ثقلی موجیں

تحریر:فیصل منظور
آج سے ایک سو برس قبل آئن سٹاین نے عمومی اضافیت کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اس نطریہ کی رو سے زمانہ اور مکان ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ جڑے ہوے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے آپ زمان و مکان کو ربڑ کی ایک لچکیلی چادر کی مانند گمان کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی چادر میں جب بھی کوئی وزنی شئے رکھی جاتی ہے تو وہ اس میں خم ڈالتی ہے۔جس جسم کی کمیت جتنی زیادہ ہو گی وہ اس میں اتنا ہی گہرا خم ڈالے گا۔ اسی طرح زمین، چاند،سورج اور باقی تمام ستارے اور سیارے، جو زمان و مکان کی اس چادر کے اوپر موجود ہیں ،اس میں خم ڈالے ہوئے ہیں۔ چونکہ سورج زمین سے اور زمین چاند سے زیادہ وزنی ہے لہٰذا سورج کا گڑھا زمین سے زیادہ گہرا اور زمین کا چاند سے زیادہ گہرا ہے۔ جب بھی کسی جسم کو آپ ایسی خمیدہ سطح کے آس پاس رکھتے ہیں تو وہ لڑکھڑا کر اس کے وسط میں جا رکتا ہے۔ اگر آپ اسکو رکھنے کی بجائے تھوڑی قوت لگا کر کسی ایک سمت میں پھینکیں تو وہ بجائے سیدھا وسط کیطرف جانے کے مرکز کے گرد،جہاں پر کوئی بھاری جسم پڑا ہے،چکر کاٹتا ہوا مرکز میں جا گرے گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ چاہے آپ جسم کو ایک سیدھی قطار میں بھی پھینکیں وہ کچھ چکر کاٹ کر مرکز کی طرف ہی جائے گا۔ لیکن اگر قوت کو بڑھا دیا جائے تو بعض اوقات وہ جسم بجائے مرکز میں گرنے کے اس کے اردگرد چکر کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔بالکل اسی عمل کیوجہ سے ہی چاند زمین کے گرد اور زمین سورج کے گرد طواف کرتی ہے۔ اور اسی وجہ سے ہی نیوٹن کا “مشہور سیب” زمین کی طرف گرا تھا۔ لہٰذا اب مختلف اجسام کا زمین کی طرف گرنا اور زمین کا سورج کے گرد چکر لگانا کششِ ثقل کی وجہ سے نہیں ،جیسا کہ نیوٹن نے کہا تھا، بلکہ زمان و مکان کی چادر کے خمیدہ ہونے کی وجہ سے ہے جو مختلف اجسام اپنی کمیت کے بل بوتے پر پیدا کرتے ہیں۔
آئن سٹاین کے عمومی نظریہِ اضافیت کے بہت سارے اطلاق ہیں ۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی جسم زمان و مکان کی چادر میں متغیر رفتار سے حرکت کریگا تو اس میں لہریں پیدا کرے گا۔ جیسا کہ نیچے شکل میں دکھایا گیا ہے۔

Gravi1
یہ لہریں ثقلی لہریں یا موجیں کہلاتی ہیں۔ یہ موجیں اتنی خفیف ہوتی ہیں کہ آئن سٹاین نے خود ان کے متعلق کہا تھا کہ ان کو ماپنا ایک ناممکن کام ہو گا۔
آئن سٹاین کو ناممکن لگنے والے اس کام کو سائنسدانوں نے اس وقت ممکن کر دکھایا جب انہوں نے گزشتہ برس ستمبر میں ان لہروںکا “ثقلی موجوں کی انٹرفیرومیٹری رصدگاہ” (لیگو)میں مشاہدہ کر لیا جس کا باقاعدہ اعلان کچھ دن قبل کیا گیا۔
لیگو دو سرنگوں پر مشتمل ہے جن کو ہم آسانی کی خاطر بازو کہہ لیتے ہیں۔ ہر بازو کی لمبائی چار کلو میٹر ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے عمودا” ہیں جیسا کہ نیچے شکل میں واضح ہے۔

gravi2
لیزر کی شعاع لیزر سے نکل کر ایک ایسے آلے پر پڑتی ہے جو اسکو دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھے کو عمودی بازو اور باقی آدھے کو افقی بازو میں بھیج دیتا ہے۔ہر بازو کی حد پر ایک آئینہ لگا ہوتا ہے جو ان شعاعوں کومنعکس کر کےواپس بھیج دیتا ہے ۔جہاں سے وہ شعاع تقسیم کرنے والے آلے سے گزر کر جانچ کے آلے میں چلی جاتی ہیں۔ یہاں پر دونوں شعاعیں عملِ تداخل سے گزرتی ہیں جس کا نتیجہ لہروں کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

Gravi3Gravi4
ہوتا یوں ہے کہ ثقلی لہریں زمان و مکان کی چادر سے گزرتی ہیں تو اس کی شکل میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں جسکی وجہ سے اس پر موجود ہر جسم میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ لہریں زمین پر پہنچتی ہیں تو اس میں بگاڑ کی وجہ سے لیگو کے دونوں بازؤں کی لمبائی ایک جیسی نہیں رہتی۔
جب کوئی لہر موجود نہیں ہوتی تو لیگو کے دونوں بازؤں کی لمبائی ایک جیسی رہتی ہے۔ لیزی کی شعاع جب چکر کاٹ کر جانچ کے آلہٰ پر پڑتی ہے تو دونوں شعاعوں میں تخریبی تداخل ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ ایک سیدھی قطار کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ عمل ذیل میں دی گئی شکل میں دکھایا گیا ہے۔

Gravi5Gravi6
اوپر بائیں جانب موجود تصویر انٹرفیرومیٹر کے دو بازؤں کی ہے۔ جن میں ان کی لمبائی برابر ہے جب کوئی ثقلی موج زمین سے نہیں گزر رہی ہوتی۔ دائیں جانب موجود تصویر دو شعاعوں کے مابین تخریبی تداخل کو دکھا رہی ہیں۔
لیکن جب بھی کوئی ثقلی موج زمین سے گزرتی ہے تو انٹرفیرومیٹر کے بازؤں کی لمبائی میں فرق آ جاتا ہے اس طرح کہ اگر ایک بازو کی لمبائی بڑھتی ہے تو دوسری کی کم ہو جاتی ہے۔لہذٰا جب لیزر کی شعاعیں آپس میں ملتی ہیں تو وہ ایک دوسرے کے اثر کو زائل نہیں کرتی اور اس تداخل کی نتیجہ خیز موج سکرین پر نظر آ جاتی ہے۔ اس موج سے ہی ثقلی موج کی موجودیت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ عمل نیچے شکل میں دکھایا گیا ہے۔
بائیں طرف والی شکل ثقلی لہر کے گزرنے کی وجہ سے انٹرفیرومیٹر کے بازؤں میں آنے والی تبدیلی جبکہ دائیں جانب والی شکل اس تبدیلی کے نتیجہ میں شعاعوں کے بیچ ہونیوالے تداخل کے نتیجہ کو ظاہر کر رہی ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ ثقلی موجیں،جن کا مشاہدہ لیگو میں کیا گیا ہے، یہاں سے تقریبا” ایک ا رب نوری سال دور دو مردار ستاروں(بلیک ہول) کے آپس میں ضم ہو جانے کے عمل کے دوران پیدا ہوئی تھیں اور روشنی کی رفتار سے چلتی ہوئی گزشتہ برس ستمبر میں زمین پر پہنچیں۔
جس طرح دوربین کی ایجاد سے فلکیاتی اجسام کے متعلق علم میں بہت مدد ملی تھی اسی طرح ثقلی موجوں کے مشاہدہ سے بھی قدرت کے ان مظاہر کے متعلق بہت مدد ملے گی جو اب تک انسانی آنکھ سے پوشیدہ تھے۔