حقوق نسواں کا بل اور سیاپا

تحریر: عماد ظفر

women
خواتین پر تشدد کے روک تھام کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں بل کیا پیش ہوا گویا پورے ملک میں اک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ بڑے بڑے علما اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے اس بل کو این جی اوز اور سول سوسائٹی کی سازش قرار دیا۔ خود حکمران جماعت کے ساتھ اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمن نے بھی اس بل کی مخالفت میں خوب بیانات داغے۔ یہ مخالفت اور اس حقوق نسواں کے بل کو لے کر جو احمقانہ قسم کے دلائل مذہبی ٹھیکیدار دیتے ہیں ان کو دیکھ اور سن کر تعجب ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ کیوں معاشرے کو دنیا سے صدیوں پیچھے رکھنا چاہتے ہیں۔ خیر ان سے زیادہ تعجب ان حضرات پر ہوتا ہے جو ان علمائے کرام اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی کہی ہوئی ہر بات کو حرف آخر مانتے ہوئے ان پر صدق دل سے ایمان لے آتے ہیں۔

اگر کوئی ایسے حضرات سے دلائل اور منطق کی بات کرتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کرے کہ خواتین کو بھی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا پورا اختیار ہے تو فورا مذہب کی آڑ لے لی جاتی ہے اور اگر اس پر بھی کوئی بات نہ بنے تو ایک روایتی جملہ سننے کو اکثر ملتا ہے کہ “خدا ہدایت دے”۔ یعنی ان گروہوں کے نزدیک عقل منطق اور دلیل کا استعمال صرف اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب ان کے فائدے کی بات ہو۔ ایک اور بات جس کو لے کر دہائیوں سے مذہبی چورن فروش عوام کو اپنا چورن بیچتے ہی آ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ دین کو عام آدمی نہیں سمجھ سکتا یعنی دوسرے لفظوں میں دین کی فہم صرف یہی افراد رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ بنتا ہے کہ مذاہب جو آسمانوں سے اتارے جاتے ہیں کیا وہ عام انسانوں کیلئے نہیں اتارے جاتے۔

آوٹ سورسنگ کارپوریٹ کمپنیاں کرتی ہیں تا کہ لاگت کم کر کے منافع کمایا جا سکے۔ مذہب کی آوٹ سورسنگ کا تصور کم سے کم ہمارے جیسے کم فہم لوگوں کی سمجھ میں تو ہرگز نہیں آتا۔ فہم میں تو یہ بات بھی نہیں آتی کہ خواتین پر تشدد کی روک تھام سے مذہب کو کیا خطرہ ہے یا بقول مولانا فضل الرحمن صاحب ہمارے ہاں مشترکہ خاندان یا پھر شادی کے بعد خاندان کے اسٹرکچر کو ایسے قوانین کیسے کمزور کر سکتے ہیں۔ کیونکہ نفسیات اور انسانی رویوں کی تحقیق میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رشتے زور زبردستی قائم نہیں رہ سکتے ۔ ہمارے ہاں کیونکہ اکثر بچیوں کو ڈھور ڈنگر سمجھ کر رشتہ ازدواج کی کھونٹی سے منسلک کر دیا جاتا ہے بلکہ انہیں یہ پیغام بھی دے دیا جاتا ہے کہ اب سسرال سے بس دم نکلنے کے بعد ہی آنا۔ نتیجتاََ بچیاں شادی کے بعد اس رشتے کو نبھاتے نبھاتے اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مر جاتی ہیں۔ شوہر ان پر ہاتھ اٹھائے ان کی جسمانی و ذہنی تذلیل کرے ان کو وقت نہ دے یا پھر دوسری عورتوں کے ساتھ گلچھڑے اڑاتا پھرے، ان بچیوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی کبھی اپنے ماں باپ کی کبھی بہن بھائیوں کی ایک “خود ساختہ غیرت” کی لاج رکھتے ہوئے چپ چاپ ہر ستم کو برداشت کر کے اپنے شوہر کے ساتھ جبراََ زندگی گزارنا ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ طلاق کا مطلب ہمارے معاشرے میں کلنک کا ایک ٹیکہ ہے جو عورت کی پیشانی پر ہی سجتا ہے اور اسے مشکوک کیریکٹر یا صابر عورت نہ ہونے کے طعنے ہمہ وقت ملتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب مرد طلاقوں پر طلاق دینے کے باوجود پارسا ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ یعنی عورت پر ایک طرح سے لازم کر دیا جاتا ہے کہ تشدد کی بدترین اقسام سے لیکر ہر طرح کے جبر کو صرف اس نے ہی برداشت کرنا ہے۔ کمال حیرت کی بات ہے کہ اس کو عقائد اور مذہب سے جوڑ کر سیاست اور مذہبی دوکانداری خوب چمکائی جاتی ہے۔ اگر تو حقوق نسواں بل کی مخالفت کرنے والے ایک کمزور بے بس بچی کی زندگی کو جہنم بنانے کو ہمارا فیملی اسٹرکچر گردانتے ہیں تو ہم جیسے نالائق ایسے فیملی اسٹرکچر کو فیملی نہیں بلکہ “شہوانی” اسٹرکچر مانتے ہیں۔ جو محض جنسی لذت اور بچے پیدا کرنے کے گرد ہی گھومتا رہتا ہے۔ ایسے فیملی کے تصور کو مغربی ممالک سے بہتر تصور کرنا اور ان کے ہاں ایسے قوانین کی وجہ سے طلاقوں کی شرح میں اضافہ جیسے دلائل بھی عجیب و غریب ہیِں۔ ترقی یافتہ ممالک شخصی آزادیوں اور بنا کسی تفریق کے مرد اور عورت کو یکساں طور پر زندگی بنا کسی سماجی یا روایات کے دباو کے، گزارنے کی ضمانت دینے کی کوشش کرتے ہیں اس لیئے وہاں عورت کسی بھی قسم کے زہنی و جسمانی تشدد یا دباو کے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ ہمارے ہاں اگر آپ کبھی شادی کے جبری رشتوں پر تحقیق کریں تو انتہائی تلخ حقائق سامنے آئیں گے۔ اور پھر جس فحاشی کا راگ ہمہ وقت مغرب دوارے الاپا جاتا ہے وہ راگ الاپنے کی سکت باقی نہیں بچے گی۔

آپ سماجی دباو روایات کے بوجھ تلے عورت کو رشتہ سے باندھ کر تو رکھ سکتے ہیں لیکن خود سوچیئے کہ ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار عورت کیا ڈپریشن اور فرسٹریشن نکالنے کے دوسرے طریقے نہیں ڈھونڈے گی۔ شادی ایک بندھن ہے، دو انسانوں کے مابین زندگی گزارنے کا ایک معائدہ ہے اور اگر کسی بھی فریق کو لگے کہ یہ بندھن یا معائدہ کسی بھی وجہ سے قابل قبول نہیں تو اس کو حق حاصل ہے کہ بجائے چوری چھپے کہیں اور سے نفسیاتی یا جنسی تسکین پانے کے اس معاہدے کو احسن طریقے سے ختم کر دے۔ خواتین پر تشدد محض اس ایک رشتے تک ہی محدود نہیں بلکہ کبھی بیٹی اور کبھی بہن کی صورت میں بھی اسے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ اکثر اوقات بننا پڑتا ہے۔ کبھی تعلیم کے مواقع نہ ملنے کی صورت میں تو کبھی پسند کی شادی پر تشدد سے لے کر جان گنوانے تک لاتعداد مراحل پر اسے زیادتی اور مختلف قسم کے ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر پنجاب حکومت نے قانون سازی کر کے تشدد کی کچھ اقسام کو روکنے کی کوشش کی ہے تو اس پر شور کیسا؟ کیا ہم اپنی بچیوں کو زندہ لاشیں بنا کر “مرد” یا “غیرت مند” ہونے کا سرٹیفیکیٹ معاشرے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یا پھر سیاسی و مذہبی دکانیں چمکانے کیلئے اپنی بچیوں کو جینے کا حق دینا ہی نہیں چاہتے۔

ثقافت یا سماجی روایات انسانی شعور کی ترقی اور زمانے کی چال ڈھال کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے ہی قائم و دائم رہ سکتی ہیں۔ رہی بات این جی اوز یا سول سوسائٹی کی تو مذہبی ٹھیکیداروں کو اصل بغض ان سے یہ ہے کہ آہستہ آہستہ یہ تنظیمیں عوام اور پالیسی سازوں کی ذہن سازی کر کے بنیادی حقوق تک عوام کی رسائی ممکن بنا دیتی ہیں۔ اور جب معاشرے کو اپنے حقوق کا اچھی طرح سے ادراک ہو جائے تو پھر وہاں کسی بھی قسم کے مذہبی آؤٹ سورسنگ اداروں اور تنظیموں کی گنجائش نہیں رہتی۔ کیونکہ دین کے نام پر سیاست یا ٹھیکیداری کرنے والوں کی انڈسٹری کھربوں روپے کی اندڈسٹری ہے جس کا کہ کوئی خاص آڈٹ بھی نہیں اس لیئے مفت کی اس عیاشی کو ختم ہوتا دیکھ کر یہ افراد عجیب و غریب فرضی سازشیں گھڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

مذاہب مرد اور خواتین دونوں کیلئے اتارے گئے ہیں یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ آسمانوں پر بیٹھا رب جو کہ سب سے بڑا منصف ہے وہ مرد کو عورتوں کے ساتھ زور زبردستی یا جبر کی اجازت دے دے یا عورتوں سے ان کی زندگی کے فیصلے چھین لے۔ ویسے مزہب اور معاشرتی روایات کا درس دیتے حضرات اکثر مذہب اور ثقافت میں فرق کرنا بھی بھول جاتے ہیں۔ اور تو اور این جی اوز کی بیرونی فنڈنگ پر دہائیاں دیتے ڈالر سپانسرڈ امریکی تعاون پر مبنی افغان سپانسرڈ جہاد بھی انہیں یاد نہیں رہتا۔ اور جن کفار ممالک کی سازش اس حقوق نسواں بل کو یہ لوگ قرار دیتے ہیں انہی ملکوں کے ایمبیسڈروں سےملاقاتوں میں انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلواتے ہیں اور چھاتی پھلا کر تصاویر بھی کھنچواتے ہیں۔ ہماری آبادی کا نصف سے زائد حصہ خواتین پر مشتمل ہے انہیں جبر و تشدد یا ذہنی دباو کا شکار بنا کر معاشرے میں ترقی تو دور کی بات ایک صحت مند اور متوازن معاشرے کا خواب دیکھنا بھی نا ممکن ہے۔ اس لیئے مذہب اور روایات کی ہدایات کی آڑ میں چورن اور منجن بیچنے والے ٹولے کو کم سے کم اب ” ہدایت” اور “روایات” کے منجن کے بجائے کسی اور چورن کا انتخاب کر ہی لینا چاہیئے۔ کہ اب ان کا منجن اور چورن یہاں بکنا ممکن نہیں ہے۔