چارسدہ حملے : اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے

تحریر: عماد ظفر

bacha-khan-university-in-charsadda-under-attack-1453282248-5411

چارسدہ میں پیش آنے والے بربریت ناک سانحے کے بعد اب ملک میں زندگی معمول کی جانب لوٹ آئی ہے۔ سب ایک اور سانحے اور معصوم طالب علموں کی جانوں کے زیاں پر افسوس اور غم و غصہ کا اظہار کرنے کے بعد اپنے اپنے شعبہ ہائے زندگی میں مصروف ہو چکے ہیں۔سیاستدانوں اور عسکری قیادت کے وہی روایتی بیانات اور دہشت گردوں کے ہاتھوں بری طرح قتل ہونے والے معصوموں کو ملک و قوم کی خاطر قربان ہونے کا اعزاز مل چکا ہے۔ بطور قوم ایک سوال جو کئی دہائیوں سے ہمارے در پر دستک دے رہا ہے اور جسے ہم آنکھیں بند کر کے ٹالے ہی جا رہے ہیں اب وہ محض سوال ہی نہیں رہا بلکہ ایک عفریت بن گیا ہے ۔جو محض گزشتہ دس برس میں وطن عزیز میں 70 ہزار کے لگ بھگ انسانوں کو نگل گیا۔سوال بہت سادہ ہے لیکن جواب بہت پیچیدہ۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کا بیانیہ دفاع سے فلاح کی طرف کب تبدیل ہو گا۔

مذہب کا بیانیہ شدت پسندی سے امن پسندی کی جانب کیسے مائل ہو گا۔ اگر ریاست کو دیکھا جائے تو ریاست کا بیانیہ تبدیل کرنے کیلئے سب سے پہلے دفاع کے نام پر بجٹ میں سے کم سے کم پیسہ خرچ کرتے ہوئے غربت کے خاتمے، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات پر پیسہ خرچ کرنا ہو گا۔ یہ سوچ کہ اسلحہ یا فوج کسی بھی ملک یا قوم کی سلامتی کی ضامن ہے اس کو ختم کرنا ہو گا، کیونکہ دور جدید میں اب یہ واضح ہو چکا کہ قوموں کی دفاع کے ضامن مضبوط معیشت اور علوم و فنون و تحقیق کے محاز ہیں۔ہمارے سامنے روس کی مثال موجود ہے جسے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے نہ تو اس کے ایٹم بم بچا سکے اور نہ ہی اس کی اتنی بڑی فوج۔ یہ غلطی ہمیں درست کرنا ہو گی۔

مطالعہ پاکستان میں بچوں کو پاکستان کا مطالعہ کروانا ہو گا نا کہ جنگی ہیروز اور جنگوں کا۔جنگوں کو عظمت فراہم کرنے کے بجائے امن و محبت کا درس دینا ہو گا۔ تعمیر اور تخریب میں فرق سمجھاتے ہوئے آنے والی نسلوں کو بتانا ہو گا کہ تخریب دنیا کا آسان ترین اور بزدلوں کا کام ہے جب کہ تعمیر دنیا کا مشکل ترین کام اور بلند ہمت والوں کا وصف ہے۔ معاشرتی علوم میں طرز معاشرت یعنی معاشرے میں زندگی مثبت اور احسن انداز سے گزارنے کے طریقے پڑھانے ہوں گے نا کہ دوسروں کے طرز معاشرت سے نفرت کرنے کے۔تنقیدی سوچ اور معروضی سوچ سے بچوں کو روشناس کروانا ہو گا تا کہ وہ سوال اٹھا سکیں تحقیق کر سکیں۔ اپنی رائے کو حقائق ،دلائل اور تحقیق کی روشنی میں قائم کرنے کے قابل ہو سکیں۔ یہ اصلاحات ہنگامی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب قوم کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے والے نغموں یا اشتہارات اور فلموں کے بجائے امن ترقی خوشحالی اور محبت پر مبنی گیت سنوانے ہوں گے۔ ریاست کو سماج میں غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے وسائل استعمال کرنے ہوں گے۔ بڑے بڑے میگا پراجیکٹس وقتی سیاسی تشہیر یا اعداد وشمار کے کام تو آ سکتے ہیں لیکن ایک غریب یا بیروزگار آدمی کے نہیں۔اور نصف سے زائد آبادی جو یا تو غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرتی ہے یا بیروزگاری کے جہنم میں، اس آبادی کو جب اپنا کوئی حصہ ملکی معیثت میں نظر نہیں آتا تو ایسے افراد کا شدت پسندی یا جرائم کی طرف راغب ہونا ایک فطری عمل ہے۔اگر امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا ہی چلا جائے گا تو پھر محرومیاں بھی بڑھتی جائیں گی۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ دنیا کی تمام تر برائیاں اور جرائم محرومیوں کی کوکھ سے ہی جنم لیتے ہیں۔ صحت تعلیم اور روزگار کے مواقع کیسے سب کو میسر آئیں پالیسی سازوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑے گا۔

آپ سکینڈی نیوین ممالک کو دیکھ لیجئے جہاں جرائم کی شرح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ وہاں ریاست کا عوام کو انصاف اور بنیادی ضروریات زندگی باہم پہنچانا ہے۔ اسی طرح ریاست کو محمد علی جناح کے دیئے گئے بیانیے کی طرف واپس لوٹنا ہو گا جس میں ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور جس میں تمام شہری مذہب کی تفریق کے بنا ریاست کے برابر شہری ہیں۔ عقیدوں کی بنا پر کسی کو کمتر سمجھنا یا نفرت کرنا تبھی بند ہو سکتا ہے جب ریاستی سطح پر اس کا تدارک کیا جائے۔ مدارس میں جدید مضامین پڑھانے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تعلیمی بورڈز کے ماتحت لایا جائے۔ یہ یقینا ایک عمومی سوچ سے متصادم اقدامات ہیں اور ان کو لاگو کرنے کی صورت میں سیاسی جماعتوں کو سیاسی نقصانات کا بھی اندیشہ ہو سکتا ہے لیکن سیاسی نقصان انسانی جان کے نقصان سے بڑھ کر نہیں ہے۔

مذہبی بیانیہ تبدیل کرنے کیلئے علمائے کرام اور سماجیات کے ماہرین کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ ہمارا مذہبی بیانیہ ہے کیا؟ سب سے پہلے تو یہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ فی الوقت ہمارا مذہبی بیانیہ محض امریکہ یا سعودی عرب کی دی ہوئی سوچ کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ کو جب بھی جنگ میں پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے تو سعودیہ کے تعاون سے ہمارا مذہبی بیانیہ ہمہ وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اور محض جہاد قتال یا کفار کو نیست و نابود کرنے پر مصر دکھائی دیتا ہے۔ مذہب کو دور جدید کے تقاضوں سے ملاتے ہوئے اپنا ایک بیانہ تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دوسرے مذاہب کے ساتھ ہم آہنگی اور امن اس بیانیے کی اشد ضرورت ہیں۔ مذہب کا بیانیہ عالم انسانیت کے متعلق ہونا چاہیے نا کہ محض مسلم امہ پر۔وہ مسلم امہ جو شاید کاغذوں اور کتابوں میں تو پائی جاتی ہے لیکن حقیقی دنیا میں جس کا کوئی وجود نہیں۔

اقوام عالم میں تعلقات اپنے اپنے ملک کے فائدے کے لیئے رکھے جاتے ہیں۔ مذہب کو بنیاد بنا کر کچھ ممالک سے خیرات لے کر خود کو کب تک دہشت اور وحشت کی آگ میں جلائے جانا ہے اس نکتے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو ممالک دوستی کے نام پر کبھی تیل یا کبھی اربوں ڈالرز تحفے میں دیتے ہیں وہ پھر بہت سے مدارس اور جہادی تنظیموں کو فنڈنگ بھی دیتے ہیں اور اپنے ایجنڈوں کی تکمیل بھی کرواتے ہیں۔ ثقافت اور مذہب کو الگ کرنا ہو گا۔ ہمارے خطے کی ثقافت صدیوں پرانی ہے اس کا اپنا ایک رنگ ہے ایک مزاج ہے اس کو جبری طور پر مذہب کا رنگ دیکر کسی اور خطے کی ثقافت سے تبدیل نہیں کروایا جا سکتا۔ اور تمام تر کوششوں کے باوجود ہم نے دیکھ لیا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہم اپنی ثقافت اور مذہب کے درمیان کنفیوزڈ ہو چکے ہیں۔ دفاعی و مذہبی بیانیہ تبدیل کرنا یقینا ایک مشکل عمل ہے لیکن نظریاتی محاز پر لڑے جانی والی یہ جنگ جو ہمارے ان بیانیوں کو نہ صرف کھوکھلا ثابت کر چکی ہے بلکہ ان کو جدید دنیا سے متصادم بھی قرار دے چکی ہے اس جنگ کو جیتنے کیلئے یہ اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ذہن سازی اور فکری تبدیلی کا یہ عمل ریاست کی سنجیدہ کوششوں سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔