ریڈیو پاکستان اورممتاز میلسی

تحریر: طاہر احمد بھٹی

Melsi2

ایک بینڈ کے چھوٹے ریڈیو کی ہمارے لڑکپن میں وہی حیثیت تھی جو آج سمارٹ فون کی ہے اور ہمیں یہ عیاشی نصیب تھی۔
چھت پہ سوتے میں رات گئے ممتاز میلسی بطور کمپئیر اپنے پروگرام کے ساتھ حاضر ہوتے اور ہم گویا ریڈیو پاکستان کے اسی سبزہ زار میں پہنچ جاتے جس کا ذکر وہ اکثر ہی کرتے تھے۔
کمپئرز کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ ایک جن کی گفتگو کے دوران آپ اگلے گانے کا انتظار کرتے ہیں اور دوسرے جن کی باتوں کا انتظار آپ کو گانے کے دوران رہتا ہے۔ ممتاز میلسی دوسرے زمرے میں شمار ہوتے تھے۔
بعد کو (اور یہ بعد کو پروازی صاحب کی نثر کا فیض ہے) جب ہم نے خود بطور کمپئر اسی سٹوڈیو سے پروگرام کرنے شروع کئے تو ریڈیو پاکستان کے کچھ مزید بھید بھاو کھلے۔ کہ مثلا” پروڈیوسرز اور پروگرام مینیجر بھی دو اقسام کے ہی ہیں ۔ایک جو کوثر ثمرین، احسن واہگہ،انظر ملک یا شازیہ ملک جیسے ہیں اور دوسرے جو ایسے نہیں ہیں۔
اسٹیشن ڈائریکٹر اور کنٹرولر کی سطح پہ بھی ایک طبقہ ظفر خان نیازی، اعجاز وقار اور ممتاز میلسی ہوتا ہے اور دوسرا یہ نہیں ہوتا۔
پچھلے ہفتے ان کی وفات کی خبر پڑھی تو اچانک محسوس ہوا کہ پانچ لوگ فوت ہو گئے۔
ایک کمپئیر، دوسرا پروڈیوسر، تیسرا اسٹیشن ڈائیریکٹر چوتھا کنٹرولر اور پانچواں ہمارا لڑکپن کا دوست اور کشادہ ظرف انسان۔ اللہ غریق رحمت کرے۔۔۔آمین
ویسے تو ریڈیو کو ذوالفقار علی بخاری اور پطرس بخاری کے وقتوں سے ہی اصل اور نقل کا تختہ مشق بننا پڑا ہے اور اس میں اہل فن نے اہل اختیار سے بڑی جان جوکھوں سے عزت بچائی ہے لیکن اب وہ ذہین نابغے کم پڑتے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ اہل علم تھے اور حتمیت سے شرمساری محسوس کرتے تھے۔ دوران اختیار خاکسار اور صاحب اختیار کے لئے طرحدار تھے۔
ممتاز میلسی جن دنوں اسٹیشن ڈائیریکٹر اسلام آباد تھے تو میرا ایک کلرک سے پھڈا ہو گیا۔۔جب معاملہ طول پکڑ گیا تو میں ان کے کمرے میں گیا اور اسی لہجے میں مرحوم سے کہا کہ آپ کا کلرک بد تمیز ہے اور ہے  بھی غلطی پہ اور اس کی بجائے میں آپ سے سخت کلامی کر کے زیادہ مطمئن ہوں۔ موصوف نے انتہائی وضع داری سے فرمایا۔۔۔
“تو پھر کرسی پہ بیٹھ کے ڈانٹئے۔۔۔میں چائے بھی منگواتا ہوں”
ذرا اس شرمندگی کا تصور کریں جو مجھے تب ہوئی اور اس احساس زیاں کا بھی جو مجھے اب ہو رہا ہے!
کھدر، سرخ ٹوپی اور تصوف آمیز ملحدانہ موضوعات کی چھتری تلے ضیا الحقی ملائیت کی پر شور بارش سے جو لوگ پناہ لیتے تھے مرحوم کا تعلق بھی اسی ملامتی فرقے سے تھا۔ ظاہر ہے کہ سرائیکی وسیب کے امتیازی معاشی پس منظر سے اعلی تعلیم اور مستقل مطالعے کی علت رکھنے والے انظر ملک، فخر عباس اور ممتاز میلسی جیسے لوگ کہاں جائیں کہ۔۔۔
زبان یارمن ترکی ومن ترکی نمی دانم ۔۔۔۔
لیکن بڑھتی ہوئی تاریکی اور گھسٹتے ہوئے ریڈیو کو زندگی اور اس کا شعور دینے اور دے کر مطمئن رہنے والی علمی اقلیت اور مہذب دہریت کا عالم و عامل وجود رخصت ہو گیا۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔