قصہ ایک دیوانے کا

تحریر: عبید الله خان

terror

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی بستی میں ایک شخص رہا کرتا تھا ۔ اسکا اپنا گھر تھا جس میں وہ اسکے بچے رہا کرتے تھے۔ آخر اسکا انتقال ہوا اور گھر کا بٹواراہوا۔ بڑا بھائی چالاک اور طاقتور تھا جبکہ چھوٹا کمزور تھا۔ گھر کی تقسیم ہوئے تو بڑے نے اپنی چالاکی سے چھوٹے کے کچھ حصے پر قبضہ کرلیا۔ لیکن وہ اسی مکان میں رہنے پر مجبور تھے۔ لہٰذا انکے حصوں میں دیوار کھینچ دی گئی۔ گاؤں کے بڑے بھی کوئی انصاف پسند نہ تھے لہٰذا انہوں نے بھی چھوٹے بھائی کی باتوں کی طرف توجہ نہ دی۔ آخر کار چھوٹے نے خود ہی بڑے بھائی سے بدلہ لینے کا سوچا کیونکہ گاؤں کی پنجائیت سے اسے انصاف کی توقع نہ تھی۔ لڑ وہ سکتا نہیں تھا اور گاؤں کے بڑے بوڑھے بھی انہیں لڑنے نہ دیتے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ کچھ ایسا منصوبہ ہو کہ بڑا بھائی خود ہی اسکے حصے کا قبضہ چھوڑ دے۔ لہٰذا اس نے ایک اچھوتا خیال سوچا۔ اس نے سوچا کہ اسکے حصے پر جو بڑے بھائی کا قبضہ ہے اس حصے میں کچھ خطرناک سانپ چھوڑ دیے جائیں۔ جب بھائی کو اور بچوں کو ان سے خطرہ ہوگا تو وہ خود ہی یہ جگہ چھوڑ دیں گے۔ یہ سوچ کر اس نے کچھ سانپ اپنے گھر میں پالنے شروع کیے تاکہ انکو اس حصے میں خاموشی سے داخل کیا جاسکے۔ اسکی بیوی جو کچھ سمجھدار تھی اس نے خوب شور مچایا کہ ایسا غضب مت ڈھاؤ ۔ سانپ کسی کا سگا نہیں ہوتا۔ یہ اسے بھی کاٹتا ہے جو اسے دودھ پلائے۔ اور ہمارےتو اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ہیں۔ کل کو اگر یہی سانپ انکو ڈسیں گے تو ہم کیا کرلیں گے؟ مگر چھوٹے بھائی کی سمجھ میں یہ باتیں کہاں آنی تھیں ۔ اس پر تو اپنے حصے کی زمین واپس لینے کا بھوت سوار تھا۔ لہٰذا وہ نہ رکا۔ اور سانپ اس نے اپنے بھائی کے گھر پھینکنے شروع کردیے۔ سانپوں کو چھوٹا بھائی دودھ پلا کر ادھر بھیج دیتا۔ پہلے پہل تو بڑا بھائی بہت سٹپٹایا کیونکہ اسکے بچوں کو سانپوں نے نقصان پہنچایا۔ مگر وہ بھی اپنا قبضہ چھوڑنے پر تیار نہ تھا۔ آخر کو اسکا قبضہ تھا اور قبضہ کون آرام سے چھوڑتا ہے۔ اس نے بھی ایک ترکیب سوچ لی۔ اس نے بھی ان سانپوں کو دودھ پلانا شروع کردیا۔ اب وہ سانپ چھوٹے بھائی کے بچوں کو بھی کاٹنے لگے۔ بیوی پھر شور مچاتی رہی کہ خدا کا واسطہ ہے اب ہی کچھ سمجھ جاؤ اور اس خطرناک کھیل سے توبہ کرلو۔ مگر چھوٹا بھائی اب بھی نہ سمجھا۔ الٹا اس نے اپنے بیوی بچوں کو کہہ دیا کہ ان سانپوں سے خود کو بچا کررکھنا انکی اپنی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا گھر میں سب لوگ اپنی حفاظت خود کریں۔ اگر کسی نے اپنی حفاظت میں کوئی کمی کی تو اسکو مزید سزا ملے گی۔ بیوی بولی اگر حفاظت ہی کرنا ہے تو اسکی ذمہ داری بھی تم ہی اٹھاؤ۔ آخر سب کیا دھرا تمہارا ہی ہے۔ اس پر چھوٹا بھائی بولا کہ میں تم سب کی حفاظت ان سانپوں سے اب نہیں کرسکتا البتہ اگر تم لوگوں نے خود حفاظت نہ کی تو سزا ضرور دے سکتا ہوں۔ اب ہوا یہ کہ سانپوں نے بھی اسی گھر میں پناہ لے رکھی ہے اور چھوٹے بھائی کے معصوم بچے بھی اسی جگہ رہتے ہیں۔ بڑے بھائی کا قبضہ بھی جوں کا توں قائم ہے۔ اور اس پر مستزاد کہ چھوٹا بھائی اپنا جائز حصہ مانگنے کا اخلاقی جواز بھی کھو بیٹھا ہے۔ سانپوں کو کونسا اپنے پرائے کی پہچان ہوتی ہے۔ وہ صرف بھائی کے گھر تک محدود رہنے کی بجائے ارد گرد کے گھروں میں بھی جانے لگے ہیں۔ اور سب لوگ اسے خطرناک سمجھ کر اسکے پاس آنے سے کترانے لگے ہیں۔ الٹا باقی بستی میں بھی لوگ چھوٹے بھائی کو ہی برا بھلا کہنے لگے ہیں۔ ادھر اسکے اپنے بچے ہی ان سانپوں کے کاٹنے سے مرنے لگے ہیں۔ اور جو بچے ہیں ان کو اپنا سب کچھ اپنی حفاظت پر لگانا پڑ رہا ہے۔ اور چھوٹا بھائی ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے اپنے بچوں اور بیوی پر ہی رعب جماتا ہے اور اپنی من مانیاں کرواتا ہے۔
نوٹ : یہ کہانی محض فرضی ہے۔ کسی بھی قسم کی مشابہت محض اتفاقی ہوگی۔ اگر یہ کہانی سن کر آپ کا دھیان سکولوں کی سیکوریٹی نہ ہونے پر سکول بند کروانے اور سزا دینے جیسے مضحکہ خیز معاملات کی طرف جائے تو یہ سراسر آپ کا قصور ہے اور کسی دماغی خلل کا نتیجہ ہے۔ راقم الحروف نے اس کہانی میں ایسا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔