قومی ایئر لائن نجکاری “ہنگامہ ہے کیوں برپا”‎

تحریر: عماد ظفر

PIA
گھر میں بسنے والے اپنے گھر کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام ٹھیکے پر دیتے ہیں۔ گھر بڑا ہے اور بلند منزلہ ہے اس لیئے اس میں بسنے والے ٹھیکے پر اپنی مرضی سے ٹھیکیداروں کا چناؤ کر کے گھر ان کے حوالے کرتے ہیں تا کہ گھر میں تعمیر شدہ ڈھانچے کی حفاظت بھی ہو سکے اور گھر کا خرچہ بھی چلتا رہے۔ گھر میں بالائی منزلوں تک رسائی کے لیئے ایک خود کار لفٹ بھی موجود ہے۔ لفٹ کو استعمال کرنے کی سہولت کے گھر والے پیسے بھی دیتے ہیں۔ اس کو دن رات چلانے کیلئے تین افراد کی ضرورت ہے جو آٹھ آٹھ گھنٹوں کی ڈیوٹی دے کر اس کو رواں رکھ سکتے ہیں۔ اس لفٹ کی مرمت اور دیکھ بحال کیلئے چار افراد بھی کافی ہیں۔ پچھلے ٹھیکیداروں نے اس لفٹ کو چلانے پر معمور عملے میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ تین کے بجائے تیس افراد لفٹ چلانے کیلیے اور چار کے بجائے چالیس افراد اس کی دیکھ بھال کیلئے معمور کر دیئے۔ نتیجتاََ گھر کی دیکھ بھال کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا اور غیر ضروری اخراجات بڑھنے لگے۔ خیر مکینوں نے ٹھیکیدار بدلا اور گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نئے ٹھیکیدار کو دے دی۔

نئے ٹھیکیدار نے کچھ عرصے گھر کے معاملات دیکھے تو اسے احساس ہوا کہ لفٹ پر تعینات عملے کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس غیر ضروری خرچ کو کم کرنے کیلئے اس نے لفٹ پر معمور عملے کو کم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن عملے کے ارکان نے مل کر شور مچا دیا اور پورے گھر میں کہرام برپا کر دیا۔ یہ دیکھ کر ٹھیکیدار وقتی طور پر چپ کر گیا اور پھر اس نے لفٹ کی دیکھ بھال کیلئے اس کو چلانے کی ذمہ داری گھر کے باہر کسی ماہر کمپنی کو دینے کی سوچی۔ کمپنی آئی انہوں نے تخمینہ لگایا کہ لفٹ کو رواں رکھنے کیلئے کل ملا کر سات افراد درکار ہیں چنانچہ انہوں نے بہترین سات افراد کا انتخاب کیا اور باقی ملازمین کو فارغ کر دیا۔ وہ سات افراد جو باقی کے 63 ملازمین کی نسبت بہترین صلاحیتوں کے مالک تھے اور اپنے فرائض کی انجام تن دہی سے امکان دیتے تھے ان کو کام پر رکھا گیا جبکہ باقی کے ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہترین افراد ایک کام کیلیۓ چنے گئے جبکہ جو افراد مناسب نہیں تھے یا ان کی خدمات کی ضرورت نہیں تھی ان سے معذرت کر لی گئی۔

غالبا اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم سب اپنے اپنے کاروبار گھر کے معاملات یا مینیجمنٹ کی ملازمت کے پیشہ وارانہ امور سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن جب اسی اصول کو قومی ائیر لائن پر لاگو کیا گیا تو اس کے بعد قومی ائیر لائن کی نجکاری کو لے کر جس طرح سے ہنگامہ بپا کیا جا رہا ہے اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ایک ایسا ادارہ جو ہر سال کروڑوں روپے کے نقصان میں چلتا ہے اور جس کے ملازمین کی تعداد بے حد اضافی ہے سرکاری خزانے پر ایک بوجھ ہے۔اس سفید ہاتھی کو پالنے کی جو قیمت سرکاری خزانے سے ادا کی جاتی ہے وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک پاکستان میں نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کو حکومتیں سرکاری خزانے سے پالتی رہیں؟ نجکاری کرنا کوئی جرم تو ہے نہیں۔ ویسے بھی نجکاری کے عمل کے بعد پرائیویٹ سیکٹر کی اداروں میں دلچسپی اور ان کے امور کو چلانا ،نہ صرف مالی معاملات بہتر کرتا ہے بلکہ نقصان میں چلنے والے اداروں کو منافع کی جانب لے جاتا ہے۔

پی آئی اے ہر سال کروڑوں روپے کا نقصان اٹھاتی ہے جو کہ سرکار کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اور اس نقصان کی ایک بڑی وجہ معیاری افرادی قوت نہ ہونا اور ضرورت سے زیادہ ملامین بھی ہیں۔ یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے بھی قرضوں کی فراہمی کے وقت یہ عوامل دیکھتے ہیں اور پی آئی اے جیسے سفید ہاتھیوں کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو عالمی مالیاتی اداروں کی قرضوں کی اقساط کی فراہمی کے بغیر معاشی طور پر اپنی بقا کا تصور بھی نہیں کر سکتا وہاں سرکاری اداروں کو نقصان پر نہیں چلایا جا سکتا۔

اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات حکومت کا کام ہوتا ہے اور اگر حکومت کو لگتا ہے کہ کسی ادارے کے کچھ حصے کو پرائیویٹ سیکڑر کے حوالے کر کے بہتری لائی جا سکتی ہے تو یقینا اس اقدام میں کوئی مضائقہ نہیں۔البتہ جس بھونڈے انداز میں موجودہ حکومت نے پی آئی کے ملازمین کے احتجاج سے نپٹنے کی کوشش کی ہے وہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلم لیگ نون کو ابھی بھی کرائسز مینیجمنٹ اور تنازعوں کے حل کی مینیجمنٹ بالکل نہیں آتی۔ اس احتجاج کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جا سکتا تھا۔ ملازمین سے مزاکرات بہت عرصہ قبل اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے چاہیئے تھے۔ وزیر اعظم پاکستان کو اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے کم سے کم ایک ملاقات ائیر لائن کے ملازمین کے نمائندوں سے کر لیتے تو اتنے دن فضائی آپریشن ہڑتالوں کے باعث ملتوی نہ ہوتے اور ہم جگ ہنسائی کی زد میں نہ آتے۔

اس بات سے قطع نظر کہ حکمران جماعت اس معاملے کو انتظامی طور پر بہتر طریقے سے حل نہ کر سکی، اس نجکاری کو لے کر نقادوں اور سیاسی جماعتوں نے جو ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے وہ فہم سے بالاتر ہے۔ سیاسی جماعتوں کا تو سیاسی مفاد ہوتا ہے اور ایسے معاملات میں شور مچانا ان کی سیاسی مجبوری بھی ہوتی ہے۔ لیکن بہت سے تجزیہ نگار صحافی اور اہل قلم اس معاملے کو لے کر جذباتیت کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے ایسی ایسی دہائیاں دیتے دکھلائی دیتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ایسے ایسے طنزو تنقید کے نشتر برساتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے وہ صحافی یا اہل دانش کم اور “جگت باز” یا “ماسی مصیبتے” زیادہ ہیں۔ نجکاری کے عمل کو پی آئی کے ملازمین کے بیروزگار ہونے کے جواز سے جوڑ کر وقت سے پہلے دہائی مچائی جا رہی ہے۔ ملازمین کے گھروں کے چولہے بجھ جانے اور بیروزگار ہونے کے بھرپور فلمی مناظر پیش کیئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ عام فہم بات ہے کہ جو ملازم بھی ایک پروفیشنل ہے اپنے کام کو جانتا ہے محنت اور لگن سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے اسے کوئی بھی کمپنی یا فرد نجکاری کے عمل کے بعد ملازمت سے کیونکر باہر نکالے گا۔ با صلاحیت افراد کمپنیوں کی مجبوری ہوتے ہیں۔ البتہ ایسے افراد جنہیں کام نہ کرنے کے باوجود تنخواہیں لینے کا “چسکا ” لگ چکا ہے ان کیلئے نجکاری کا عمل یقیناََ باعث تشویش ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ایسے ملازمین جن کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے اور جہاں کام ایک آدمی کی صلاحیت سے ہو سکتا ہے وہاں دس دس افراد بھرتی ہیں ان کو بھی یہ “مزے” ختم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سرکاری اداروں کو سرکار منافع کمانے کیلئے چلاتی ہے نا کہ خیراتی اداروں کی طرز پر محض ” چیریٹی ” کیلئے۔ بہت سے ایسے خوش فہم حضرات جو حکومت کو قومی ائیر لائن کے بحران کی وجہ سے گھر جاتا دیکھ رہے ہیں اور متحدہ اپوزیشن کے قیام کے سہانے خواب عوام کو دکھاتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ یہ حکومت سوچ و سمجھ کی صلاحیت سے عاری ہےایسے ناقدین کی بصارت یقینا بغض حکومت میں کچھ بھی دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔

یہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کا معاملہ اداروں کی سٹرکچرل ریفارم کی جانب ایک قدم ہے اور یقینا سٹرکچرل ریفارمز آسان نہیں ہوتیں۔ ان کو لاگو کرنے کیلئے سییاسی طور پر کڑوے اور بعض اوقات سیاسی گھاٹے کے فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ایسے فیصلوں کی ٹائمنگ ہمیشہ مد مظر رکھنی پڑتی ہے۔ اس وقت سیاسی منظر نامے پر پیپلز پارٹی اور متحدہ اپنے اپنے رہنماوں کو قانون کی گرفت سے دور رکھنے کی جنگ میں مصروف ہیں۔جناب عمران خان تنظیمی ڈھانچے کو درست کرنے اور بار ہا انتخابی شکستوں کے اسباب کا جائزہ لینے میں مگن ہیں۔ ایسے حالات میں اس کڑوے فیصلے کے وقت کا حکومت نے بالکل ٹھیک چناو کیا ہے۔ قومی ائیر لائن میں نجی سرمایہ کاری کے شفاف ہونے پر کسی کو بھی اگر اعتراض ہے اور ٹھوس شواہد موجود ہیں تو عدالت عظمی کا دروازہ کھلا ہے۔ البتہ ہرزہ سرائی اور پراپیگینڈے کا علاج کسی کے پاس نہیں۔اس احتجاج سے پہلے “بضض ” کا شکار حضرات قومی ائیر لائن کی زبوں حالی کرپشن خدمات کے گرتے معیار اور ادارے میں ضرورت سے زیادہ بھرتیوں کی دہائی دیتے نہیں تھکتے تھے۔ لیکن چونکہ مقصد محض تنقید برائے تنقید ہے اس لیئے اب ملازمین کی ممکنہ برطرفیوں کی دہائیاں دی جا رہی ہیں۔کیا ہی اچھا ہو کہ جو اصول ہم خود اپنے کاروبار اپنے پروفیشنل کیریئر میں فائدے اور ترقی کیلئے وضع کرتے ہیں ٹھیک وہی اصول وطن اور وطن کے اداروں دوارے بھی سامنے رکھیں۔