پاکستانی میڈیا – کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

تحریر: عماد ظفر

media

گیلپ پاکستان کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کا زیادہ تر وقت سیاست کی خبروں اور ٹاک شوز پر صرف ہوتا ہے۔ وطن عزیز کے سماجی معاشرتی معاشی مسائل اور تحقیقی و تخلیقی ملکی و عالمی خبروں کو کوئی خاص وقت نہیں دیا جاتا۔ پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات جرائد یا پھر سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی خبروں کالمز اور تحاریر کے متعلق البتہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آج بھی عوام کی ذہنی نشونما ان کے مسائل اور عالمی تحقیق پر اخبارات و ویب سائیٹس پیش پیش ہیں۔آج بھی تحاریر معاشرے کے مختلف مسائل کا احاطہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

یعنی اخبارات کے حوالے سے تو یہ بات طے ہو گئی کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی معیاری خبریں اور موضوعات آج بھی اخبارات کے ذریعے ہی عوام الناس تک پہنچتے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کا مطلب قطعا بھی مکالمہ نہیں ہوتا۔ بلکہ چند سیاستدانوں کو بٹھا کر ان کو آپس میں لڑوا کر ایک گھنٹے کی خانہ پری کی جاتی ہے۔ میزبان کا کام تحقیق اور سوالات کے بجائے محض جلتی پر تیل چھڑکنے کا ہوتا ہے اور یوں وہ ٹاک شو ہوسٹ کم اور محلے میں لڑائی کروانے والی ماسی زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

اس آرٹیکل کو سننے کے لئے کلک کیجئے:

ٹاک شوز میں یا الیکٹرانک میڈیا کے پاس تحقیقی اور تخلیقی مواد پر ریسرچ کے فقدان کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں دنیائے فزکس میں تہلکہ مچا دینے والی کشش ثقل کی لہروں کی دریافت پر کسی بھی ایک ٹی وی چینل نے پروگرام یا مباحثہ کرنے کی زحمت محسوس نہیں کی اور اگر کہیں کوئی پروگرام نظر آیا تو وہ محض ہماری خاتون سائنسدان نرگس موال والا کے گرد گھومتا دکھائی دیا۔ دوسری جانب اخبارات میں اس تحقیق پر جاندار تحاریر پڑھنے کو میسر آئیں۔ ویب سائٹس پر جامع بلاگز قارئین کو اس تحقیق کے ثمرات سے آگاہ کرتے رہے۔ شاید اس کی وجہ اخبارات و جرائد میں آج بھی سینئر اور پیشہ ور صحافیوں کی موجودگی اور صحافت کے بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ادارتی بورڈ یا عملہ کا ہونا ہے۔

حیرت انگیز طور پر چند ویب سائٹس جو انٹرنیٹ پر اخبارات کی طرز پر چلتی ہیں ان کے پاس بھی قابل عملہ اور ایڈیٹوریل بورڈ موجود ہے۔لیکن بدقسمتی سے ٹی وی چینل میں تمام تر فیصلے سیٹھ یا پھر ان کے رکھے گئے خاص منشی ہی کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ایک بے ہنگم قسم کی خبریں تحقیق اور کارآمد مواد سے عاری ٹاک شوز اور کسی بھی سنجیدہ خیال سے عاری ٹی وی ڈرامے ہم سب کے سامنے پیش کر دیے جاتے ہیں۔ گیلپ کی اسی تحقیق کے مطابق ٹی وی چینلز سے لیکر اخبارات تک سب سے کم مواد صحافیوں یا میڈیا کے متعلق دکھایا جاتا ہے یا شائع ہوتا ہے۔یعنی ہم لوگ جو معاشرے میں موجود تمام شعبہ زندگی کے افراد کو آئینہ دکھانے کا دعوی کرتے ہیں خود آئینہ دیکھنے سے کتراتے ہیں ۔ منافع اور طاقت کے حصول کی لالچ صحافت میں پہلے کے مقابلے میں بے حد بڑھ چکی ہے۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں نہ تو خبروں کی تحقیق ہوتی ہے اور نہ ہی اتنا وقت کہ انہیں کسی خاص ادارتی عمل کی چھاننی سے گزارا جا سکے۔

ٹاک شوز تو خیر زیادہ تر سیاسی یا کاروباری ایجنڈوں کی تکمیل کے لیئے ہی رکھے جاتے ہیں یا  مبینہ طور پر  پلاٹوں کا حصول پیشِ نظر ہوتا ہے۔ گاڑیوں کا استعمال اور بینک بیلنس میں اضافے کی خواہش اچھے اچھے صحافیوں کو صحافت بھلوا کر کسی سیٹھ کا منشی یا پھر کسی سیاسی و دینی جماعت کا ہرکارہ بنا دیتی ہے۔ لکھاری بھی کسی سے پیچھے نہیں بڑے بڑے کالم نویسوں کو ہی دیکھ لیجئے جن کی تحریروں کا حاصل سرکاری عہدے سرکاری خرچ پر بیرونی دورے یا پھر اپنے اپنے کاروبار کیلئے فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ذہن سازی اور تخلیق کی جانب پہلا قدم سوچ ہوتا ہے۔اگر معاشرے میں سوال اٹھانے پر پابندی عائد کر دی جائے یا صحافت کے علمبردار اپنے اپنے ایجنڈوں کی تکمیل میں مصروف ہو جائیں تو عوام الناس کی ذہن سازی سائنٹیفک اصولوں کے تحت کر کے جھوٹ اور سچ میں تمیز کروانا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں زیادہ تر آبادی نیم خواندہ یا ان پڑھ ہے جو لکھی یا کہی گئی باتوں کو اکثر سچ مان کر بنا کسی تحقیق کے ان پر رائے قائم کر لیتے ہیں یہ رائے بعد میں “تھیوری آف بیلیف سسٹم” کے تحت ان کے سیاسی مذہبی سماجی اعتقاد میں ڈھل کر نظریات اور عقائد کا روپ دھار لیتی ہے اور یوں نسل در نسل جھوٹ یا غلط عقائد پر مبنی روایات داستانیں اور مائینڈ سیٹ لوگوں کو منتقل ہوتا ہی رہتا ہے۔ مختصرا ہم جن برائیوں کی دھائیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں وہ ایک بہت بڑی صنعت کے بقا کا باعث ہیں جس میں میڈیا خواہ وہ کسی بھی قسم کا ہو اس کا بھی ایک منفی کردار ہے۔ بدقسمتی سے تعلیم کے محکمے کی طرح صحافت میں بھی زیادہ تر لوگ “مفتے” کے چکر میں یا پھر کہیں اور کوئی اچھی جاب نہ ملنے کی وجہ سے آتے ہیں۔ گو ٹی وی انڈسٹری نے اس شعبہ کو ایک آئیڈیل جاب بنا کر پیش کیا ہے لیکن ایک ٹی وی اینکر بننے کیلئے زیادہ تر کسی جرنیل سیاست دان صنعتکار یا صحافی کا بیٹا ہونا یا ان سے اچھے تعلقات ہی کافی ہیں۔عام آدمی اور نئے قابل بچوں کیلئے دہلی ابھی بھی ہنوز دور است۔

اب ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے آن لائن صحافت کی اصطلاح بھی وجود میں آئی ہے۔ وطن عزیز میں کئی معتبر صحافی خود آن لائن بلاگز اور خبروں کی ویب سائٹس چلاتے ہیں اور کڑی ادارتی پالیسی جو صحافت کے بنیادی ضابطہ اخلاق کے عین مطابق ہے اس کو نافذ العمل بھی کرتے ہیں۔ ان ویب سائٹس پر نوجوان لکھاریوں کی تحاریر روایتی قصیدہ خوانوں اور بنیاد پرستوں کے برعکس معلومات اور جدید نظریات پر مبنی ہوتی ہیں جو کہ خوش آئیند امر ہے۔ اخبارات بھی کافی حد تک اس نفع کی ہوس سے آزاد دکھائی دیتے ہیں۔نفع کمانا ان کا بھی مقصد ہے لیکن بہر حال اخبارات میں ابھی تک ٹی وی چینلوں کے مالکان جیسا اندھا دھند نفع کمانے کا خیال یا تصور نہیں آیا۔اگر پوری دنیا کا میڈیا کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو یقینا ٹی وی چینل اخبارات یا کرنٹ افیئرز کی ویب سائٹس کا مقصد “منافع” کا حصول ہی ہوتا ہے لیکن اس وقت مہذب ملکوں میں میڈیا کے حوالے سے کچھ اصول و ضوابط طے ہیں۔ آپ بلا وجہ کسی کی پگڑی اچھالنے یا ہینکی پھینکی کیلئے اس کا استعمال نہیں کر سکتے ۔اس ضمن میں نیوز آف دی ورلڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے لوگوں کی پرائیویسی میں مداخلت کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔ اسی طرح مشہور براڈ کاسٹنگ کے ادارے بی بی سی کو غلط حقائق پر مبنی خبر چلانے پر عوام سے اور اداروں سے معافی مانگنی پڑ گئی تھی۔

مہذب دنیا میں کاروباری مذہبی اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کسی بھی قسم کے میڈیا کو استعمال کرنا بھی بے حدمشکل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے متعلق بھی اصلی بریکنگ نیوز ران سسکنڈ یا ڈیکلن والش نامی غیر ملکی صحافیوں سے ملتی ہیں۔ ہم زیادہ تر خبریں بھی غیر ملکی اداروں کی ویب سائٹس سے کاپی پیسٹ کر کے یا اردو ترجمے میں تھوڑا ردو بدل کر کے پیش کر دیتے ہیں۔ ران سسکنڈ یا کرسٹینا لیمب کی کتابوں اور خبروں پر برسہا برس ٹاک شوز کر کے خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ اور اسں کام میں ملک کے بڑے بڑے میڈیا ہاوسز بھی پیش پیش ہیں۔تحقیقاتی صحافت کے ناپید ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ صحافتی مفت خوری اور سیٹھوں کے اپنے اپنے ایجنڈوں کی تکمیل ہے۔ جو چند خود ساختہ تحقیقاتی صحافی ہمیں اپنی ہزارہا بریکنگ نیوز کے حوالے پروگراموں کے پروموز میں دیتے نظر آتے ہیں ان کی تحقیقات خاکی ر نگ کی مرہون منت ہوتی ہیں جو کہ کسی بھی خاص ایجنڈے کی تکمیل کے وقت منظر عام پر لائی جاتی ہیں۔اور مقصد کی تکمیل کے بعد پردہ سکرین سے غائب کر دی جاتی ہیں۔ اس دھندے کو روکنے اور اپنے اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کے حصول کیلئے رائے عامہ تک غلط معلومات پہنچانے کا یہ کھیل اب بند ہو جانا چائیے اس ضمن میں پیمرا کو کسی بھی قسم کے میڈیا کے ادارے کا اجازت نامہ دینے سے پہلے درخواست گزار کے ذرائع آمدنی کی جانچ پڑتال کی اشد ضرورت ہے اور ان اداروں کے اجازت نامے کا لائسنس لینے والوں کیلئے باقاعدہ ایک انٹرویو بورڈ موجود ہونا چاہیے جوسینئر اور نیک نام صحافیوں پر مشتمل ہو اور جو دوران انٹرویو درخواست گزار سے میڈیا کے ادارے کے قیام کے اصل مقاصد کو بھانپ سکے۔

اسی طرح پلاٹ عہدوں اور خاکی و سیاسی نرسریوں میں پرورش پاتے صحافیوں اور لکھاریوں کو بھی اب منظر عام پر لا کر ان پر بھی فرد جرم عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹی وی ڈراموں کے گرتے معیار اور مذہبی چورن بیچتے پروگراموں کو بھی کسی ضابطہ اخلاق کسی اچھے معیار پر جانچنے کی ضرورت ہے۔ ذہن سازی یا رائے عامہ پر متاثر ہونے کے یہ شعبے نفع نقصان سے بالاتر ہوتے ہیں ،کہ یہ قوموں اور معاشروں کے کل کو بہتر بنانے کے کام آتے ہیں۔ جو لوگ خبروں تحریروں یا پروگراموں کے ذریعے دوسروں کو آئینہ دکھانے کی بات کریں انہیں خود آئینے میں اپنا عکس دیکھنے سے ڈر نہیں لگنا چاہیے۔ جو لوگ سچ لکھنے اور بولنے کے دعوے کریں انہیں صرف اپنے حصے کا سچ نہیں بلکہ سچائی کی کڑوی سے کڑوی قسم کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چائیے۔ بصورت دیگر کاغز کے نوٹ کمانے کیلئے بے حد دھندے اور پیشے موجود ہیں یہ پیشہ کاغز کا مرہون منت ہے لیکن نوٹ والے کاغذ کا نہیں بلکہ تلخ الفاظ پر مبنی سیاہ حروف پر مشتمل کاغذ کا جو کہ حروف کی سیاہی سے خود کالا ہو کر چار سو سچ اور علم و آگہی کی روشنی بکھیر دیتا ہے۔