مصطفی کمال ایک اور ناکام سکرپٹ

تحریر: عماد ظفر

mustafa

مصطفی کمال کی اچانک واپسی اور دھواں دھار پریس کانفرنس نے ملکی سیاست میں ایک نیا تلاطم برپا کر دیا۔ وہ تمام خبریں جو متحدہ قومی مومنٹ کو توڑ کر ایک نئی مہاجروں کی جماعت بنانے کے بارے میں گردش کر رہی تھیں سچ ثابت ہوتی دکھائی دیں۔ اور ایک بات جو اس پریس کانفرنس سے طے ہوئی وہ یہ ہے کہ پس پشت قوتوں نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ کچھ دہائیوں قبل آفاق احمد کو پس پشت قوتوں نے ساتھ ملا کر ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے ایک جماعت لانچ کی تھی اور اس کا انجام پھر سب نے دیکھا۔ وہ جماعت سیاسی سطح پر تو عوام میں کوئی خاص مقبولیت نہ حاصل کر سکی لیکن شہر قائد میں اس نے خون کی ندیاں بہا دیں۔ الطاف حسین آور آفاق احمد کے جھگڑے میں ہزارہا سیاسی کارکن قتل ہوئے اور نتیجہ صرف یہ نکلا کہ ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ لانڈھی سے آفاق احمد جیتنے میں کامیاب رہے۔

اب پھر سے یہ ناکام فارمولا اپنا کر مصطفی کمال کو ایک نئی حقیقی بنانے کا جو ٹاسک دیا گیا ہے اس کے نتیجے کے بارے میں اندازہ لگانا ہرچند مشکل نہیں ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں ایسٹیبلیشمنٹ اور پس پشت قوتوں کے دم پر اپنا وجود قایم رکھ سکتیں تو ایم کیو ایم حقیقی یا مسلم لیگ قاف آج عوام میں زندہ ہوتیں۔ سیاست ایک مختلف انداز اور طریقے رکھتی ہے آپ زور زبردستی کسی بھی سیاسی جماعت کو نہ تو توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی جماعت کو راتوں رات عوامی سطح پر مقبول بنا سکتے ہیں۔ الطاف حسین کی سیاست سے لاکھ اختاف ہو سکتے ہیں لیکن کوئی بھی ذی شعور شخص الطاف حسین کی کراچی اور حیدرآباد میں عوام کی والہانہ سپورٹ اور محبت سے انکار نہیں کر سکتا۔ یہ کہنا کہ الطاف حسین خوف کے بل پر اپنی جماعت چلاتے ہیں انتہائی لغو قسم کا پراپیگنڈہ ہے اور بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے نتائج نے یہ بات ثابت کر دی ہوئی ہے کہ الطاف حسین آج بھی عوام میں مقبول ہیں۔

مصطفی کمال ایک اچھی شہرت کے حامل انسان ہیں اور کراچی کے میئر کے طور پر ان کی خدمات بھی قابل تعریف ہیں لیکن سیاسی بساط پر وہ صرف ایک مہرہ ہیں جسے پش پشت قوتیں قربان کر کے وقتی طور پر کچھ مقاصد تو حاصل کر سکتی ہیں لیکن بادشاہ کو مات نہیں دے سکتیں۔ مصطفی کمال غالبا ایک اور آفاق احمد ثابت ہوں گے۔ اور ایک بار پھر سے سیاسی کارکنوں کی بوری بند لاشیں ملنے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ یہاں پس پشت قوتوں کو اس امر کے ادراک کی اشد ضرورت ہے کہ متحدہ قومی مومنٹ نے پہلے بھی اس قسم کی سازشوں کاـمقابلہ کیا ہوا ہے۔ الطاف حسین سیاسی سوچ کا نام ہے جسے کسی بھی سازش یا ہتھکنڈے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی سیاستدانوں کا کام سیاستدان ہی کر سکتے ہیں دفاعی ادارے نہیں۔ الطاف حسین کو قانون کے کٹہرے میں لانے سے پہلے ضیاالحق سے لیکر مشرف تک تمام آمر اور سیاسی وزرائے اعظموں کو بھی قانون کی گرفت میں لانا پڑے گا کہ متحدہ کی بنیاد رکھنے سے لے کر پیپلز پارٹی کے پچھلے دور حکومت تک متحدہ کو سرکاری اور پس پشت طاقتوں کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔

جب کراچی میں لسانی سیاست کی بنیاد ڈالتے ہوئے پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے متحدہ کو لانچ کیا گیا تھا تو عسکری حلقے اس وقت بھی الطاف حسین کی سیاسی سوچ کو سمجھنے میں ناکام رہے تھے اور آج بھی یوں لگتا ہے کہ وہ الطاف حسین کی سوچ کو پڑھنے میں ناکام ہیں۔الطاف حسین کی ساری طاقت کراچی اور حیدرآباد میں بسنے والے لاکھوں اردو بولنے والے مہاجر ہیں اور الطاف حسین نے انتہائی کامیابی کے ساتھ مہاجروں کو یہ بات ذہن نشین کروا دی ہوئی ہے کہ وہی مہاجروں کے سیاسی نجات دہندہ ہیں اور ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے بل پر انہوں نے کراچی اور حیدرآباد میں اپنے سپورٹرز کے مسائل حل کیئے ہیں۔ لہذا ان کے یا ان کی تنظیم کے مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باقاعدہ شواہد کے باوجود مہاجر طبقہ آج بھی الطاف حسین اور متحدہ کو ہی اپنا ترجمان سمجھتا ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن کو بھی یہ طبقہ اپنے خلاف ریاستی جبر سمجھتا ہے۔ ایسے موقع پر مصطفی کمال کو لانچ کرنا ایک انتہائی بوگس سیاسی چال ہے۔ اگر الطاف حسین کو یا ان کی جماعت کو آج کی تاریخ تک میڈیا ٹرائل کے باوجود دیوار سے نہیں لگایا جا سکا تو مصطفی کمال بھی کوئی “معجزہ” دکھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ الٹا اس حرکت سے الطاف حسین اور ان کی جماعت اپنے سپورٹرز میں اور مقبول ہو گی۔

اگر کراچی میں امن کا قیام مقصود ہے تو الطاف حسین اور ان کی جماعت کو ایک سیاسی حقیقت تسلیم کرتے ہوئے ان سے مذاکرات کے ذریعہ دیرپا امن حاصل ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ کراچی آپریشن کے بعد متحدہ نے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی چھوڑی ہے اور اپنے طریقہ سیاست کو بھی بہتر بنایا ہے لیکن کراچی میں محض متحدہ نہیں بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی آبزرویشن کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے مسلح اور جرائم پیشہ ونگ موجود ہیں تو پھر محض متحدہ پر ہی سارا نزلہ کیوں گرایا جاتا ہے۔ ان عوامل کو کیوں نہیں دیکھا جاتا اور ان کے تدارک کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی جن کی وجہ سے متحدہ جیسی پڑھے لکھے مڈل کلاس افراد کی جماعت جرائم کی طرف راغب ہوتی ہے۔ دوسری اہم بات عسکری حلقوں کی شہر قائد میں بار بار اسی ناکام پالیسی کا نفاذ کرنا ہے جس کا آج تک کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ آپریشن تو کراچی میں متعدد بار ہو چکے ہیں لیکن نہ تو جرائم کا خاتمہ ممکن ہوا آور نہ ہہ متحدہ قومی مومنٹ کو سیاسی طور پر کمزور کیا جا سکا۔

عسکری حلقوں کو یہ سادہ سی بات سمجھ لینی چاہیے کہ سیاست میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ شیخ مجیب کو غدار قرار دلوا کر بھی اسے یا اس کی جماعت کو مٹایا نہیں جا سکا تھا بلکہ خود مشرقی پاکستان نقشے سے مٹ گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو، اکبر بگٹی باچا خان یا بالاچ مری کو بھی مار کر نہ تو ان کی جماعتوں کو مارا جا سکا اور نہ ہی ان کے نظریات کو۔ الطاف حسین برطانیہ میں شاید اپنے جرائم کی سزا ایک نہ ایک دن ضرور بھگتیں گے لیکن ان کے سیاسی نظریے کو جبر یا منفی ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جا سکے گا۔ مہاجر کمیونٹی کو جب تک یہ احساس نہیں دلوایا جائے گا کہ وہ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے کہ پاکستان میں بسنے والے دیگر افراد، تب تک لسانی بنیادوں پر ووٹ ڈالنے کا عمل رکوایا نہیں جا سکے گا ۔مصطفی کمال ایک چلے هوئے کارتوس کی مانند ہیـں جو کچھ افراد اپنے ساتھ لگا کر آفاق حسین کی مانند شاید کوئی ایک عدد صوبائی اسمبلی کی نشست اپنے نام کر لیں لیکن اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر پائیں گے۔ اگر پس پشت قوتیں سیاسی معاملات کا حل سیاستدانوں کو ہی نکالنے دیں تو دیر سے ہی سہی لیکن کبھی نہ کبھی شہر قائد کے مسائل کا حل بھی نکل آئے گا ۔اور دیرپا امن بھی قائم ہو جائے گا۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سکرپٹ رائٹرز اب بار بار کے ناکام سکرپٹ دوبارہ سے لکھنے کے بجائے کچھ عرصہ سکرپٹ لکھنا ترک کر دیں اور اس امر کو جان لیں کہ پس پردہ لکھے گئے سکرپٹ سیاسی پردہ سکرین پر اب قابل قبول نہیں رہے۔