پاکستان کا طبقاتی نظام (The Class structure of Pakistan)

تحریر: محمد اڈوہو

taimur
پاکستان کا طبقاتی نظام
مصنف: تیمور رحمان
صفحات: 302
قیمت: 995 روپے
ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

پاکستان میں 1970 کے انتخابات کی جہاں اور کئی حوالوں سے بڑی اہمیت ہے وہاں اس حوالے سے بھی ہے کہ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے اقتصادی پروگرام کے اظہار کے لیے ’اسلامی سوشلزم‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ دوسری طرف اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے بھی سامنے آئے اور قوم پرستی کے بھی۔ نتائج سے قطع نظر ان انتخابات کا ایک فائدہ یہ ضرور ہوا کہ سوشلزم، سوشلسٹوں اور یہاں تک کہ کمیونسٹوں کے بارے وہ تصورات ملیامیٹ ہو گئے جو اسٹیبلشمنٹ نے بڑی محنت سے پیدا کیے تھے۔ لیکن نقصان بھی ہوا کہ ان تصورات اور نظریات سے جو توقعات اور امیدیں کی جاتی تھیں وہ بھی دھندلی ہو گئیں۔ تاہم اس کے باعث عام لوگوں کی بہت بڑی تعداد اُن اصطلاحوں میں سوچنے لگی جو ستر کے انتخابی رد و قبول میں سامنے آئی تھیں۔
اب اس بارے میں ڈاکٹر تیمور رحمان کی زیر تبصرہ کتاب آئی ہے۔ ڈاکٹر تیمور اب لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (LUMS) میں سیاسیات یا پولیٹیکل سائنس پڑھاتے ہیں۔ انھوں نے برطانیہ کی سسکس یونیورسٹی سے ماسٹر کیا اور پھر سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز (SOAS) لندن سے ڈاکٹریٹ کی۔ وہ اس سے پہلے سے پاکستان میں مزدور اور مارکسی سیاست سے بھی وابستہ ہیں۔ اور قلم و آواز سے مظلوم مزدور کے حق کیلے جدوجہد کرتے ہیں۔
کتاب The Class structure of Pakistan (پاکستان کا طبقاتی نظام) معاشرے میں پھیلے ظلم ، مزدور کے استحصال پر ہے۔ پاکستان میں ہونے والا انتخابی تسلسل آہستگی سے نظام کو تبدیل کررہا ہے۔ معاشرہ ، ظلم ، ناانصافی ، استحصال جیسی اصطلاحوں کو اس سے پہلے اخبارات میں لکھے جانے والے مضامین اور دیگر کتابوں میں استعمال کرنے والوں کو روسی یا چینی ایجنٹ سمجھا جاتا تھا۔ ان اصطلاحوں میں طبقات، طبقاتی مفادات، طبقاتی کردار، طبقاتی انصاف اور مظالم اور طبقاتی تقسیم کی اصطلاحیں بھی تھیں جو اب نہ صرف سیاست سے مخصوص اصطلاحیں ہیں بلکہ عام بول چال میں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ عام شعور کا حصہ بنی ہیں۔ یہ بھی ہوا کہ پہلے جو کتابیں بہت چھپ چھپا کر پڑھی جاتی تھیں عام پڑھی جانے لگیں اور دستیاب بھی ہونے لگیں لیکن طبقات کے بارے میں ہونے والی ساری باتوں کے باوجود کبھی اس بات پر توجہ نہیں دی گئی کہ پاکستان کی طبقاتی ساخت کے بارے میں کوئی باقاعدہ کتاب یا تجزیہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے کچھ جزوی تجزیے اور حوالے ضرور یہاں وہاں آتے رہے۔
اس کتاب میں ڈاکٹر تیمور رحمان نے کارل مارکس کی وضع کردہ اصطلاح ایشیائی پیداواری طریقوں، کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں ایشیائی پیداواری طریقوں، نوآبادیاتی انداز اور ایشیائی سرمایہ دارانہ نظام، پاکستان میں زرعی طبقے کے تعلقات اور صنعتی تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے اپنے تجزیے میں کارل مارکس کے اس تصور کو بنیاد بنایا ہے کہ جنوبی ایشیا میں نوآبادیاتی دور سے قبل پیداوار کے ذرائع یورپ سے مختلف تھے اور ان کے چار اہم پہلو تھے۔ اوّل، فطری معیشت۔ دوم، اراضی کی نجی ملکیت کا نہ ہونا۔ سوم، پبلک ورکس کا ریاستی بنیادوں پر ہونا۔ چہارم، بچتوں یا فاضل یعنی سرپلس کی وصولی کے لیے ریاست کے طریقے۔ نوآبادیاتی دور سے پہلے ریاست کی تمام تر آمدنی زرعی محاصل تھے اور اس کی وصولی ہی میں ریاست کی تمام طاقت مضمر تھی۔ اس نام سے جو بھی وصولیاں کی جاتی تھیں وہ اجتماعی ہوتی تھیں۔ اس باب میں ڈاکٹر تیمور نے اس دور کے بارے میں اب تک لیے جانے والے جائزوں کا بھی جائزہ لیا ہے اور اہم اعتراض یا سوالات کا بھی۔
اسی میں انھوں نے نوآبادیاتی دور میں سرمایہ دارای کی جانب اس عبوری سفر کی بھی نشاندہی کی ہے جس کے ان کے خیال میں تین اہم پہلو تھے: ایک، غیر ملکی بالا دستی۔ دوم، سرپلس کے بیرون ملک منتقلی۔ سوم، ایشیائی پیداواری طریقوں پر سرمایہ دارانہ طریقوں کی استواری۔ تیسرے باب میں پاکستان کی ہم عصر زرعی سیاسی معیشت کے تناظر میں ایشیائی سرمایہ داری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے پاکستان میں اس وقت جو زرعی نظام ہے یہ وہی ہے جو جسے انگریزوں نے مستقل انتظام کے نام پر 1846 سے 1870 کے دوران نافذ کیا۔ اور یہ کہ نوآبادیاتی ریاست کا بھی انحصار زرعی آمدنی پر تھا لیکن اراضی کی نجی ملکیت نے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد رکھ دی۔ ڈاکٹر تیمور کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ بھی محدود نوعیت کا ہے اور اس میں بھی بہت سے پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا جا سکا۔ کیونکہ پاکستان کی طبقاتی ساخت کو سمجھنے کے لیے محض ذرائع پیداوار کو سمجھنا کافی نہیں ہے۔ خطے اور خطے کے کلچر، آئیڈیالوجی اور خاص طور پر سیاسی معیشت کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ پھر اس جائزے میں ایشیائی ریاست کی نوآدیاتی اور نئی نوآبادیاتی ریاست میں منتقلی، پاکستانی معیشت میں فوج کے کردار، ملک کے شمالی اور مغربی حصوں میں قبائلی طبقاتی نظام، عورتوں کی اقتصادی پوزیشن، قومی، نسلی اور مذہبی استحصال کی سیاسی معیشت اور اس نوع کے دوسرے کئی اہم سوالوں پر توجہ نہیں دی جا سکی۔
ڈاکٹر تیمور کہتے ہیں کہ یہ تجزیہ تین مفروضوں پر استوار ہے ایک تو یہ کہ جنوبی ایشیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی آمد سے پہلے پیداواری نظام مختلف نوع کا جاگیردارانہ نظام تھا، جس کے لیے مارکس نے ’ایشیائی پیداواری طریقے‘ کی اصطلاح وضع کی تھی، دوم ایشیا میں سرمایہ دارارانہ دور کی طرف منتقلی بھی یورپی طریقے کے برخلاف نوآبادیاتی دور کے سبب ہوئی، اس لیے مختلف تھی۔ سوم، اس کے نتیجے میں ایک دور سے دوسرے دور میں منتقلی نے جو شکل اختیار کی اس میں ایشیائی پیداواری طریقے اور سرمایہ دارانہ طریقے ملے جلے ہیں۔ پھر اس میں چھوٹا صنعتی سیکٹر اور چھوٹی سطح پر سرمایہ دارانہ مینوفیچرنگ بھی شامل ہوگئی جس نے اسے اور مختلف بنا دیا۔ اس سے گویا یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے علاقائی عوامل کی وجہ سے کیونکہ پاکستان میں طبقات کی شکل روایتی نوع کی نہیں بنی اس لیے ان طبقات کے جدلیاتی عمل کو روایتی جدلیاتی انداز سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ یعنی صورت حال کے مطابق نیا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر تیمور کا یہ تجزیہ اس اعتبار سے انتہائی اہم کہ اس نے کئی سو سال پر پھیلے ہوئے ایک ایسے سوال کو ایک شکل دی ہے جسے اب تک مطلوبہ توجہ نہیں مل سکی تھی۔ بلا شبہ یہ مطالعہ خالص تحقیقی نوعیت کا ہے اور تحقیق کو ہی راہ دیتا اور تحقیق پر اکساتا ہے۔ لیکن کیا یہ کتاب ہمارے سامنے یہ سوال پیدا نہیں کرے گی کہ اس کا فیض کسے پہنچے گا؟ بلاشبہ یہ دھرتی کا قرض تھا۔ جو ظلم کے خلاف کتابی شکل میں ڈاکٹر تیمور رحمان کے قلم سے نکلا ہے۔
یہ کتاب ہر پاکستانی کو پڑھنی چاہئے۔
آکسفورڈ اردو پریس کا کتاب پر تبصرہ