ہمیں غیرت کی اصطلاح ترک کرنی پڑے گی

تحریر: عماد ظفر

Chinoy2

“غیرت” کے نام پر خواتین کا قتل سنگین جرم ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے یہ جملہ شرمین عبید چنائے کی ڈاکیومینٹری دیکھنے کے بعد کہا۔ آج کے دور میں یہ بیان کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں لگتا کیونکہ انسان شعوری ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد یہ جان گیا ہے کہ قتل کسی بھی حوالے سے ہو ناقابل قبول ہے۔ خون غیرت کے نام پر بہایا جائے یا جنگ کے نام پر دونوں ہی صورتوں میں ناقابل قبول ہے۔وطن عزیز میں بھی شاید نئی نسل اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دے ۔لیکن ملکی سیاست پر نظر رکھنے والے اور نواز شریف کو جاننے والے اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ بظاہر عام روٹین میں دیا گیا یہ بیان نواز شریف کی بدلتی سیاسی و نظریاتی شخصیت اور ملکی سیاست اور بیانیے میں تبدیلی کی جانب واضح اشارہ ہے۔

اس کالم کو ساؤنڈ کلاؤڈ پر سنئے:

نوازشریف کی سیاست روایتی مذہبی جماعتوں اور حلقوں کے تسلط سے رفتہ رفتہ آزاد دکھائی دیتی ہے عالمی بیانیے اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نواز شریف اب کافی حد تک معتدل مزاج ہو چکے ہیں۔ لبرل اور ترقی پسند سوچ رکھنے والوں کے ووٹ بینک کو بھی گرفت میں لے چکے ہیں۔نواز شریف ہمیشہ سے ہی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے متنفر اور ایک جنگ کی پوزیشن میں نظر آتے تھے۔ لیکن جلاوطنی کے بعد پاکستانی سیاست میں دوبارہ داخلہ کے بعد نواز شریف سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے بے حد نزدیک ہیں۔ اپنی سیاست کے علاوہ انہوں نے حالات و واقعات کی بھٹی سے گزرنے کے بعد اپنے خیالات اور نظریات کو بھی تبدیل کیا ہے۔ 1990 کی دہائی والا نواز شریف طالبان حکومت کا حامی اور شخصی آزادیوں کے بے حد خلاف تھا۔ آج  کا  نواز شریف شخصی آزادیوں سے لیکر طرز ِحکومت تک سب کے بارے میں واضح طور پر ایک ٹھوس اور دلیل پر مبنی موقف اور نظریات رکھتا ہے۔یہ ایک مثالی تبدیلی  ہے ۔قومی بیانیے کی تبدیلی میں اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ایک بات جو غالباََ طے ہو چکی ہے وہ مرکزی سیاسی جماعتوں کا شدت پسندانہ سوچ اور فرسودہ رسم و رواج رکھنے والے حلقوں سے دھیرے دھیرے قطع تعلق ہے۔ سیاستدانوں کی اکثریت کو بھی یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ سماجی اصلاحات یافرسودہ اور جہالت پر مبنی رسوم و رواج کو ترک کئے بنا معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ ایک خوش آئیند امر ہے۔

غیرت کا  لفظ ہمارے ہاں بکثرت استعمال ہونے والے الفاظوں میں سے ایک ہے۔ اس وقت پالیسی سازوں کو اس لفظ غیرت کی از سر نو تشریح کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں تین قسم کی غیرت کا تصور ہے اور اس کے بارے میں نظریات قائم ہیں۔امت مسلمہ کی غیرت، وطن عزیز کی قومی غیرت اور ایسی غیرت جو خواتین کے آزادی سے سانس لینے پر بھی مشتعل ہو جاتی ہے۔ پہلی غیرت جسے کہ امت مسلمہ کی غیرت کا نام دے کر دہائیوں تک قومی بیانیے میں شامل رکھا گیا ، یہ غیرت فلسطین سے لے کر برما تک قتل ہونے والے ہر مسلمان کی لاش دیکھ کر جوش میں آتی ہے لیکن حاصل وصول اس کا چند جلسے جلوس یا پھر مذہبی چورن بیچتی جماعتوں اور گروہوں کی سیاست چمکانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ امت مسلمہ پر جوش میں آنے والی غیرت اپنے ہم وطن بلوچوں یا پشتونوں کے قتل پر سوئی رہتی ہے۔ احمدیوں،  اسماعیلی فرقے یا مسیحی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو زندہ جلاتے ہوئے بھی یہ غیرت مرگی کی کیفیت میں دکھائی دیتی ہے لیکن دنیا کے دیگر حصوں میں مسلمانوں پر مظالم کو لے کر طیش میں آ جاتی ہے۔ طالبان کے ہاتھ معصوم بچوں کا قتل بھی اس کو جوش نہیں دلاتا البتہ دور دراز مسلم ممالک میں قتلِ عام پر یہ ہمہ وقت بیدار نظر آتی ہے۔

دوسری قسم کی غیرت ابھی تک قومی بیانیے کا حصہ ہے اور شاید ہمیشہ رہے گی۔ یہ غیرت قومی غیرت کہلاتی ہے اور دشمن کی میلی آنکھ کو ہمہ وقت پھوڑنے کیلئے تیار بیٹھی رہتی ہے۔ وطن عزیز کے قیام سے لے کر آج تک ہم اس غیرت کے نام پر جنگیں لڑتے ہی آئے ہیں ۔لیکن اس غیرت نے ہمیں کبھی ان جنگوں کے نتائج پر سوال اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔ یہ غیرت ہمارے یا ہمارے بچوں کے فاقوں سے مرنے،  صحت کی سہولیات نہ ہونے اور تعلیم بچوں کو نہ مل پانے پر ہرگز بھی متاثر نہیں ہوتی بلکہ میزائلوں،  ہتھیاروں اور اسلحہ کے ڈھیروں پر وسائل اور پیسہ لٹا کر اس غیرت کی لاج ہمیشہ ہی برقرار رہتی ہے۔ اس غیرت کے تصور کے مطابق ساری دنیا ہم سے خوفزدہ ہے، ہماری ترقی سے خائف ہے اور ہمارے ہاں انسانی حقوق کی ا”علی اقدار” کا مثالی نمونہ دنیا بھر کی اقوام کو ہم سے حسد میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہمارے ایٹم بم کو لے کر دنیا بھر کی سپر پاور خود ہائیڈروجن اور متعدد بموں کے ہوتے ہوئے بھی محض ہماری ایٹمی قوت سے خائف ہیں اور چوبیس گھنٹے یہ صلاحیت ہم سے چھیننے کے بارے میں غوروفکر کرتی رہتی ہیں۔ یہ والی غیرت کی قسم بھی کتابوں،  کہانیوں،  قصوں اور میڈیا تک محدود ہے۔ سقوط ڈھاکہ ہو یا  کارگل یا پھر ایبٹ آباد کا واقعہ یہ غیرت ستو پی کر سوئی رہتی ہے۔ امریکہ برطانیہ یا دیگر ممالک سے قرضے مانگتے اور بھیک لیتے بھی یہ قومی غیرت ٹس سے مس نہیں ہوتی ۔ لیکن نعروں اور دعووں کی حد تک یہ غیرت بھی ہمہ وقت جاگی رہتی ہے۔ جہاں اسے ڈالرز یا  ریال نظر آتے ہیں وہیں یہ جاگتی ہے اور اپنے ہی پیدا کردہ بغل بچوں کو مار کر مونچھوں کو تاو دیتی بھی پھرتی ہے۔

تیسری قسم کی غیرت کا تصور عورت کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ غیرت عورت پر اوپر بیان کی گئی پہلی دو غیرتوں کی اقسام کو مد نظر رکھتے ہوئے طاقت اور محروم ارمانوں کی بھڑاس نکالنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ عورت کو باندی بنا کر ایک کمرے یا گھر میں قید کر کے یہ غیرت خوب لطف اندوز ہوتی ہے۔ اپنے جنسی یا شہوانی ارمانوں کی تکمیل کے وقت البتہ یہ غیرت بھی اکثر سوئی پائی جاتی ہے۔ بچیوں کو مذہب یا روایات کا پابند بنا کر ان کی بنیادی جبلتوں پر پابندی لگانے سے لے کر ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی تک روک کر یہ غیرت اکڑتی پھرتی ہے لیکن خواتین پر تیزاب پھینکنے جیسے گھناؤنے فعل سے لیکر ان کے جسمانی و ذہنی استحصال کے وقت یہ غیرت بھنگ پی کر سوتی رہتی ہے۔ قرآن شریف سے بچیوں کی شادی کر کے جائیداد خاندان میں رکھنے کی لالچ ہو یا کسی بھی مرد کے فعل کی سزا کی صورت میں اپنی بچیوں کو بدلے میں جانوروں کی طرح دشمنوں کے حوالے کرنا ،یہ غیرت ان رسومات کی ادئیگی کے وقت بھی آنکھیں موند کر خراٹے بھرتی پھرتی ہے۔ یہ غیرت لڑکے کی کسی لڑکی کو پسند کرنے کی صورت میں چھاتی پھلا لیتی ہے لیکن اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کو پسند کر بیٹھے تو اسے جوش آ جاتا ہے اور نتیجتاََ  لڑکی یا عورت کی جان لے کر ہی اس غیرت کو تسکین ملتی ہے۔

ان تینوں غیرتوں میں جو قدر مشترکہ ہے وہ یہ ہے کہ غیرت کی یہ تینوں اقسام اپنے سامنے کمزور فریق کو دیکھ کر ہی جاگتی ہیں اور اگر مد مقابل ٹکر کا ہو یا تگڑا ہو تو یہ تینوں غیرتیں آنکھیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔ پہلی دو غیرتوں کی اقسام کے استعمال کا ٹھیکا مذہبی و سیاسی جماعتوں اور دفاعی اداروں کے پاس ہے جب کہ تیسری قسم کی غیرت کے استعمال کا پرمٹ معاشرے میں موجود تمام مرد حضرات کیلئے ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پہلی دونوں غیرت کی اقسام یعنی امت مسلمہ کی غیرت اور قومی غیرت، خواتین کے قابل استعمال بھی ہیں اور اگر خواتین چاہیں تو بوقت ضرورت مذہب، سیاست یا قومی دفاع کے نام پر یہ دونوں غیرتیں استعمال کر سکتی ہیں لیکن تیسری قسم کی غیرت تک ان کی رسائی نہیں۔

ویسے تو ہمیں لفظ “غیرت” کے معنی یا تو لغت میں اچھی طرح سے ڈھونڈ کر عوام کو بتانے کی اشد ضرورت ہے ،کہ دیگر کئی اصطلاحات کی طرح ہم اس لفظ غیرت کی اصطلاح کو بھی سمجھنے سے قاصر ہی ہیں لیکن اگر پالیسی سازوں کا دل ابھی نہیں بھرا تو کم سے کم پھر ان تینوں اقسام کی “چالاک” غیرتوں کی ایک نئی تشریح ہی لغت میں شامل کر دینی چاہیے۔ جس کے مطابق غیرت اس غصے والی کیفیت کا نام ہے جو کمزور اور بے بس فریق کو سامنے دیکھ کر طاری ہوتی ہے بصورت دیگر اس کا استعمال شجر ممنوعہ کی طرح منع ہے کہ یہ مذہبی ، سیاسی،  دفاعی آور شخصی “مفادات ” کو سخت اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خیر وزیر اعظم نواز شریف کا اس تیسری قسم کی غیرت دوارے بیان یقینا ایک خوش آئیند امر ہے اور ہمیں شرمین عبید چنائے کا شکریہ ادا کرنا ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے جو برسوں سے خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے میں کوشاں ہیں ۔ان کی ڈاکیومینٹری نے کم سے کم غیرت کے نام پر قتل جیسے حساس موضوع پر وزیر اعظم پاکستان کے لبوں سے چند جملے تو نکلوا ہی دیئے۔ لگے ہاتھوں اگر شرمین عبید چنائے بقیہ دو غیرتوں کی اقسام پر بھی کوئی ڈاکیومینٹری بنا ڈالیں تو یقینا ان پر بھی پالیسی ساز کچھ توجہ کرنے کی زحمت گوارا کر ہی لیں گے۔

  • SN

    Brave woman is this lady Chinoy is , who brings the horrible story of this crime against humanity to the attention of all. . It is a long long struggle that will be ultimately won by women.
    Bravo

  • SN

    TEST 32002x