لندن پلان پارٹ ٹو بھی ناکام فلم ثابت ہو گی‎

نوٹ: تمام خیالات مصنف  کے اپنے ہیں اور پاک ٹی ہاؤس بلاگ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تحریر: عماد ظفر

PIA

سیاست بھی نرالا کھیل ہے جس میں دکھایا کچھ جاتا ہے اور پس پردہ کچھ اور ہوتا ہے۔ اس کھیل میں نہ تو مستقل دوست ہوتے ہیں اور نہ مستقل دشمن اگر مستقل کوئی شے ہوتی ہے تو وہ مفادات کا تحفظ اور اقتدار کے تخت پرقبضہ کرنے کی خواہش۔وطن عزیز کی سیاست کا کھل بھی اس اصول سے مبرا نہیں۔

سال 2014 کے لندن پلان کی بدولت ملک میں طویل ترین دھرنوں اور منظم میڈیا مہم کے باوجود نواز شریف کا تخت نہ الٹا جا سکا۔ مشہور زمانہ لندن پلان کے پہلے حصے کی ناکامی کے بعد اب دوسرا حصہ شروع ہونے کو ہے،جس کی جھلک پی آئی کے ملازمین کا احتجاج اور اورنج ٹرین کے خلاف مظاہروں سے صاف دکھائی دیتی ہے۔دسمبر کے آخری ہفتے میں کچھ اہم سرکاری شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں تو انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ مارچ کے مہینے میں جمہوری حکومت کو چلتا کیا جانے کی بھرپور کوشش کی جائےگی۔اس حوالے سے راقم کا ایک کالم جنوری کے اوائل میں شائع ہوا تھا کہ مارچ یا اپریل کے مہینے میں پھر ایک دھرنے اور لانگ مارچ کی کوشش کی جائے گی۔ اس سازش کو مد نظر رکھتے ہوئے پی آئی کے ملازمین کے نجکاری کے خلاف مظاہرے میِں گرنے والی لاشیِں کس کی سیاسی زندگی کا باعث بنتی نظر آتی ہیں منظر نامے پر واضح دکھائی دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ ان ملازمین پر تشدد کراچی میں ہوا۔ یہ ملازمین بھی زیادہ تر   پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں بھرتی  کیئے گئے تھے اور یہ الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ  ان کی بھرتی کے وقت   میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے محض سیاسی وابستگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ تر جیالوں یا اپنے اقربا کو پارٹی نے نوازا تھا۔

rangers2

ویسے تو ہم سب کرپشن کے خلاف نعرے مارنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ ہمہ وقت سرکاری اداروں کی زبوں حالی کا رونا نظر آتے ہیں لیکن عملاََ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر سرکاری نوکری حاصل کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور سرکاری خزانے سے تنخواہیں بٹورتے رہیں۔اس “مفت خوری” کی عادت کا پھر سیاست کے میدان میں استعمال کیا جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔لوگوں کو بڑی بڑی کرپشن کے فرضی قصے سنا کر نجکاری کے ذریعے اربوں روپے کے کمیشن کی الف لیلوی داستانیں سنا کر مشتعل کرنا اور سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کرنا انتہائی آسان ہے۔ویسے بھی ہم بطور معاشرہ جزباتی ثابت ہوئے ہیں۔دلیل اور منطق کے بجائے جزباتی نعروں پر مرنے مارنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ہم تھوڑے رومانوی بھی ہیں اور انقلاب کی آڑ میں اسے مسیحا کی تلاش کرتے رہتے ہیں جو اقتدار میں آتے ہی گھر بیٹھے ہماری خواہشات کے کشکول کو پلک جھپکتے ہی بھر دے۔

بلوچستان جراحی نہیں مسیحائی مانگتا ہے

تعلیمی درسگاہوں میں تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی- بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

“ایگزیکٹلی” بول نہیں بولے گا

 

خیر بات لندن پلان کے دوسرے حصے کی ہو رہی تھی اس پلان کے سب کردار پھر سے متحرک ہیں اور تبدیلی کے “داعی” عمران خان صاحب فروری میں ہی ملک گیر احتجاج کا اعلان کر چکے ہیں۔چوہدری برادران بھی اورنج ٹرین کے معاملے کو لے کر بھرپور طریقے سے جلتی پر تیل چھڑکتے نظر آتے ہیں۔حوالدار ٹی وی اینکرز بھرپور طریقے سے اورنج ٹرین کے خلاف کبھی ثقافتی و قدیمی ورثوں کے متاثر ہونے اور کبھی کچی آبادیوں کے رہنے والوں کے گھر ممکنہ طور پر روندے جانے کی دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ایسے ایسے افراد جو لکشمی، چوبرجی یا نیلا گنبد کو گوگل کے نقشوں پر بھی بمشکل ڈھونڈ پاتے ہیں وہ بھی پرانے لاہور کے تاریخی مقامات کے نقصان ہونے کا شور مچا رہے ہوتے ہیں۔پہلے ہال روڈ کے تاجران کو بھی مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں ناکامی ہوئی۔ اب کچی آبادی کے بسنے والوں اور تاریخی مقامات کو بچانے کا عذر بنا کر پھر سے جناب عمران خان اور ہمنوا اپنی فراغت سے نجات حاصل کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ مشغلے یعنی دھرنوں ہڑتالوں اور شہر بند کروانے کی جانب لوٹ رہے ہیں۔

Sindh province has become the haven for terror groups

پچھلی مرتبہ دھرنوں اور مختلف شہروں میں احتجاج کے باوجود “تبدیلی کا چورن” نہ بکنے کی ایک بڑی وجہ مظاہروں اور زبردستی کی ہڑتالوں کے دوران وافر مقدار میں “لاشیں” نہ مل پانا تھی۔چنانچہ اس دفعہ تبدیلی کی ٹرین میں پیپلز پارٹی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے آخر ان سے زیادہ کون اس قسم کی سیاست کا ماہر ہو سکتا ہے۔ تبدیلی کے خود ساختہ چیمپین عمران خان کو دیکھ کر کبھی کبھی بانو قدسیہ کے مشہور ناول “راجہ گدھ” کی یاد آ جاتی ہے۔گدھ کو بھی اپنی بھوک مٹانے کیلئے لاش چاہیے ہوتی ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار قیوم عادات اور مقاصد کی تکمیل کے میں ہو بہو جناب عمران خان سے مشابہت رکھتا ہے۔ خیرچونکہ ہم لوگ خود استعمال ہونے کا شوق رکھتے ہیں اس لیئے عمران خان یا پیپلز پارٹی نہ ہوتے تو بھی کوئی اور ہمیں اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہوتا۔

احتجاجی سیاست کو ہتھیار بنا کر حکومت کو چلتا کر دینے کا خواب دیکھنے والے نہ جانے اس حقیقت کو کیوں نہیں دیکھ پاتے کہ جتھوں اور گروہوں کو سڑکوں پر لا کر حکومتیں پلٹنے کے طریقے اور ادوار اب پرانے ہو چکے ہیں۔نواز شریف اب 90 کی دھائی والے جزباتی اور ناپختہ سیاستدان نہیں ہیں۔اگر انہوں نے دھرنوں کے دنوں میں ریاستی اداروں کو یرغمال بنائے جانے کے باوجود سیاسی بساط پر مات نہیں کھائی تو اب بھی نہیں کھائیں گے۔اس وقت سیاسی طور پر نواز شریف نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ اندرونی و بیرونی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی ایک پیج پر ہیں۔

coas

اس نئی سیاسی صف بندی سے پیپلز پارٹی تو زرداری صاحب اور چند رفقا کی قانون کی گرفت سے باہر رہنے کی گارنٹی کے بعد نکل جائے گی۔ لیکن جناب عمران خان پھر اپنی ناتمام حسرتوں پر آنسو بہاتے رہ جائیں گے۔ اقتدار کی اس جنگ میں پنجاب کو انتخابات میں جیت کر ہی وزیر اعظم ہاوس تک پہنچاجا سکتا ہے ۔اور عمران خان ابھی تک اس سادہ سے نقطے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔پنجاب احتجاج کی سیاست کے عمران خان کے رخ کو پسند نہیں کرتا اور اس ناپسندیدگی کا اظہار 2013 کے عام انتخابات سے لے کر ضمنی و بلدیاتی انتخابات میں پنجاب کے رہنے والوں نے احتجاجی سیاست کرنے والوں کو بیلٹ بکس کے ذریعے مسترد کر کے بار ہا دیا ہے۔

لندن پلان کے ایک اور مہرے طاہرالقادری کم سے کم عمران خان سے ابھی تک زیادہ عقلمند ثابت ہوئے ہیں۔ دھرنوں کے دنوں میں مسلم لیگ نون سے مبینہ طور پر “چیک” حاصل کرنے کے بعد موصوف انتہائی مطمئن نظر آتے ہیں اور اس حالیہ پارٹ ٹو میں ان کی عدم موجودگی عمران خان کے سیاسی سرکس کو مزید پھیکا بنا دے گی۔ ترقیاتی منصوبوں اور اداروں کی نجکاری کی مخالفت کی آڑ میں لندن پلان والے ٹولے کو دوبارہ متحرک کرنے والے “فرشتے” مشرف کی رہائی اور زرداری صاحب کی سیاسی بقا کی گارنٹی لینے تک نواز شریف کی جان نہیں چھوڑیں گے۔ مشرف اس کھیل کا مرکزی کردار ہے جب کہ تبدیلی اور انقلابی چورن فروش صرف معاون اداکار ہیں۔وزارت عظمی کی کرسی کی لالچ میں ہر معاون اداکار اور مہمان اداکار اپنے آپ کو مرکزی کردار تصور کرتے ہوئے اپنا سیاسی نقصان کرتا ہی چلا جا رہا ہے۔

اعتراض ان منفی ہتھکنڈوں پر نہیں ہے بلکہ اعتراض اس احتجاج پر ہے جو سیاسی رنگ جمانے کیلئے غریب اور مظلوم سیاسی کارکن کے خون کا محتاج ہوتا ہے۔ اعتراض “انقلاب” اور تبدیلی” جیسے نظریات اور خیالات کی مٹی پلید کرنے پر ہے۔ دنیا میں آج تک مزدوروں کسانوں اور محنت کشوں کے اٹھ کھڑے بنا انقلاب نہ آیا ہے اورنہ ہی آ سکتا ہے۔ البتہ ٹویٹر اور فیس بک پر یا میڈیا کے ایک حصے میں “ورچول انقلاب اور تبدیلی” کب کی آ چکی ہے۔ بس ستم ظریفی یہ ہے کہ اس سوشل اور الیکٹرنک میڈیا کے پیدا کردہ تصوراتی انقلاب و تبدیلی کی حقیت کی سیاسی بساط میں اب رتی برابر بھی اہمیت نہیں ہے۔ پی آئی اے کے ملازمین کو مشاہد الہ صاحب آج نہیں تو کل منا ہی لیں گے لیکن اس دوران ان ملازمین کو مشتعل کر کے ہڑتالوں کی ترغیب دینے والے کیا ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کریں گے۔جو لوگ اس سیاسی لڑائی کا ایندھن بنا کر مروا دیئے گئے کیا سیاسی بازی گر ان کی جان کے نقصان کی تلافی کرنے پائیں گے۔اورنج ٹرین بھی چلے گی اور پنجاب حکومت متاثرہ افراد جن کے گھر اس کے روٹ کی زد میں آ رہے ہیں ان کے تحفظات بھی دور کر دے گی۔ لیکن کیا شہروں کو بند کرنے کا ارادہ رکھنے والے ہڑتالوں کے باعث ایک بھی دن کے نقصان کا ازالہ کر پائیں گے؟ لندن پلان کے پارٹ ٹو کا ٹریلر کراچی میِں پی آئی کے ملازمین کے احتجاج کے دوران نظر آ چکا۔اور ٹریلر دیکھ کر اندازہ لگانا ہرچند مشکل نہیں کہ یہ فلم بھی پارٹ ون کی طرح پردہ سکرین پر ناکام ثابت ہو گی ۔