نیب ،احتساب اور کہانی

تحریر: عماد ظفر

nab2
کچھ خبریں اور افواہیں ایسی بے تکی اور بھونڈی ہوتی ہیں کہ بے اختیار ہنسنے کو جی چاہتا ہے۔آج کل الیکٹرانک میڈیا کے پاس چلانے کو اور عوام کو بیچنے کو کوئی سنسنی نہیں مل رہی تھی۔اس لیئے نیب کو لے کر ایک ” کہانی” گڑھ کر پھر سے عوام کو نئے تماشے کے پیچھے لگا دیا گیا۔ وزیر اعظم کے نیب دوارے بیان کو لے کر ایسے دہائیاں مچائی جا رہی ہیں جیسے بس کچھ ہی دیر میں نیب وزیر اعظم کو اور ان کی جماعت کے رہنماوں کو گرفتار کر کے کال کوٹھری میں بند کر دے گی۔ کئی ٹی وی چینل اور تجزیہ نگار تو اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ عوام کو یہ بھی بتانے میں “کامیاب” ہو چکے ہیں کہ نیب کے چیئرمین چوہدری قمر الزمان کو ہٹانا وزیر اعظم کے اختیار میں ہے ہی نہیں۔ رائے ونڈ کی سڑک کے معاملے اور اس کے علاوہ اسحاق ڈار کی فرضی بدعنوانیوں کو لے کر الف لیلوی داستانیں سنا کر عوام کو خوب بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔

وطن عزیز میں مذہب کے بعد جو چورن سب سے سستا اور سب سے زیادہ بکتا ہے وہ احتساب کا چورن ہے۔ خیر یہ ساری کہانی صرف اتنی سی ہے کہ نیب نے میاں منشا سے غلطی سے لندن سرمائے منتقلی اور دیگر چند کاروباروں کے مالی ذرائع بابت سوالات کر ڈالے تھے اور انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک ہلکی پھلکی شکایت کر ڈالی تھی۔ نواز شریف چاہتے تو 22ویں گریڈ کے افسر کو ایک لمحے میں کوئی بھی جواز بنا کر فارغ کر دیتے کیونکہ چوہدری قمر الزمان محض نیب کے چیئرمین ہیں نا کہ فوج کے سربراہ۔ ویسے گریڈ تو دونوں کے برابر ہوتے ہیں لیکن طاقت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ چوہدری قمرالزمان ٹھہرے ہماری طرح سے عام سویلین اس لیئے ان کو ویسے بھی ہٹانےمیں نہ تو کوئی سیاسی قباحت ہے اور نہ ہی کوئی قانونی پیچیدگی۔اور نہ ہی ان کو برطرف کرنے سے کسی بھی قسم کے “ملکی وقار” پر کوئی آنچ آتی ہے۔ بہت زیادہ ہو تو چوہدری صاحب اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹانے اور تاریخ پر تاریخ لینے کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتے۔

دوسری جانب ڈاکٹر عاصم بھی اب رینجرز کی مہمان نوازی سے تنگ آ چکے ہیں اور دبئی کی فضاؤں میں اب اپنے یار غار کے ساتھ سگار پیتے شامیں بتانا چاہتے ہیں۔ یہاں اس بات سے قطع نظر کہ ڈاکٹر عاصم نے کرپشن کی یا نہیں وہ کسی بھی قسم کی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں شامل تھے یا نہیں ۔رینجرز یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں دیے گئے بیانات کی قانونی حیثیت صفر ہوتی ہے اور ان اداروں کی تحویل میں موجود کسی بھی شخص کا عدالت میں صرف اتنا کہنا کہ مجھ سے یہ بیانات زور زبردستی لیئے گئے تھے ،ان تمام اقبالی بیانات کو قانون کی نظر میں رد کر دیتا ہے۔

مقتدر قوتوں نے ویسے بھی ڈاکٹر عاصم سے جو کام لینا تھا وہ لے چکے۔سندھ اور کراچی کی طاقت کی بساط میں اب دو بڑے بادشاہ وطن عزیز سے باہر محض اپنی سیاسی بقا کی گارنٹیوں پر ہی خوش نظر آتے ہیں۔اس لیے ڈاکٹر عاصم کو جلد یا بدیر دبئی کی فلائٹ پکڑنا ہی ہے۔ اب ظاہری بات ہے جب ڈاکٹر عاصم باہر جائیں گے تو محض وفاقی حکومت نہیں بلکہ پس پشت قوتوں کو بھی عوام اور میڈیا کے ایک حصے کے سامنے سبکی کا سامنا کرنا پڑتا۔ لہذاسیاسی بازی گروں اور پس پشت طاقتوں نے میڈیا اور عوام کو ایک “تماشا” دیکھنے پڑھنے اور سننے کو دے دیا ۔جس کے بعد ڈاکٹر عاصم کے باہر جانے پر اور میاں منشا کے کسی بھی کیس کے نہ کھلنے پر کوئی خاص ہنگامہ برپا نہیں ہو گا۔ کیونکہ تب تک میڈیا خود عوام کو یہ بات حفظ کروا چکا ہو گا کہ نیب اور دیگر ادارے خود مختار ہیں وزیر اعظم تک ان سے تنگ ہیں اور ان کی بھی ان اداروں میں کوئی نہیں سنتا۔

اس بات کو لے کر سپن وزرڈز خوب کہانیاں سنائیں گے کہ دیکھئے ڈاکٹر عاصم یا دیگر شخصیات کی رہائی میں وزیر اعظم یا دیگر سیاستدانوں کا عمل دخل کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ ہم تو خود ان کے ستائے ہوئے ہیں۔یوں کچھ عرصے بعد اس کہانی کو بھی دبا کر عوام کو کسی نئے چورن کی خریداری میں مصروف کر دیا جائے گا اور راوی چین ہی چین لکھتا نظر آئے گا۔ ہم لوگوں کے ساتھ دراصل المیہ یہ ہے کہ ہم خود سنسنی اور جذباتیت کے بنا رہ نہیں پاتے۔ دلیل منطق اور حقیقت پر مبنی باتیں ہمیں خشک اور بے معنی محسوس ہوتی ہیں اس لیئے ہمارے معاشرے میں کسی بھی قسم کا چورن بیچنا نہ صرف انتہائی آسان ہے بلکہ باس کی ڈیمانڈ بھی سب سے زیادہ ہے ۔

بے چارے نیب کے چئیرمین کو اب میڈیا پر جس طرح طاقتور اور با اختیار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے خود نیب کے چئیرمین حیران ہوں رہے ہوں گے کہ راتوں رات میں اتنا بااختیار اور طاقتور ہو کیسے گیا۔ آفرین ہے ان قانون دانوں اور تجزیہ نگاروں پر جو ایک ایک گھنٹے پر محیط پروگراموں میں عوام الناس کو بیوقوف بنا کر نیب کے چئیرمن کو وزیراعظم سے بھی زیادہ اختیارات کا مالک بنائے بیٹھنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ یہ طبقہ وہی طبقہ ہے جو کچھ عرصے قبل تک راحیل شریف اور وزیر اعظم کی فرضی چپقلش کی من گھڑت کہانیاں عوام کو پہنچاتا تھا اور ہر آنے والے لمحے میں مارشل لا یا قیامت کی آمد کی پیشن گوئیاں کرنے میں مصروف نظر آتا تھا۔ خیر اس طبقے کی اور ان کے مالکان کی روزی روٹی چلتی ہی افواہوں اور چورن بیچنے کے کاروبار کے توسط سے ہے۔لیکن طاقت کے ایوان ان افواہوں کے دم پر اور احتساب کے چورن کے نام پر سیاسی اور اداروں کی سطح پر خوب مفادات حاصل کرتے ہیں اس سارے کھیل میں اگر کوئی تہی داماں رہتا ہے تو وہ ایک عام آدمی ہے۔

وہ عام آدمی جس کا مسئلہ ڈاکٹر عاصم یا میاں منشا نہیں بلکہ زندگی کی جنگ میں اپنی بقا کو محفوظ بناتے ہوئے روزمرہ کی اشیائے ضرورت کا حصول ہے۔ جس کو گرفتار کر کے ٹی وی چینل پر سگار پیتے نہیں دکھایا جاتا بلکہ تھانے میں لٹا کر پہلے “چھترول” کی جاتی ہے اور بعد میں اس کا جرم بتایا جاتا ہے۔ اس عام آدمی کی دنیا طاقت کے اس کھیل اور میڈیا کے منافع کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ جہاں زندگی آج بھی اس کی محرومیوں پر روز و شب ہنستی ہے۔جہاں سرکاری ہسپتال سے لے کر سرکاری دفاتر تک کوئی اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔ اس عام آدمی کی نفسیات سے کھیلنے کا یہ عمل اب بند ہونا چاہیے۔ سیاستدان اور دیگر طاقت کی بساط کے کھلاڑیوں کا یہ پیشہ بھی ہے اور شوق بھی ۔لیکن میڈیا اور دانشور دانستگی یا نادانستگی میں اس عمل میں شریک ہو کر عام آدمی کو ابھی تک اس جنوں اور پریوں والے مائنڈ سیٹ سے نکالنے کے بجائے اسے روز و شب شہزادے کے آنے کی نوید سناتے نہیں تھکتے جو جادو کی چھڑی سے سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے۔

یہ اکیسویں صدی ہے یہاں اب جنگ روز مرہ زندگی کی اشیائے ضرورتوں کی ہو یا ملکی ترقی کی نعروں چورن اور خوابوں کے سہارے نہیں بلکہ عمل تحقیق جستجو اور حقائق کا سامنا کرتے ہوئے ذہن سازی کر کے جیتی جاتی ہے۔ میڈیا ذہن سازی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور کم سے کم میڈیا کو اب یہ احتساب کا چورن بیچنا بند کرنا چائیے۔ پہلے ہم لوگ اپنا محاسبہ کر لیں اپنا احتساب کر لیں پھر کسی بھی دوسرے کا احتساب بے حد آسان بھی ہو جاتا ہے اور ممکن بھی۔ یاد دہانی کیلئے پھر اتنی سی گزارش ہے کہ طاقت کے اس بے رحم کھیل میں ایک سویلین 22ویں گریڈ کا افسر معمولی سا پیادہ تو ہو سکتا ہے لیکن نہ تو بادشاہ بن سکتا ہے اور نہ ہی بادشاہ کیلئے کسی بھی قسم کا خطرہ۔

  • Nuree

    President Putin: Russia will bomb Saudi Arabia back to the Stone Age life unless Riyadh desists from supporting terrorism
    25 January 2016

    Moscow—According to Russian daily Novaya Gazeta, Mr. Dmitry Peskov ,the press spokesman for the Russian President, lambasted the Saudi regime in his weekly press conference for sowing terrorism and backing al-Qaeda inspired guerrillas throughout the crisis-hit Syria.

    “the Saudi leadership clings to power and hope they can possibly impede the inevitable collapse of their primitive, barbaric and inhumane political system by targeting the stability and welfare of other neighboring nations,” Pravda quoted the Russian official as saying on Monday.

    Earlier, the Russian president emphasized that his country can’t remain at rest vis-à-vis the Saudi mischievous interference in Syria which blocked any Syrian-Syrian peaceful settlement.

    ” …Russia will defeat Saudis in Syria which became the epicenter of their [Saudis] malevolent plots. It is imperative for all Syrian parties that believe in a peaceful resolution for their country’s five-year civil war to sit down at the negotiation table and denounce the Saudi destructive role,” said President Putin, adding that Russia will bomb Saudi Arabia back to the Stone Age life when nomad Arabs were in the habit of living in tents unless the regime gives up assisting radical terrorists in the Middle-East.

    The Russian President added that strong actions against Kingdom of Saudi Arabia (KSA) are justified and crucial due to the fact that Saudi-backed ISIS poses a major international security threat. At the same time, the international community should be under no illusion about the detrimental and suspicious U.S.-Saudi alliance.

    President Putin: Russia will bomb Saudi Arabia back to the Stone Age life unless Riyadh desists from supporting terrorism
    25 January 2016

    Moscow—According to Russian daily Novaya Gazeta, Mr. Dmitry Peskov ,the press spokesman for the Russian President, lambasted the Saudi regime in his weekly press conference for sowing terrorism and backing al-Qaeda inspired guerrillas throughout the crisis-hit Syria.

    “the Saudi leadership clings to power and hope they can possibly impede the inevitable collapse of their primitive, barbaric and inhumane political system by targeting the stability and welfare of other neighboring nations,” Pravda quoted the Russian official as saying on Monday.

    Earlier, the Russian president emphasized that his country can’t remain at rest vis-à-vis the Saudi mischievous interference in Syria which blocked any Syrian-Syrian peaceful settlement.

    ” …Russia will defeat Saudis in Syria which became the epicenter of their [Saudis] malevolent plots. It is imperative for all Syrian parties that believe in a peaceful resolution for their country’s five-year civil war to sit down at the negotiation table and denounce the Saudi destructive role,” said President Putin, adding that Russia will bomb Saudi Arabia back to the Stone Age life when nomad Arabs were in the habit of living in tents unless the regime gives up assisting radical terrorists in the Middle-East.

    The Russian President added that strong actions against Kingdom of Saudi Arabia (KSA) are justified and crucial due to the fact that Saudi-backed ISIS poses a major international security threat. At the same time, the international community should be under no illusion about the detrimental and suspicious U.S.-Saudi alliance.

  • Nuree

    Bangladesh: Muslims with pistols and meat cleavers behead leading Hindu priest inside Hindu temple wp.me/p4hgqZ-ms0

    Par for the course these days. We’re almost immune to Islamic barbarity

  • engrich

    many time this happens in india as well find out real cause.in india usually it is woman or property not religion.mostly they are bad charactered lazy people.

  • Nuree

    Get over with diplomacy, take war to Pak or else Last Posts will play on after Pampore
    By Lt Gen Prakash Katoch
    As this article goes to the media, the encounter in Pampore has been on for 42 hours. India has lost five security personnel including two officers, one being Captain Pawan Kumar the only child of his parents. Captain Tushar Mahajan too was a young officer. Last rites of the bravehearts are shown live on the media with last posts sounded with full military honours and hundreds in attendance. Media calls it a Pakistani proxy attack. Some of the media houses will probably organise TV debates with the same Pakistani stooges saying Pakistan has nothing to do with it or when countered by Indian panelists, will say, OK, if you think that way you are welcome to launch your Strike Corps. The hierarchy will say that appropriate reply will be given and the show will carry on till the next such encounter/terror attack.
    Army jawans paying tribute to to Captain Tushar Mahajan who lost his life in a gun-battle with the militants in Pampore, in Udhampur on Monday. PTI
    But first let us examine the above, even as the encounter continues. As per reports only one terrorist has been gunned down till now and perhaps another three-four are holed up inside the double storey house being shown on the TV obviously with plenty ammunition and food. Whether there are other civilians in that house is not known but perhaps that may be the reason why heavy weapons have not been used till now. But the bottom-line is that Pakistan sends across jaundiced terrorists who perhaps are addicted to narcotics and have wreaked AIDS on the women in J&K. The Valley in particular over the years has seen rise in HIV/AIDS cases even as the state government hides the figures. These terrorists are extracting lives of our security forces including young officers. It is a very cheap option for Pakistan to keep our security heavily tied down. Next comes the media blitz of sudden found nationalism during such occurrences — saluting the martyrs, photographs with full description, live coverage of last rites and all. All this is very fine but look at the other side of the coin. What is the status of such coverage for martyrs elsewhere? Has the US or Nato done such publicity for their personnel killed in say Iraq and Afghanistan. Yes, numbers are released at later date and perhaps list of names much later. Has the Pakistani media ever given such coverage to their killed in action in Operation Zarb-e-Azb even though their officers hardly lead? The way our media handles such occurrences’ is obvious motivation to terrorists in Pakistan with jaundiced mullahs like Hafiz Saeed and Azhar Masood laughing all the way home, not that the Pakistani military-ISI would not be popping champagne.
    What have we really done suffering Pakistan’s proxy war for the past three and a half decades? Late MK Dhar, former Joint Director IB wrote in his book ‘Open Secrets – India’s intelligence unveiled’ published 10 years ago in 2005, “I continued to advocate for an aggressive and proactive counter and forward intelligence thrust against Pakistan. My voice was rarely heard and mostly ignored. The Pakistani establishment is a geopolitical bully. The best response to blunt such a bully is to take the war inside his home. India has allowed itself to be blackmailed by Pakistan even before it went nuclear. The sabre rattling of “coercive diplomacy”, which is nothing but sterile military power, cannot convince the Islamist Pakistani Establishment that India can take the border skirmishes inside their homes and hit at the very roots of the jaundiced Islamist groups.” We have failed to establish credible deterrence against Pakistan’s proxy war, refusing to acknowledge that irregular forces have emerged with greater strategic value over conventional and even nuclear forces, as can be seen from examining conflict situations over the past decade.

  • Nuree

    Even Operation Parakram should have taught us that conventional forces are no match to irregular threats. But we still continue to rely on diplomacy which is useless without being backed by unconventional muscle. While we have been mostly relying on idealism, we have compounded it with an inward looking policy. The costs of always following an inward looking policy are much higher, as India should have realised years back. The most effective policy for India or for that matter any country, should be one that balances both realism and idealism, which in effect, makes the idealism realistic. But we need to also weigh in other issues why we are continuing with such intransigence? Ask the public
    Even Operation Parakram should have taught us that conventional forces are no match to irregular threats. But we still continue to rely on diplomacy which is useless without being backed by unconventional muscle. While we have been mostly relying on idealism, we have compounded it with an inward looking policy. The costs of always following an inward looking policy are much higher, as India should have realised years back. The most effective policy for India or for that matter any country, should be one that balances both realism and idealism, which in effect, makes the idealism realistic. But we need to also weigh in other issues why we are continuing with such intransigence? Ask the public and you would be surprised to know how many are of the view that they think if the terrorists would have actually entered the Parliament during attack in December 2001, our response to Pakistan’s proxy war would have been far more cohesive and effective. The fact is that you can hardly find a politician or bureaucrat’s ward in the security forces. So casualties are just numbers that don’t matter, not that some politicians have also had the gumption to say that after all security forces personnel are meant to die. The second issue is the cross-border links of the terrorists and mafia which includes politician; money laundering through hawala, narcotics trade and diversion of funds to terrorist organisations, as reported by NIA from time to time, and hinted by veteran R&AW officers.
    If we think that Pakistan will have a change of heart, we cannot be more foolhardy. Filing of FIR against unknown persons in the terrorist attack on Pathankot IAF air base and removing personal security of the prosecutor in the trill underway in Pakistan for the 26/11 Mumbai terrorist attack, with the previous prosecutor gunned down are latest indicators. But the fact is that Pakistan will up the ante of proxy war with the US and China firmly in support of the Pakistani military. It is time that our government despite the approaching elections in various states and modernising-cum-development schemes, seriously get down to build the sub-conventional muscle. We urgently need to establish effective deterrence to combat Pakistan’s proxy war, which may need to be exercised from time to time in order to demonstrate its credibility. If we fail to take such action even now, then the Last Posts and the show will simply go on as hithertofore.