حسن میزبانی- جرمنی میں مہاجرین کے لیے ورکشاپ

تحریر: طاہر احمد بھٹی۔فرینکفرٹ۔ جرمنی

Red Cross
گزشتہ دنوں جرمن ریڈ کراس فریڈبرگ کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں جرمن مقامی رضاکاروں نے جرمنی میں مقیم مہاجرین کی بہتری کے اقدامات پر غورو خوض کیا اور چار نکات پر باہمی مشاورت کی۔
مہاجرین کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہتری کے اقدامات؛
مہاجرین کے فارغ وقت کا بہتر استعمال اور اس کے لئے مواقع مہیا کرنا؛
مہاجرین کو روزمرہ دفتری معاملات سے آگاہی اور سہولیات مہیا کرنے کے اقدامات اور
مہاجرین کو مقامی زبان اور کلچر سے ہم آہنگ کرنے کے لئے سماجی اقدامات۔
حاضرین نے ان چار موضوعات پر گہری دلچسپی سے تبادلہ خیال کیا اور راقم کو بھی ان مقاصد کے حصول کے لئے اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ جس میں خاکسار نے مہاجرین کے ذریعے سٹیج پلے کے طور پر ان مسائل کی شناخت اور حل کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کو مقامی شرکاء نے سراہا اور اس کا سکرپٹ لکھنے کی خدمت بھی ہمارے ہی سپرد کی۔
اس تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب مہاجرین اور جرمنی کے تناظر میں بھانت بھانت کی بولیاں اور خبریں سننے یا پڑھنے کو ملیں تو قارئین اس قوم اور حکومت کی مہاجرین کے لئے ہمدردی اور خلوص کو نظر انداز نہ کر جائیں۔ حکومتی سطح پر انتظامی فیصلے کرتے وقت ہم نے بنیادی انسانی حقوق پر سمجھوتہ کرتے ہوئے ان کو کبھی بھی نہیں دیکھا اس لئے اس خوبی کا اظہار بھی ضروری سمجھا۔
علاوہ ازیں میزبان حکومت کی اچھائیاں اپنی جگہ لیکن مہاجرین کو اپنی ذمہ داریاں بھی نبھانی چاہئیں جن میں مقامی کلچر اور ملکی قوانین کا احترام سر فہرست ہے۔
اور جہاں ماحول اور معاشرہ تہذیبی تقاضے کے طور پر آپ کی سہولت کے لئے کوشاں ہو وہاں اس ذمہ داری اور بہترین تعاون کا اظہار عام حالات کی نسبت دوچند ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ عام طور پر سننے میں آتا ہے کہ مشکل وقت میں ہی انسان کے اخلاق آزمائے جاتے ہیں۔
تو یہ گویا میزبانوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کے اخلاق و آداب معاشرت کی بھی آزمائش ہے۔ اللہ مہاجرین کو حسن معاشرت کے بہترین نمونے پیش کرنے کی توفیق دے۔ اور جرمن قوم کو کبھی کسی وجہ سے اپنے حسن سلوک پر تاسف نہ ہو۔