کھوتی کا کھرا اور ویلنٹائن ڈے پر پابندی

تحریر: طاہر بھٹی – فرینکفرٹ ، جرمنی

Ch nisar3

بہاولنگر کے ایک زمیندار کے ڈیرے سے کھوتی چوری ہو گئی جو تقریبا” ہر ڈیرے پر چارہ ڈھونے کے لئے بندھی ہوتی ہے۔ اس زمانے میں یہ جانور تین چار سو روپے میں دستیاب تھا کہ ابھی کھال سمگل ہونی اور گوشت بازار میں بکنا نہیں شروع ہوا تھا۔ موصوف نے کھوجی منگوائے اور کھوتی کا سراغ لگانے کے لئے کھرا چل پڑا ۔ کھرے کے ساتھ عام طور پر چالیس پچاس لوگ ہوتے ہیں اور ان کے قیام و طعام کا خرچ اسی کے ذمے ہوتا ہے جس نے کھرا روانہ کیا ہو۔ یہ کھرا کئی دنوں تک تلاش کرتا ہوا دو سو میل کی مسافت طے کر گیا اور بہاولپور ملتان کو کھنگالتا وہاڑی تک جا نکلا۔ سستے زمانے میں بھی ہزاروں کا خرچ ہو چکا تو کسی نے کہا کہ، چوہدری صاحب کھوتی اور خرید لینی تھی۔ اتنا خرچ آپ نے کھرے پہ کر دیا ہے۔۔آخر کیا وجہ ؟
زمیندار کا دور اندیشی سے بھر پور جواب یہ تھا کہ میں کھوتی نہیں تلاش کروا رہا بلکہ دور و نزدیک کے چوروں کو یہ پیغام دے رہا ہوں کہ اگر کھوتی کا کھرا وہاڑی تک آگیا ہے تو اگر میرے ڈیرے سے بھینس چوری ہوئی تو میں پورا پنجاب چھان ماروں گا مگر مال نہیں چھوڑوں گا۔ ورنہ اگر میں آج سمجھوتہ کر لوں تو میرے ڈیرے پہ کچھ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
پاکستان ایک بہت بڑا ڈیرہ تھا جسے آباد کرنے والوں اور اس کے استحکام کے ذمہ داروں کے سوتے ہوئے ایک کھوتی سن انچاس میں کھل گئی اور ان کو اس نقصان کا اندازہ ہی نہ ہوا۔ پھر 1953 میں باقاعدہ ہلہ بول کر ڈیرہ لوٹا گیا مگر اہل اقتدار تو تھے اہل فراست نہیں تھے۔
پھر 1971 میں ان کی زمین کے ایک حصے پہ قبضہ ہو گیا اور اہل اقتدار کو فالج ہو گیا۔ 1974 میں ان کو ایسی کمر توڑ زک پہنچی کہ پارلیمنٹ ہی یرغمال بن گئی لیکن اس وقت یہ مفلوج کے ساتھ مجبور بھی ہو گئے تھے۔ آئین کے پشتے میں سوراخ ہو چکا تھا لیکن ان کی کم نظری نعرے بازی میں مصروف رہی۔ نظام مصطفیٰ اور قومی اتحاد کے نعرے ان پر ضیا مسلط کر گئے اور اس نے اسلامائزیشن کی ایسی گولی دی کہ گھر سلگتا چھوڑ کے افغانستان کے دفاع پہ نکل لئے۔ اس کے بعد کی تاریخ وہ گھٹا ٹوپ تاریکی ہے جس نے جھوٹ اور منافقت کے بچے دئے اور اب کوئی دھاگا نہیں ملتا جس سے سوت کات سکیں۔ کھوتی کے کھرے پر سمجھوتہ کیا تھا اب آپ کے مال لوٹے گئے۔ عزتیں تاراج ہوئیں اور بچے گھر آ کر مارے جا رہے ہیں اور ہمیں اہل اختیار ہر روز اقتدار کی حکمت عملیاں پڑھا رہے ہیں۔
لیکن ادنیٰ سے تدبر سے نظر آ جاتا ہے کہ یہ پیرِ تسمہ پا  کے اسیر ہیں۔ ہر دفعہ ہم پہ وار کریں گے اور ہمیں تمیز سکھائیں گے مگر  پیرِ تسمہ پا کو کچھ نہیں کہیں گے جس کو یہ اپنی حماقتِ خاص سے اپنی گردن پہ سوار کر بیٹھے ہیں۔
اس پہ ستم یہ کہ اہل علم و دانش بھی انہی کے ڈھنگ سیکھےہوئے  ہیں۔ اور گفتگو کو علمی و  ادبی اور سیاسی و سماجی رکھنے کا ارشاد فرماتے ہیں، حقیقی نہیں۔ صاحب ایک بات بتائیے؟
لوگ مر رہے ہیں، دم گھٹ رہا ہے اور آنے والا کل تاریک تر ہونے جا رہا ہے اور آپ ہم سے اسرار کر رہے ہیں کہ اقبال اور حفیظ جالندھری کے کلام کے شعری محاسن یا عصمت کے افسانوں پہ تنقیدی اور تحقیقی مضمون لکھیں۔ تو بھائی کیوں؟ اور کیسے؟؟
مجھے ویلنٹائن ڈے پہ چوہدری نثار صاحب کی پابندی پہ بات کرنی ہے۔ کیوں کہ یہ پابندی مولوی کو خوش کرنے اور غیر مولوی کو زیر نگیں کرنے کے لئے لگائی گئی ہے۔ اس کی حیثیت وہی ہے جو ضیاالحق کی جبری نماز کمیٹیوں کی تھی۔ اور جو بھٹو کی جمعے کی چھٹی کی تھی۔
دونوں کا مقصد خدا کو خوش کرنا نہیں بلکہ مولوی کی خوشنودی کا حصول تھا۔ میں نے ذاتی طور پر تو کبھی سالگرہ تک نہیں منائی مگر ایک پیغام کے طور پر ایک طبقے کو کہنا کہ تم کچھ نہ کرنا میں پابندی لگا دیتا ہوں۔ پاکستان نہ تو جغرافیائی طور پر ان کے باپ کی جاگیر ہے اور نہ نظریاتی طور پر۔
یہ سب کا ہے اور سب کے لئے ہے۔
مجھے اور قارئین کو اس بات کے جواب میں دلچسپی ہے کہ ابھی آپ کو اور کیا اختیار درکار ہے۔ ووٹ آپ کو عام آدمی دیتا ہے اور خوشنودی آپ کسی نان سٹیٹ ایکٹر کی کیوں ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔
نان سٹیٹ ایکٹر کو ایک بندوق یا بم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لئے سمگل اور چوری کرنا پڑتا ہے۔ آپ چاہیں تو موٹر وے پر ٹریفک روک کر توپیں ٹرانسپورٹ کریں کسی کو اعتراض نہیں تو پھر آپ بتائیں کہ آپ کو ڈر کس چیز کا ہے؟؟
آپ اور پرائم منسٹر صاحب دونوں کلین شیوڈ ہیں۔ سوٹ ٹائی پہنتے ہیں اور ظاہر میں پورے لبرل ہیں اور چھوٹے میاں صاحب تو گانے وانے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ تو بتائیں تو سہی کہ آپ مولوی کے ایجنٹ ہیں یا اس سے خوفزدہ ہیں اور حکمت عملی سے کام لے رہے ہیں؟
دوسرا یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آپ ایک قسم کی ملائیت کے زہریلے اثر پر جھاڑو پھیرتے جاتے ہیں اور ساتھ ایک اور برانڈ کو پالتے جاتے ہیں۔ پاکستان کو ایک ریاست کے طور پر اس میوزیکل چئیر کی ریس سے باہر کیوں نہیں نکلنے دے رہے۔ اگر یہ ہمارا اثاثہ ہیں تو اس کو کھلے عام بڑھائیں۔ پھر تامل کیسا؟ اور اگر یہ مستقل عذاب ہیں تو جان چھڑائیں۔ تو بھی تامل کیسا؟
آج کل خالص دینی ماخذ کی بجائے بھلے شاہ سے سند لی جائے تو تحریر کو سیکولر سمجھا جاتا ہے اس لئے عرض ہے کہ۔۔
میں قربان انھاں تھیں بھلیا جیہڑے گلیں دین پرچا۔
سوئی لبھے تے دے دیون تے آہرن لین لکا۔
(بھلیا میں قربان ان پہ جو باتوں سے ہی خوش کر دیتے ہیں اور سوئی ملے تو واپس کر دیتے ہیں لیکن لوہے کا بڑا باٹ چھپا کر پی جاتے ہیں۔)
تو آپ ہمیں پریس کانفرنسوں میں سوئیاں بتا بلکہ چبھا کر آہرن چھپا لیتے ہیں۔ اس طرح حکومتیں تو کچھ وقت گھسیٹ کر چل جاتی ہوں گی لیکن ملک نہیں چلتے۔
آپ کے مسائل ہمیں تو کچھ دکھائی دیتے ہیں مگر ہمارے مسائل کون دیکھے۔آپ کو  شائد اندازہ نہ ہو لیکن آپ کے نیشنل ایکشن پلان کی گولی سے آپ سب تو ایک پیج پہ آگئے لیکن اب لوگ اس پیج پہ نہیں ہیں۔ دور کھڑے ہوئے آپ کا منہ تَک رہے ہیں  اور آپ کے پیج کا۔ اور سادہ سی حقیقت ہے اگر آپ پہ رب راضی ہو تو آپ کو سمجھ بھی آ جائے گی کہ جو مولوی توہین رسالت کی پرائیوٹ طور پر سزا دینے ، ایک منظم پڑھے لکھے اور پر امن طبقے کو کافر قرار دلوانے، جماعت اسلامی کے انواع و اقسام کے فلسفوں کو رائج کرنے، منتخب وزیر اعظم کو پھانسی چڑھوانے، بہت سے نابغہء روزگار افراد پر عرصہء حیات تنگ کروا کے ملک بدر کروانے اور ہزاروں کو فرقہ وارانہ نفرتوں کی بھینٹ چڑھانے  کے بعد بھی راضی نہیں ہوا وہ صرف ویلنٹائین ڈے پر پابندی لگانے سے راضی ہو جائے گا اور پاکستان کو پرامن جنت بنانے  میں جت جائے گا!!!
اس خام خیالی کو حقیقت سمجھنے کے لئے تو ایک اور چوہدری نثار درکار ہیں عام فانی انسان کی استطاعت اس بوجھ کی متحمل نہیں ہو سکتی!