سعودیہ ایران کشیدگی ہمارا مسئلہ نہیں

تحریر: عماد ظفر

iran saudia

سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ کو اب دہائیاں بیت چکی ہیں۔ان دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ نے جہاں مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ابتری اور افراتفری پھیلائی وہیں پاکستان میں بھی ان ممالک کی اس سرد جنگ نے فرقہ وارانہ کشیدگی فسادات اور انتہا پسندی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں موجود سنی انتہا پسند تنظیمیں ہوں یا شیعہ انتہا پسند تنظیمیں ان کو فنڈنگ یہی دونوں ممالک کرتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی اس پراکسی جنگ میں ہم لوگ قربانی کے بکرے کی طرح مارے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے اپنے فرقے کے تعصب کے شکار ہونے کی وجہ سے پاکستان سے زیادہ سعودی عرب یا ایران کے وفادار بنتے ہیں۔
حال ہی میں ایران کی جانب سے سعودی اہل تشیع مذہبی مفکر کی سعودیہ میں پھانسی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے تعلقات انتہائی کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں اور ایران کی جانب سے اس پر احتجاج اور مشتعل مظاہرین کی جانب سے سعودی سفارت خانے کے جلائے جانے کی وجہ سے سعودیہ عرب اور اس کے بعض حلیفوں نے ایران سے سفارتی تعلقات بھی منقطع کر دیئے ہیں۔
ان دونوں ممالک کی اس کشیدگی کا اثر ایک مرتبہ پھر ہمارے ملک اور معاشرے پر بھی پڑتا نظر آیا۔ اس وقت حکومت پاکستان ایک مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ سعودی عرب سے دیرینہ تعلقات اور ایران کے ساتھ بدلتی ہوئی دوستانہ اور افغانستان کے تناظر میں مفاہمتی خارجہ پالیسی کی بدولت نہ تو سعودی عرب کی کھل کر حمایت کر سکتی ہے اور نہ ایران کی۔ البتہ معاشرے میں شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے حضرات ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ان دونوں ممالک کے خلاف اپنی اپنی فرقہ وارانہ وابستگی کے تحت نعرے مارنے اور ہرزہ سرائی میں حسب عادت مصروف ہیں۔ سنی اور شیعہ مسلک کے بعض انتہا پسندلوگ اپنے اپنے مقدس مقامات کی بڑائی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہیں۔اور حیران کن طور پر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں پیش پیش ہے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں جہاں پاپ فرانسس بھی مذہب کی پرستش سے زیادہ انسانوں کے ایک دوسرے کو سمجھنے اور امن سے رہنے کا درس رہے ہیں وہاں ہم لوگ غالبا ََابھی تک زمانہ قدیم کے جاہل لوگوں کی طرح اپنے اپنے فرقے اور مقدس مقامات کو اونچا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔زندہ انسان کی جان کسی بھی قبر یا درگاہ یا مذہبی مقدس مقامات سے زیادہ معتبر ہوتی ہے ۔جو لوگ قبروں میں دفن لوگوں کو زندہ انسانوں پر فوقیت دیتے ہیں وہ جلد یا بدیر خود تاریخ کے قبرستانوں میں دفن ہو جایا کرتے ہیں۔حیرانگی صرف اس بات کی ہے کہ سعودی ایران جنگ میں ہم لوگ اپنے تشخص اور معاشرے کو کیوں مٹانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں انسانوں کی زندگی کا معیار بہتر سے بہتر کرنے پر بحث و مباحثہ جاری ہے نت نئی ایجادات و تحقیقات پر غور و خوص کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ابھی تک قبروں مزاروں اور مدارس کے مقدس یا کم مقدس ہونے پر بحث و مباحثات جاری و ساری ہیں۔سعودیہ کے آمر بادشاہ اچھے ہیں یا ایران کے غاصب مذہبی اسلامی جوڈیشل کونسل کے ممبران یہ ہماری تحقیق کا کل مرکز ہے۔ پاکستان کو سعودی شاہی خاندان کا ساتھ دینا چاہیے یا ایران کے حکمرانوں کا ؟ہم اس سوال کو لیئے یوں بحث و مباحث کر رہے ہیں جیسے اس کے علاوہ ہمارے اور کوئی مسائل ہی نہیں۔ ٹی وی چینلز کی سکرینوں پر نام نہاد مذہبی عالم اور دفاعی تجزیہ نگار کمال مہارت سے ایک منظم پراپیگینڈے کے تحت عوام کو اس فرقہ وارانہ کشیدگی کی بحث میں الجھائے رکھتےہیں۔ کون مسلمان ہے کون کافر ہے اس بات سے آگے ہماری سوچ شاید ختم ہو جاتی ہے۔ مزاروں میں جانے سے زیادہ ثواب ملتا ہے یا مساجد میں، یہ سوال ہمارے لیئے زیادہ اہمیت رکھتا ہے نا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور عدم برداشت۔ انسانی حقوق اور ان کی ادائیگی میں مکمل ناکام ہم لوگ عقیدتوں اور تقلید کی اندھی روش میں انسانیت کو پیروں تلے کچلنے کے عادی بن چکے ہیں۔
ہمیں اس بات کے ادراک کی ضرورت ہے کہ سعودی یا ایرانی حکمرانوں کی پالیسیوں اور آمرانہ رویوں پر تنقید ہرگز مقدس ہستیوں پر تنقید کے مترادف نہیں۔ یہ دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی جنگ کو مذہب اور عقیدت کے نام پر غریب مسلمان ملکوں پر تھوپتے ہیں۔ روپے پیسے کی چمک سے یہ مولوی ذاکروں سیاستدانوں اور فوج کے افسران کی ہمدردیاں بھی خریدتے ہیں۔ان دونوں ممالک کے حکمرانوں نے آپس کی رنجشوں کے باعث پراکسی وارز کے ذریعے مسلمان ممالک میں بے بہا خون بہایا ہے اپنی نااہلیوں کو چھپانے کیلئے دونوں ممالک کے حکمران مذہب کا سہارا لیتے ہیں اور اپنی ڈکٹیٹر شپ کو دوام بھی دیتے ہیں۔اور ان کی محبت میں ایک دوسرے کو کاٹنے والے ہم لوگ ان کی جنگ میں ایک چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
اپنی آنکھوں سے تعصب اور اندھی تقلید کی پٹی اتار کر دیکھیں کیا ان دونوں ممالک میں انسانی حقوق کی ذرا سی بھی پاسداری ہوتی ہے؟ کیا ان دونوں ممالک میں مقدس ہستیوں کے بتائے گئے اعلیٰ اقدار کی ذرا سی بھی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ کیا ان دونوں ممالک میں دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان شہریوں کو جو لاکھوں روپے خرچ کر کے حج و عمرہ یا دیگر مقامات کی زیارت کیلئے جاتے ہیں انہیں ذرا برابر بھی عزت و تکریم دی جاتی ہے۔؟ کیا یورپین ممالک کی طرح آپ کو ان ممالک کی شہریت ملتی ہے؟ کیا ان دونوں ممالک میں آزادی رائے کا احترام ہوتا ہے۔ ؟ ان دونوں ممالک نے خود اپنا قبلہ عالمی طاقتوں سے درست رکھا ہوا ہے لیکن دیگر مسلم ممالک کے عالموں سیاستدانوں افواج اور عوام کو یہ دونوں ممالک کبھی عقیدے اور کبھی عالمی طاقتوں کے ان دیکھے ایجنڈے کے نام پر لڑواتے ہیں۔ دیگر ممالک کی عوام میں دیگر اقوام عالم سے نفرتوں کے بیج بوتے ہیں اور خود ان ممالک میں فرقہ وارانہ تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔
پاکستان میں 70 کی دھائی تک فرقہ واریت اور شدت پسندی کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا لیکن ایران میں خمینی کے نام نہاد انقلاب جو کہ مغربی طاقتوں کی مرہون منت تھا اور سعودی اور خلیجی ممالک میں پاکستانی مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کے کام کرنے کی غرض سے آنے جانے کے بعد فرقہ واریت مسلک اور شدت پسندی کا ناسور تیزی سے ہمارے معاشرے میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ لشکر جھنگوی ہو یا تحریک نفازذفقہ جعفریہ ایسی لاتعداد شدت پسند تنظیمیں سعودی عرب اور ایران کی ہی پشت پناہی اور پیسے کے بل پر وجود میں آئیں۔ لیکن ہم پھر بھی ان حقائق سے منہ موڑ کر ایک اندھی تقلید میں اپنے وطن اور معاشرے کے مسائل کے حل کے بجائے انہی ممالک کی محبت میں ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔
ہم بطور قوم اپنی ایک ثقافت اور تاریخ رکھتے ہیں جو کہ صدیوں پر محیط ہے ہم نہ تو عربی بن سکتے ہیں اور نہ فارسی ۔اگر ان ممالک کی پراکسی وارز میں ہم یوں ہی روپ دھارتے رہیں گے تو ہم اپنی اصل شناخت اور تشخص کھو دیں گے۔اور مسخ شدہ لاشوں کی طرح مسخ شدہ قوموں اور معاشروں کی شناخت بھی آہستہ آہستہ ناممکن ہو جاتی ہے۔ جن معاشروں اور قوموں کی اپنی شناخت باقی نہ رہے تو وہ تاریخ کے قبرستان میں لاوارث لاشوں کی مانند دفنا دی جاتی ہیں۔ اس لیئے بدلیں اپنے آپ کو اور اپنے خیالات کو کم سے کم آنے والی نسلوں کو تو ایک شناخت اور تعصب و نفرت سے پاک معاشرہ دے کر جاییں۔ سعودیہ میں شیعہ مذہبی عالم کو سولی پر چڑھانے کا واقعہ بلا شبہ اندوہناک تھا اور اس کی جامع اور ٹھوس تحقیقات ہونی بھی چاہییں لیکن بطور قوم ہمیں اپنےاپنے فرقہ کی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایسے سانحات پر رد عمل دینا چاہیئے اور ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو ان حادثات کے ذریعے تعصب اور فرقہ پرستی کا زہر معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔

  • Admin2

    Comments are not off

  • Nuree

    Sweden Muslim Immigrants Committing 77% of Rapes

    http://100percentfedup.com/shocking-video-new-rape-clinic-men-opens-sweden-muslim-asylum-seekers-raping-swedish-citizens-alarming-rate/
    ..
    “Rapes have no Religion”: Next statement by Liberals

  • engrich

    how u know.did ur mother told u .

  • Omaidus Malik

    Rapes is done by rapists. I don’t know how someones religion comes in. This article is about Iran-Saudia tensions.

  • k_rash

    Absolutely agree that Pakistan should say out of the Saudi-Iran dispute. The only problem is that Pakistan has taken too many favors from Saudi Arabia so staying out will require a lot of tact and delicate diplomacy. I hope our establishment is up to it.

    Btw, the nastaliq font looks awesome!