا رہے تھے از راہ کرم پہلے خود اپنے افسران کو بھی پڑھا لیجئے۔ اور براہ مہربانی ان کو بتایئے کہ پاکستان میں بسنے والے لوگ کسی دشمن ملک کے سپاہی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مفتوح علاقے سے مال غنیمت میں ملے ہوئے غلام۔ یہ اپنا پیٹ کاٹ کر آپ کے ادارے کو تنخواہیں اس لیئے نہیں دیتے کہ انہیں سر عام قتل کر دیا جائے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے یا پھر مسنگ پرسن بنا دیا جائے۔ آپ کو جس وردی پر بے حد غرور ہے وہ وردی اس ملک کے عوام کی بدولت معتبر ہے ان پر ہی طاقت آزمانا چھوڑیئے۔

این ایل سی سکینڈل میں ملوث مجرموں کا کیا ہوا کبھی قوم کو بتانے کی زحمت کیجئے۔ اوکاڑہ میں ملٹری فارمز کےلیئے کسانوں کے قاتل کیا انصاف کے کٹہرے میں آنے پائے جواب دیجئے۔ اکبر بگٹی بالاچ مری کا قاتل کون ہے اس بارے میں بھی روشنی ڈالیے۔ ہزارہا مسنگ پرسنز کو اغوا کرنے والے کون ہیں ذرا اس پر بھی غور فرمائیے۔

آپ اپنی کوتاہیوں پر چشم پوشی اختیار کرنے کے بجائے اگر ذمہ داروں کو سزائیں دیں گے تو نہ صرف ہم سب کے دلوں میں آپ کے لیئے عزت بڑھے گی بلکہ محبوب جیسے کئی اور سویلینز قتل ہونے سے بھی بچ جائیں گے۔ عزت و احترام پیار کی بنا پر قائم ہوں تو ان سے بہتر اور دیرپا رشتہ کوئی نہیں ہوتا لیکن ڈر اور خوف کی بنیاد پر قائم عزت و احترام انتہائی کمزور رشتہ ہوتا ہے اور ہم سن اکہتر میں یہ دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے بلوچستان میں بھی یہی دیکھا ہے۔ اپنے احساس برتری کے کمپلیکس سے نجات حاصل کیجئے قانون کا اطلاق سب پر ہونے دیجئے۔ اگر آپ کا ادارہ قومی وقار کی آڑ میں پناہ لیتا رہے گا تو پھر آپ کسی بھی سیاسی جماعت کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھیں گے۔ محبوب ایک سرکاری ملازم تھا جو اپنا فرض ادا کر رہا تھا اس انجام کے بعد کیا کوئی سرکاری ملازم اپنے فرائض کی ایماندارانہ سر انجام دہی کا سوچ بھی سکتا ہے ؟ سوال تو جمہوری حکومت سے بھی بنتا ہے جسکے وزیر داخلہ ویسے تو قانون کے سب پر اطلاق کرنے کے دعوے کرتے ہیں ۔کیا ایک سرکاری ملازم کا دوران ڈیوٹی قتل دہشت گردی جیسا سنگین جرم نہیں اور کیا محبوب کو کم سے کم کسی سویلین اعزاز سے نہیں نوازا جا سکتا یا پھر یہ بیچارہ بھی کئی دیگر مقتولوں کی طرح محض ایک بلڈی سویلین ہونے کی پاداش میں بقول فیض تاریک راہوں میں مارا گیا۔

  • Usman Mehmood

    i dont have f**king words to appreciate you…… keep it up man we will let them down one day. inchallah