ڈاکٹر عبد السلام : دامن بنے تو رنگ ہوا دسترس سے دور

نوٹ: یہ امر متعدد بار ظاہر کیا جاچکا ہے کہ مصنف ‘احمدی’ عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ڈاکٹرعبدالسلام صاحب بھی اسی ‘فرقے’ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ‘مین سٹریم’ (قومی دھارے)  میں مصنف کی تحریر دلچسپی کا باعث ہوگی۔ نیز یہ بھی کہ پاک ٹی ہاؤس بلاگ آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے اس لئے یہ تحریر قارئین کی نظر کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ مصنف کے خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر

تحریر: طاہر احمد بھٹی۔ فرینکفرٹ۔ جرمنی

Abdus Salam Nobel Prize
پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام مرحوم پر اس سال اور اس ہفتے ذکر خیر کے حوالے سے مضامین اور ٹی وی پروگرامز میں تذکرے اور سوشل میڈیا پر ہلچل سی دیکھنے میں آرہی ہے اور ایک تحقیقی حوالےاور جستجو کی وجہ سے اچھی بری اور معقول یا کم معقول چیزیں گذشتہ بیس برس سے ہی نظر سے گزر رہی ہیں۔
پاکستان میں جو مضامین شائع ہوں یا نشریاتی ذرائع سے ڈاکٹر سلام صاحب کا ذکر ہو ان کو دیکھ کر ایک بات بڑی وضاحت سے سمجھ میں آتی ہے اور وہ یہ کہ؛
ڈاکٹر سلام پر مثالی مضمون یا ٹاک شو وہ ہے جس میں ان کی شخصیت سے قربت نہ پیدا ہو اور تعلق خاطر کا اظہار نہ ہونے پائے۔
دوسری بات یہ کہ ان کے احمدی اور مواحد ہونے یا قرآن کریم سے کیفیاتی کسب فیض کرنے جیسے حوالوں سے پھلانگ کے گذر جانا ضروری ہے۔ نہ خود رکیں اور نہ قاری یا سامع کو یہ حرکت کرنے کا موقع دیں۔ گویا تذکرہ کرنا تو ناگزیر ہے پر اس میں سے تفہیم کا کوئی راستہ نہ نکلنے پائے۔
تیسرا یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ڈاکٹر سلام پر مستند ترین تحریر و تقریر کا معیار یہ ہے کہ یہ کام کسی احمدی عقیدے کے فرد کا نہیں ہونا چاہئے۔ ان کی بات تو جانبدار اور حقیقت سے دور ہو گی اور اس میں وہ اپنا عقیدہ گھسیڑ دیں گے۔ اور صاحب، اس طرح بات علمی اور غیر جانبدار نہیں رہتی۔
چوتھا یہ اہتمام کہ اس ذکر خیر کا تاثر یہ رہنا چاہئے کہ اس مہربانی اور احسان کا بار مرحوم پر اہل پاکستان اور حکومتی و نجی اداروں کی طرف سے ہے، کوئی جذبات کی رو میں اس کو پاکستان کی قومی ذمہ داری نہ قرار دے بیٹھے۔ قومی سطح کی ستائش کے لئے آئینی طور پر ایمان کی سند رکھنے والے حکومت کے قائم کردہ مشاہیر موجود ہیں ۔ عبد السلامی رو میں بہہ کر ان کے سرکاری مشاہیر کی کسر شان نہ ہو اور حفظ مراتب میں کوتاہی نہ ہو جائے۔
پانچواں اہم نکتہ یہ حرز جان رہے کہ سہوا” بھی ان خدمات کا ذکر نہ آئے جن کا عالم اسلام، خدمت قرآن۔ تفہیم احادیث یا مسلم معاشرے کی فکری تعمیر نو سے تعلق ہو۔
تو جناب یہ وہ “پانچ بنیادی اخلاق” ہیں جن سے آپکی تحریروں کا متصف ہونا ضروری ہے ورنہ ڈاکٹر عبدالسلام پر آپکی نگارشات پایئہ اعتبار سے ساقط قرار پائیں گی۔
عاجز کو اعتراف ہے کہ راقم کی تحریر میں یہ پانچوں نقائص پائے جاتے ہیں اور ایک اضافی “کج خلقی” اس پر مستزاد بھی!
عام طور پر تمام مذکورہ بالا معیار پر پورا اترنے والے لکھاری ڈاکٹر سلام کو جھنگ سے کیمبرج اور وہاں سے واپس جھنگ مگھیانہ کی گومگو میں رکھ کر خود کو صاف بچا لے جاتے ہیں۔ مگر میرے علم میں خوب مستحضر ہے کہ پاکستان کا ان کا کوئی سفر ربوہ کے قیام اور زیارت مرکز جماعت کے بغیر مکمل نہیں ہوا اور نہ ہی وہ اس پہ سمجھوتہ کرتے تھے۔ حتی کہ بد ترین میزبان ضیاالحق کی دعوت پہ بھی پاکستان آئے تو ربوہ کا دورہ اس میں شامل تھا۔
اسی لئے راقم کو جب موقع آیا تو ایسا ہی اظہار کر کے ذائقہ خراب کرنے کی تلخ یادوں کا تجربہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی وفات کے ذرا بعد کی بات ہےکہ کے لاہور میں ایک کانفرنس پرل کانٹینینٹل میں تھی۔ اسلام آباد سے پرویز ھود بھائی اور اٹلی سے ڈاکٹر فہیم حسین آئے ہوئے تھے۔ وفاقی وزیر سائینس سیدہ عابدہ حسین مہمان خصوصی اور صدارت تھی جسٹس جاوید اقبال صاحب مرحوم کی۔ کانفرنس کے آخر پر شرکاء کا ووٹ طلب کیا گیا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک بلاک کا نام ڈاکٹر سلام کے نام پہ رکھا جائے۔ خاکسار نے صدر مجلس سے اجازت لے کر عرض کی کہ نئے نام رکھنے کا تکلف اور تردد نہ کریں۔اور اگر اس تجویز میں سنجیدہ ہیں کہ ڈاکٹر سلام کو خراج تحسین پیش کرنا ہے تو جس شھر میں ڈاکٹر سلام نے ہمیشہ کے لئے مدفون ہونے کا فیصلہ کیا ہے اگر حقیقی جرات اور نیک نیتی ہے تو اس شہر کا نام ہی تبدیل نہ کریں جس کو پنجاب اسمبلی قرار داد پاس کر کے بدلنے پر تلی ہوئی ہے،حالانکہ اس کے باشندوں کی رائے تو نام بدلنے کے حق میں نہیں ہے۔ اس پہ ان احباب اور صحافیوں نے تو شرمندگی محسوس کی لیکن اہل اختیار نے مجسٹریٹ کے ذریعے مرحوم کی روح کو آرام پہنچانے کے لئے قبر کے کتبے پر آئین اور اسلام کا نفاذ کر دیا جو آج کل سوشل میڈیا پر حکومت پاکستان کے بیانئے کی مکروہ تصویر پیش کر رہا ہے۔
ع ۔۔۔معاملات دل و نظر میں عجیب تم ہو عجیب ہم ہیں۔
اس بے وقعتی کے احساس کے باوجود بولتے رہنا زندگی کی علامت بھی ہے اور ضرورت بھی!
دوسرا واقعہ ڈاکٹر صاحب کی بیماری کے آخری دنوں کا ہے۔ اور ان کے ایک بھائی اس کے راوی ہیں۔
اس سے جو بے ساختہ پاکستانیت جھلکتی ہے اس کا شعور اور درد تعصب کی دیمک والے قلوب و اذہان کو کیسے ہو سکتا ہے۔
لندن کے اس سینئیر نیورولوجسٹ ڈاکٹر نے اعصاب اور جسمانی معائنے کے بعد حاضر دماغی کا جائزہ لینے کے لئے پوچھا کہ۔” آج کل وزیر اعظم کون ہے؟”
سلام نے کہا ، نواز شریف۔
ڈاکٹر پریشان کہ واقعی دماغ پہ اثر ہے۔
تو ڈاکٹر صاحب کے بھائی نے وضاحت کی کہ دراصل ہمارے ملک پاکستان کے وزیر اعظم کا نام ہے جو جواب میں آپ کو بتا رہے ہیں۔
تیسرے واقعے میں ایک کی بجائے دو متنازعہ اکٹھے ہو گئے ہیں۔
لندن میں ڈاکٹر سلام اور سر ظفراللہ خان کی باقاعدگی سے ملاقات رہتی تھی۔ ایک ملاقات میں چوہدری صاحب بیمار تھے اور ڈاکٹر صاحب عیادت کے لئے گئے۔ دوران گفتگو ڈاکٹر سلام نے کہا کہ حال ہی میں میں نے شمائل ترمذی پڑھی ہے اور شدت سے خواہش ہے کہ اس کا ترجمہ انگریزی میں کروں تا کہ یہاں پروان چڑھنے والی نسلیں محروم نہ رہیں۔ اگلی دفعہ جب چوھدری صاحب سے ملنے گئے تو چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے ترجمہ شدہ مسودہ دے کر کہا کہ میں فارغ تھا اس لئے تمہاری خواہش پوری کر دی ہے کہ شائید تمہیں وقت نہ ملے۔ اب اس کو چھپوا دیں۔
میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو اس سے متاثر ہو کے اسی شام آبپارہ کے ایک بک سٹور سے شمائل ترمذی خریدی اور اس سے مستفیض ہوا۔
‘ہم سب’ کی فضاء ذرا سازگار سی لگتی ہے تو بقول اطہر نفیس؛

ہوائے کوئے جاناں ملتفت ہے
سو اپنے رنج کہنے آ گیا ہوں

کبھی کبھار اپنے بچوں اور ماحول میں بتاتے رہنا چاہئے کہ یہ کافر ہی نہیں سخت ظالم اور پرلے درجے کے جاہل بھی ہیں۔ اتنے کہ کبھی کبھی تو ان پہ ظلوما” جہولا کا گمان ہونے لگتا ہے۔
اس تناظر میں وہ پورا شعر عرض کروں کہ جس سے عنوان باندھا تھا؛

دامن بنےتورنگ ہوادسترس سے دور
موج ہوا ہوئے تو ہے خوشبو گریز پا۔