دہشت گردی کو شکست ہم مل کر دے سکتے ہیں

تحریر: عماد ظفر

pakistan

دہشت گردوں کا دہشت گردی کے واقعات برپا کرنے کے پیچھے ایک اہم مقصد ہوتا ہے. وہ مقصد معاشرے میں خوف کی ایسی فضا قائم کرنا ہوتا ہے کہ جس کے تلے ہر فرد اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے جہاں ہر سانس لینے والا اپنی زندگی کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال سمجھتا ہے. نفسیات کی دنیا میں اس کیفیت کو “پیرانویا” کہا جاتا ہے جہاں ہر وقت انسان کو کچھ غلط ہونے کا دھڑکا لگا رہتا ہے یا شائبہ رہتا ہے.وطن عزیز میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے تازہ ترین المناک دہشت گردی کے واقع کے بعد بھی کچھ ایسی ہی کیفیت طاری ہے.

ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط دہشت گردی نے ہمارے معاشرے کو بھی ایک پیرانویا میں مبتلا کر رکھا ہے. چارسدہ کے تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کے بعد دہشت گرد مختلف صوبوں میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور سراغ رساں ایجنسیوں کی پیشگی اطلاعات کے باعث وفاقی حکومت نے صوبوں کو تعلیمی درسگاہوں میں چھٹیوں کے اعلان کرنے کا حکم صادر کر دیا. گو ان تعطیلات کا عذر موسم سرما کی سردی کی شدت کو قرار دیا گیا لیکن خود وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس عذر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک غلط فیصلہ قرار دیا.

یقینا دہشت گردی کے سانحات کے حکومتوں پر منفی سیاسی اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے بچنے کیلئے حکومتیں اپنے اپنے فہم اور بصیرت کے مطابق فیصلے کرتی ہیں. لیکن دہشت گردی کی یہ جنگ خوف کے دم پر لڑی جاتی ہے اور کسی بھی قسم کے خوف کا شکار ہو کر تعلیمی عمل کو روکنا یا اس میں تعطل ڈالنا اس نفسیاتی جنگ میں دہشت گردوں کو برتری دینے کے مترادف ہے. ایسے حالات میں خیبر پختونخواہ کی حکومت کا تعلیمی درسگاہوں کو بند نہ کرنے کا اقدام ایک مثبت اور دلیرانہ فیصلہ ہے. کیونکہ تعلیمی درسگاہوں کو بند کر کے آخر کب تک دہشت گردی کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے.؟

اس جنگ کو جیتنے کیلئے مائینڈ سیٹ کو شکست دینا لازم ہے. یہ جنگ جہاں جنگی میدان میں لڑی جا رہی ہے وہیں نظریاتی محاز پر بھی. یہ سوچ اور نظریے کی ایک ایسی جنگ ہے جس میں ایک جانب زندگی کی حقیقتوں سے منہ موڑے نفرتوں اور موت کو گلے لگانے والا نظریہ ہے اور دوسری جانب زندگی کی تمازتوں اور اجالوں کا علم تھامے سوچ. یقینا اس جنگ کو نظریاتی محاز پر ہی لڑ کر جیتا جا سکتا ہے. کیونکہ یہ روایتی جنگ نہیں ہے. ہمارا مقابلہ کسی بیرونی دشمن یا بیرونی فوج سے نہیں بلکہ اپنے درمیان بسنے والے اپنے ہی جیسے دکھائی دینے والے بھٹکے ہوئے اور گمراه گروہوں سے ہے. ایسے گروہ جو کسی بھی جنگی ضابطے یا قانون کو نہیں مانتے. اور اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کیلئے کسی حد تک بھی گربھی سکتے ہیں. سوچ کی لڑائی سب سے کڑی ،طویل اور صبر آزما ہوتی ہے. اعصاب کو شل کر دینے والی اس لڑائی کو نظریاتی محاز پر ہم سب مل کر ہی جیت سکتے ہیں.

جہاں ریاست کو اس نظریاتی اور سوچ کے محاذ پر جاری جنگ میں بے پناہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے وہیں ہم سب کو بھی بطور معاشرہ اپنے اپنے حصے کا فرض نبھانے کی ضرورت ہے. ہم دہشت گردی کا واقعہ ہوتے ہی طنز و تنقید کے نشتر اٹھائے فورا اپنی اپنی سوچ کو درست ثابت کرنے نکل آتے ہیں اور ریاستی اداروں کو مجرم ٹھہراتے ہوئے نادانستگی میں مزید تقسیم ہوتے ہوئے دہشت گردوں کی ہی مدد کر دیتے ہیں.ہمیں بطور معاشرہ اس امر کے ادراک کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ایک آئیڈیل معاشرے یا آئیڈیل حالات و واقعات کے پس منظر میں نہیں رہتے.

ایک جنگ سے نبرد آزما قوم کو اس شعوری ڈینائل میں پڑے رہنا کوئی مدد یا مثبت نتیجہ نہیں دے سکتا. عہد گم گشتہ یا گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا لیکن ہم سب اس ماضی سے سیکھتے ہوئے اپنے حال کو درست کرتے ہوئے آنے والے کل کو محفوظ ضرور بنا سکتے ہیں. ہم سب کو اس ضمن میں تلخ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا اپنا مثبت اور تعمیری کردار اس نظریے اور سوچکے خلاف ادا کرنا ضروری ہے جو تاریکی سے پیار کرتا ہے اور اجالوں سے نفرت. یہ یقینا آسان کام نہیں ہےکیونکہ ہم نے لاتعداد بچوں اور بے گناہوں کی لاشیں اس جنگ کے دوران کاندھوں پر اٹھائیں ہیں اور شاید مزید اور بھی اٹھانا پڑیں. لیکن کیا ہم خوف کا شکار ہو کر اپنے بچوں کو گھروں میں قید کر لیں.خود زندگی کی تمام مسرتوں یا تفریحات سے منہ موڑ لیں.یا پھر ایسے ہی ایک دوسرے پر تنقید کرتے ان دہشت گردوں کے وجود کا باعث کبھی اپنی ہی فوج، گزشتہ پالیسیوں یا بیرونی سازشوں پر ڈال کر مزید تقسیم ہوتے چلے جائیں؟

گزشتہ زمانے میں طالبان کو بنانے سے لیکر جہادی گروہ بنانا یقینا ہمارے پالیسی سازوں کی غلطی تھی لیکن کیا ہم اس ماضی کی ہی غلطی کو لے کر روتے پیٹتے اپنا حال اور مستقبل بھی کھونا چاہتے ہیں؟ فوج کے ادارے پر تنقید اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہی ادارہ سامنے کھڑا ہو کر لڑ رہا ہے اس کے جوان اور افسران بھی اس جنگ میں لقمہ اجل بنتے ہیں.ہم ایک سانحے پر کہرام تو برپا کر دیتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ سینکڑوں دہشت گردی کے سانحات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوان اپنی جان پر کھیل کر ناکام بنا دیتے ہیں.لکھنے والے صحافی ہوں یا ٹی وی سکرینوں پر بولنے والے اینکرز، کتنی دفعہ ایسے لاتعداد سانحات جنہیں رونما ہونے سے پہلے ہی روک لیا جاتا ہے ان پر بحث و مباحث کرتے ہیں؟

جنگ کے دوران مورال کا بلند ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور مورال بلند کرنے کیلئے چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بھی سیلیبریٹ کیا جاتا ہے.ہم سب کم سے کم جنگ کے اس میدان میں اپنے اپنے فرائض کی بجاآوری تو کر سکتے ہیں اور دہشت گردوں سے ڈرنے کے بجائے زندگی کی تمام رونقوں سے محبت کر کے اس سوچ کو شکست دے سکتے ہیں.بطور ریاست جنگ کے میدان میں لڑنے کے علاوہ ریاست کو نظریاتی میدان میں بھی اس شدت پسندی اور دہشت کی سوچ کو قابو کرنے کیلیے فوری حکمت عملی کی ضرورت ہے. بجائے لوگوں کو گھروں میں محصور رہنے کا کہنے کے اب زندگی کی رونقوں کو خوش آمدید کہنے کا وقت ہے. تفریحی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے. موسیقی کے کنسرٹ ـ ادبی بحث مباحث کیلئے جگہ اور مواقع .کھیل کود کی سرگرمیاں فن پاروں کی نمائش ثقافتی میلے ان سب سرگرمیوں کو ریاستی سطح پر سرپرستی دے کر کے پورے ملک میں پھیلانا چائیے تا کہ وہ سوچ جو ان سرگرمیوں سے منہ موڑ کر پتھر کے زمانے میں جینا چاہتی ہے اسے شکست دی جا سکے.

یہ سوچ کی جنگ نظریاتی محاز پر ہی جیتی جا سکتی ہے اور جہاں بھی زندگی کی مسرتیں اور رونقیں آب و تاب کے ساتھ چمکیں وہاں اس سوچ کو نہ صرف شکست ہو جاتی ہے بلکہ یہ اپنی موت آپ مر جاتی ہے. یہ تمام سرگرمیاں نہ صرف معاشرے پر چھائے خوف و ہراس کے بادلوں کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ فکری جمود کو توڑنے میں بھی مددگار ہو سکتی ہیں. آرٹ کلچر موسیقی مباحث ادبی و عملی سرگرمیاں امن و محبت کی سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ نظریاتی محافظ بھی ہوتی ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نفرتوں کے تعفن کو ختم کر دیتی ہیں. موجودہ حالات یا اس دہشت گردی کی جنگ میں حصہ لینا نہ لینا ہمارا فیصلہ نہیں تھا لیکن ہم نے یہ فیصلہ خود کرنا ہے کہ کیا ہم نے محض ڈر کر نوحہ خواں بن کر اور طنزو تنقید کے نشتر برسا کر اپنی اور اپنے بچوں کو خوف کی فضا میں سانس لیتے رہنے دینا ہے یا پھر ایسے پر امن معاشرے میں جہنا ہے جہاں زندگی اپنی تمام تر تکالیف اور مصائب کے باوجود مسکراتی گنگناتی اور رواں دواں رہے.

کہتے ہیں کہ طویل سے طویل رات کی بھی صبح ہوتی ہے .ہر جنگ کا ایک اختتام ہوتا ہے. ہم نہیں تو ہمارے بچے یقینا ایک پرامن اور مثالی معاشرہ ضرور دیکھنے پائیں گے. بس ہمیں یقین کی ضرورت ہے اور اپنی اپنی سطح پر اپنے اپنے کردار کو نبھانے کی.ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنی اپنی زمہ دارریوں کا احساس دلانا ایک اچھا پہلو ہے اور ان پر تنقید ہم کرتے ہی رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے .لیکن اس جنگ کو جیتنے اور امن کی جانب لوٹنے کے لیئے مشکل حالات میں ہم سب کو مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کی رمق کا ساتھ دینا ہو گا نا کہ نفرت اور جہالت کے اندھیروں کا.