صحت مند ہوگا پاکستان!

تحریر: تنویر آرائیں

pakistan

پاکستان کی حکمرانی انتہائی کٹھن کام ہے یا حکمرانوں نے اسے مشکل بنا لیا ہے؟اگر اس سوال کا جواب ڈھونڈا جائے تو یہی جواب ملتا ہے کہ حکمرانوں اور غلط پالیسیوں نے خود اسے مشکل بنا دیا ہے اگر حکمران مخلص، ایماندار اور اہلیت کے حامل بھی ہو تو بھی ہم نے ریاستی اداروں کے اندر اتنی کرپشن اور نااہلی کو پال رکھا ہے جس سے چھٹکارا پانا ایک کٹھن کام ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمران بھی ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں اسی لیے موجودہ دور میں بے اعتنائی اور بے زاری پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں بے انتہا ٹیلنٹ موجود ہے جس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ مگر زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں ایسے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں جو مخلص اور ذہانت سے بھرپور ہیں اور ملک و قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ حکومتی رویوں سے ناراض یہ لوگ ملک چھوڑ جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں خاص اہمیت رکھنے والے شعبے تعلیم اور صحت پاکستان میں بری طرح ناکام ہیں صحت کی سہولیات بنیادی انسانی حقوق میں سے ہی ایک تصور کی جاتی ہر شہری کو صحت کی سہولیات مفت فراہمی کسی بھی ریاست کا بنیادی فریضہ مانی جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحت کا شعبہ انتہائی بد ترین حالت میں پایا جاتا ہے۔ عجیب بات تو یہ ہےکہ اگر دوسرے ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان اپنی جی ڈی پی کا صرف 2۔8 فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے۔ جو کہ کروڑوں کی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔
جنوبی ایشیاء میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو صحت کے شعبے پر سب سے کم خرچ کرتا ہے۔ افغانستان اپنے جی ڈی پی کا 7۔4، بھارت 4۔2 اور چائنہ جی ڈی پی کا 5۔6 فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے۔
پاکستان میں اداروں کے اندر باہمی تعاون کے شدید فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے تازہ اعدادوشمار نہیں ملتے۔ 2009 کے دستیاب حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 18 کروڑ پاکستانیوں کے لئے ملک میں صحت کے 1400 مراکز کام کر رہے ہیں جن میں تقریباً ایک لاکھ بستروں کی گنجائش ہے۔ پنجاب میں 306، سندھ میں 330،کے پی کے میں 202، بلوچستان میں 118 اور وفاقی حکومت کے تحت چھوٹے بڑے 71 ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ کروڑوں کی آبادی کے لیے یہ تعداد انتہائی کم ہے۔ اور جو سہولیات ان اداروں میں ملتی ہیں وہ ادارے میں کام کرنے والے عملہ کے نامناسب رویہ کی وجہ سے لوگوں کو ٹھیک طرح سے میسر نہیں آتیں۔ پاکستان میں 60 فیصد لوگ نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اور نجی ہسپتال بھی اب خدمت کے نام پر لوٹ مار کر رہے ہیں۔

پاکستان میں صحت کے شعبے کی صورتحال اتنی گھمبیر ہونے کی ذمہ دار یقیناً حکومت کی ناقص حکمت عملی اور اس شعبے میں سہولیات کی کمی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں امراض کی شرح زیادہ ہے وہاں جی ڈی پی کا 7 فیصد خرچ کر کے مسائل پر قابو پانا چاہیے ۔کس بھی حکومت کی جانب سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے کبھی بھی انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی جس کے باعث صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا عمل ایک منافع بخش صنعت کا درجہ حاصل کر رہا ہے۔ آج سرکاری ہسپتالوں کے بجاۓ ملک میں نجی ہسپتال زیادہ تعداد میں قائم ہیں۔
حکمران طبقے کی حوس اور میڈیکل کالجز کی بیش بہا تعمیرات صحت کے شعبے کو کمزور کر رہی ہے۔ پاکستان میں صحت کے شعبے کی ناکامی کی دوسری بڑی وجہ ماہر ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ کیونکہ ہم نے صحت کے شعبے کو بے لگام چھوڑ رکھا ہے۔ ان سب میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل( پی ایم ڈی سی ) بھی کئی غلطیوں کی ذمہ دار ہے۔ جس کی شہرت قطعی اچھی نہیں ہے۔
2007 سے قبل پاکستان بھر میں 20 میڈیکل کالجز کام کر رہے تھے جبکہ گزشتہ 5 سالوں میں 108 کالجز کے حیرت انگیز اضافے کے بعد اب یہ تعداد 128 ہو گئی ہے۔ جن میں سے 89 سرکاری میڈیکل کالجز ، 51 نجی، 10 سرکاری ڈینٹل کالجز اور 29 نجی ڈینٹل کالجز شامل ہیں۔
( پی ایم ڈی سی ) کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 18 سرکاری، 28نجی میڈیکل کالجز ہیں۔ سندھ میں 9 سرکاری جبکہ 12 نجی، کے پی کے میں 8 سرکاری اور 19 نجی، بلوچستان بھر میں ١ سرکاری اور نجی میڈیکل کالج موجود ہیں۔ جبکہ آزاد کشمیر میں 2 سرکاری اور 1 نجی میڈیکل کالج موجود ہے۔ اسی طرح پنجاب میں 3 سرکاری اور 12 نجی ڈینٹل کالجز موجود ہیں، سندھ میں 4 سرکاری اور 12 نجی، کے پی کے میں 2 سرکاری اور 5 نجی ، بلوچستان میں 1 سرکاری ڈینٹل کالج موجود ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر میں کوئی ڈینٹل کالج نہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جو پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈ ہیں۔
پاکستان میں ایسے بہت سے کالج بھی موجود ہیں جو پی ایم ڈی سی رجسڑڈ نہیں اور ایسے کالجز سے پڑھ کر نکلنے والے ڈاکٹروں کا مستقبل کیا ہو گا؟ اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ادارہ اپنے فرائض سرانجام دینے میں ناکام ہے۔ پی ایم ڈی سی کا لائسنس اور ریگولیٹری رول کو علیحدہ کردیا جانا چاہیے کیوں کہ ہائیر ایجوکیشن، یونیورسٹیاں ریگولیٹری باڈی کا رول انجام دے سکتی ہیں۔ میڈیکل کی تعلیم دینے والے اداروں کو میڈیکل کے نصاب، سہولتوں اور فیکلٹی سے متعلق ایک معیار مقرر کر کے اس پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی شکایات دور کرنے کے لیے ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں وہ میڈیکل پروفیشنلز کے ہاتھوں کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچنے پر شکایت درج کرا سکیں۔ دوسری اہم بات کے ڈاکٹروں کے لیے ایک ایسا ضابطہ اخلاق بنایا جائے جس کے تحت کوئی بھی ڈاکٹر ہڑتال نہ کر سکے کیونکہ انسانی زندگی کو بچانا ان کا سب سے اہم فریضہ ہے۔
ڈاکٹروں کے آے روز کی ہڑتال سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تیسری اہم بات دوران سروس ڈاکٹروں کو نجی کلینک چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور حکومت پاکستان کو ان کے لیے اچھا معاوضہ مقرر کرنا چاہیے تاکہ ڈاکٹر صاحبان کو نجی کلینک سے زیادہ، سرکاری ہسپتالوں میں آئے مریضوں کی فکر ہو۔ حکومت کا فرض ہے کے صحت کے شعبے پر توجہ دے کر عام آدمی کی رسائی ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ کیونکہ صحت کی بنیادی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ صحت مند ہو گا پاکستان تبھی تو ترقی کرے گا پاکستان…۔
لکھاری اینکر پرسن اور تجزیہ نگار کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور ان دنوں فری لانس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔  انہیں ٹویٹر پر فالو کریں:

twitter: @tanvirarain