انتظار حسین ایک عہد ساز شخصیت‎

تحریر: عماد ظفر

Intizar hussain

ادب سے تعلق رکھنے والا قبیلہ خوشبو کی مانند ہوتا ہے جو اپنی تحاریر اپنے اسلوب اپنے الفاظ سے چار سو علم و تخلیق کی کرنیں اور خوشبو بکھیرتا ہے۔ایک ایسا ہی نام بلکہ اردو ادب کا ایک عہد انتظار حسین ہم سے بچھڑ گیا۔ دہائیوں پر محیط افسانے ناول مختصر کہانیایوں اور کالم نگاری سے اردو ادب کے گلشن کو مہکانے والے انتظار حسین کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کو خراج تحسین الفاظ میں پہنچانا ناممکن ہے۔ کیونکہ اتنی بڑی شخصیت کی تعریف کیلئے یا ان کی خدمات کو سراہنے کے لیئے غالبا کسی بھی لغت میں ایسے الفاظ ایجاد نہیں ہوئے جو ان جیسی تاریخ ساز شخصیت کو داد دینے کے لائق ہوں۔

فیض احمد فیض کی شاعری کی کتابوں کی اشاعت کے مختلف دلچسپ مرحلے

محسن نقوی کی برسی اور ادبی دنیا کی بے حسی

ریڈیو پاکستان اورممتاز میلسی

منٹو کو فرق نہیں پڑتا

انتظار حسین7 دسمبر 1923 کو ہندوستان میں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ انتظار حسین ناول نگار، افسانہ نگار , تنقید نگار اور اعلی پائے کے کالم نویس تھے۔ حکومت فرانس سے ستمبر 2014 میں آفیسر آف دی۔آرٹس اینڈ لیٹرز کے اعزاز کو بھی حاصل کیا۔ دسمبر 1922 میں پیدا ہونے والے انتظار حسین نے اردو ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد لاہور میں آن بسے۔ اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز فیض احمد فیض کے زیر ادارت اخبار پاکستان ٹائمز سے کیا اور بعد میں روزنامہ امروز کو جائن کر لیا۔روزنامہ امروز کو جائن کرنے کے بعد انتظار حسین نے پاکستان میں اردو روزناموں کی جدت اور روایتی قصیدہ خوانی کے انداز کو ختم کرتے ہوئے اردو صحافت کو ایک نئی جلا بخشی۔مختلف اخبارات کی ادارت کے بعد قریب تین دہائیوں تک روزنامہ مشرق سے طویل وابستگی رہی۔ بستی،ہندوستان سے آخری خط،آگے سمندر ہے، شہر افسوس،جنم کہانیاں، وہ جو کھو گئے ، جیسی تصانیف انتظار حسین کے شاہکار تصانیف میں شامل ہیں۔

سن 1953 میں پہلا افسانوی مجموعہ گلی کوچے شائع ہوا۔ انتظار حسین کے افسانے ان کا اسلوب دیگر افسانہ نگاروں کی مانند روایتی نہیں تھا ۔ان کی تحریروں میں استعارات کے استعمال کی مہارت، بیان کی چاشنی اور زندگی کی حقیقتوں کو کھل کر بیان کرنا اور بے ساختہ پن قارئین کو ان کی تحریروں کے سحر میں گرفتار کر دیتا تھا۔اچھوتے اور مختلف موضوعات پر کالم نگاری بھی ان کا طرہ امتیاز تھا۔ انتظار حسین کا کالم ” لاہور نامہ “آج بھی کالم لکھنے والوں کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اردو زبان کے علاوہ انتظار حسین نے انگریزی زبان میں بھی کالم لکھے۔ شاید ہی اردو ادب اور صحافت میں انتظار حسین جیسی شخصیت کا خلا پر کیا جا سکے۔

انتظار حسین وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 2013ء میں بین الاقوامی بکرز پرائز ایوارڈ کے لیے نامزدگی کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ انتظار حسین وہ واحد اردو لکھاری بھی ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ اُنکا نام اُن دس لوگوں میں شامل تھا جنہیں اس مشہور عالمی ادبی انعام مین بکر پرائز کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔ انہیں مشہور فرانسیسی ایوارڈ Ordre des Arts et des Lettres , بھارت “یاترا ایوارڈ” ، سے بھی نوازا گیا۔ اپنے وطن پاکستان میں بھی تمام تر اعلیٰ پاکستانی اعزازات جن میں پرائڈ آف پرفارمینس اور کمال فن ایوارڈ شامل ہیں بھی ان کی خدمات کے عوض انہیں دئیے جا چکے ہیں۔

انتظارحسین نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ابتدائی تعلیم کا آغاز ان کے والد کے کٹر مذہبی رجحان اور زمانے کے تقاضوں کے درمیان کشمکش کا ایک سبب بن گیا۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ روایتی مذہبی تعلیم حاصل کریں اور اسکول جانے کے سخت خلاف تھے۔ ان کی بڑی بہن نے اصرار کرکے ان کو اسکول میں داخل کروایا اور باقاعدہ تعلیم کے سلسلے کا آغاز کروایا۔انتظار حسین نے 1942 میں آرٹس کے مضامین کے ساتھ انٹرمیڈیٹ اور 1944 میں بی اے کی سند حاصل کی۔۔انتظار حسین نے اپنی ادبی زندگی کی ابتداء شاعری سے کی ۔ ن م راشد کی ’’ماورا‘‘ سے گہرا اثر قبول کیا اور اس انداز میں آزاد نظمیں لکھنے کا آغاز کیا۔ لیکن جلد ہی وہ شاعری سے افسانہ نگاری کی طرف آگئے۔ ان کا تحریری سفر ان مجموعات پر مشتمل ہے۔

پہلی گم شدہ کتاب (ناول) آگے سمندر ہے،بستی ،چاند گہن، دن ۔ (ناولٹ)افسانوں میں آخری آدمی خالی پنجرہ خیمے سے دور،شہر افسوس،کچھوے،کنکرے،گلی کوچے شامل ہیں۔ چراغوں کا دھواں ،دلی تھا جس کا نام کے عنوان سے دو آپ بیتیاں بھی تحریر کیں۔اس کے علاوہ جل گرجے (داستان)نظرئیے سے آگے (تنقید) بھی ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔ افسانہ نگاری میں انتظار حسین نے تجریدی رنگ کے بجائے علاماتی رجحان کو اپنایا۔ علامتی افسانہ نگاری میں شاید ہی کوئی انتظار حسین کی طرح لکھ پائے گا۔ مثال کے طور پر اپنی کہانی “بندر میں جس خوبصورتی کے ساتھ انہوں نے ترقی اور انسان کی بنیادی جبلت کو بیان کیا ہے وہ کمال ہے۔ انتظار حسین کی اس کہانی “بندر” میں ایک بندر پہلی بار انسانی بستی میں جا کر ترقی دیکھ کے حیران ہوجاتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہماری ترقی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہماری دم ہے۔ انسان نے اپنی دم کاٹ کے کیسی ترقی کر لی۔ چنانچہ اس بندر کی بات سن کر پورا غول اپنی دم کاٹنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر ایک بوڑھا بندر کہتا ہے کہ جس استرے سے تم اپنی دمیں کاٹو گے کل اسی استرے سے ایک دوسرے کے گلے بھی۔

اسی طرح ناولٹ بستی میں انتظار حسین نے جدید دور کی جنگوں اور ان سے تباہ ہونے والی بستیوں اور انسانی جزبات کو کچھ اس طرح بیان کیا” بستی برباد ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وہ دکھ بھی فراموش ہوجاتے ہیں جو وہاں رہتے ہوئے لوگوں نے بھرے ہوتے ہیں۔ اس جنگ زدہ عہد کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے دکھ، ہماری یادیں نہیں بن پاتے۔ جو عمارتیں، جو مقام ان دکھوں کے امین ہوتے ہیں انہیں کوئی ایک بم کا گولہ دم کے دم نیست و نابود کر دیتا ہے”۔ عبدالله حسین کی مانند انتظار حسین کی تحریروں میں بھی تقسیم ہند اور ہجرت سے پیدا ہونے والے خلا کی جھلک محسوس ہوتی تھی۔لیکن اردو ادب کے دیگر لکھاریوں کی طرح ان کی تحریروں میں نہ تو اجتماعی نرگسیت پسندی کا عنصر موجود تھا اور نہ ہی زندگی کی حقیقتوں سے منہ موڑ کر کسی بھی قسم کے خود ساختہ لحاف کو اوڑھنے کا درس۔

انتظار حسین نے خود کو اور اپنی تحریروں کو دیگر اردو لکھاریوں کی مانند وقت یا عمر کے ایک خاص حصے میں منجمند نہیں ہونے دیا۔ اور یہ کمال اردو ادب میں شاید ہی کسی اور شخصیت نے کر کے دکھایا ہو۔ انتظار حسین برصغیر پاک وہند کی مصنوعی پیدا کردہ نفرتوں کو قبول نہیں کرتے تھے اور دونوں ممالک میں بسنے والے باشندوں کو پرانی محبت میں سانس لیتے دیکھنا چاہتے تھے۔ ادب اور صحافت میں آزادی رائے اور اختلاف کے حق کو بھی انہوں نے ہمیشہ اہمیت دی۔تحریروں کے ذریعے عدم برداشت پھیلانے والے ادیب تو ہمارے ہاں بے بہا ہیں لیکن انتظار حسین جیسے وضع دار اور تحریرات کے ذریعے برداشت کا پرچار کرنے والے بہت کم۔ ان کے جانے سے اردو ادب کے نقصان کے ساتھ ساتھ ایک محبت کے سفیر اور معاشرے میں برداشت کے کلچر کے علم کو تھامے انسان کی بھی کمی واقع ہو گئی۔ انتظار حسین کو پچھلے ماہ نمونیا کی بیماری کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ ہم سب کو اپنے صحتیاب ہونے کی خبر کے انتظار میں چھوڑ کر 2 فروری کے دن خالق حقیقی سے جا ملے ۔ یوں ان کے انتقال سے اردو ادب اور پاکستان کی کتاب سخن کا ایک باب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔