سرتاج عزیز کے پتے اور بے ثمر ورزش

تحریر: ملک عمید

sartaj-aziz
ہندوستان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ پاکستانی طالبان پر ان کا اثر و رسوخ ہے، ساتھ ہی موصوف نے بین الاقوامی ماہرین کے سامنے اعتراف کر لیا کہ ہندوستان پاکستانی طالبان کو پناہ دیتا ہے، ان کے لیڈر ہندوستان میں آتے جاتے ہیں، ان کے خاندان وہیں پر ہیں، ہسپتال کی سہولیات بھی میسر ہیں اور وہ جب چاہیں انہیں میز پر بات چیت کے لیے لانے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں، اب جو دینا ہے وہ تو پاکستانی حکومت نے دینا ہے۔ اس میں ہندوستان کو دوش نہ دیا جائے۔ چار دن سے پاکستانی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا کے رکھا ہے۔ دنیا ہلا کر رکھ دی ہے اور مودی سرکار کے عزائم ساری دنیا پر آشکار کر دیے ہیں۔ مودی سرکار بھی پریشان ہے کہ اس کے وزیر کے منہ سے یہ بات نکل گئی ہے اور اب کیا کیا جائے۔ بین الاقوامی میڈیا ہندوستان کے پرخچے اڑا رہا ہے، لعن طعن ہو رہی ہے کہ ان لوگوں کے لیے جو محفوظ جنتیں اپنے ملک میں ہندوستان نے بنائی تھیں ان کی بدولت اس کے اپنے شہری بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں، مگر یہ اپنے سٹریٹجک کھیل سے باز نہ آئے۔

اس تحریر کو سننے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:

صاحبو! یہاں پر آ کر میں مزید کہانی گول نہیں کر سکتا، دراصل کہانی میں ‘ٹوسٹ’ ہے، یہاں ہندوستان کی بجائے پاکستان، پاکستانی طالبان کی بجائے افغان طالبان اور پاکستانی حکومت کی بجائے افغان حکومت پڑھا جائے تو بات صحیح سے سمجھ آتی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہمارے تقریباً وزیر خارجہ سرتاج عزیز اپنے بھول پن میں یا پہلے سے طے شدہ لائحہ عمل کے تحت امریکا کے اپنے دورے کے دوران یہ اقرار کر چکے ہیں کہ افغان طالبان کی لیڈرشپ پاکستان میں آتی جاتی ہے، ان کے خاندان یہیں ہیں، ہسپتال کی سہولیات بھی میسر ہیں اور وہ جب چاہیں انہیں میز پر بات چیت کے لیے لانے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں بلکہ آج کل تھوڑی نقل و حرکت کو روک کر یعنی بازو مروڑ کر ہم نے کہا بھی ہے کہ یہ کیا کہ ہم تمہیں یہ سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جن کی بدولت ہم ساری دنیا میں بدنام بھی ہوئے، سو اب میز پر آؤ اور بات کرو، اب آگے تو جناب افغان حکومت نے دینا ہے، ہمارا کام تو بس اتنا سا ہی ہے۔
اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا
اس بیان پر پاکستانی میڈیا نے خاموشی اختیار کی ہے اور کسی نے اپنی حکومت سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کی کہ کیا یہ وہ سودے بازی تھی جس کی بدولت پاکستان میں ان کے لیے محفوظ جنتیں بنائی گئیں، جدھر لاقانونیت کی بدولت پاکستانی طالبان نے بھی پڑاؤ اختیار کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ اس بھیانک کھیل کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اگر اوپر کی دی گئی صورتحال ہوتی تو ہم دیکھتے کہ ہر ٹاک شو اسی موضوع پر گھومتا کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ سب ہندوستان کروا رہا ہے اور یہ کہ فلاں اینکر نے فلاں تاریخ پر یہ خبر بریک کی تھی کہ پاکستانی طالبان کے ختنے نہیں ہوئے۔
دراصل جانتے سب ہیں، مگر بولتا کوئی نہیں کے مصداق اس انکشاف پر کسی کو بھی حیرانی نہیں ہوئی، بس کُھل کے میڈیا میں حکومتی نمائندے نے باضابطہ طور پر پہلی بار مان لیا کہ دوسرے ملک میں جو لوگ متشدد کاروائیاں کر رہے ہیں ان کو محفوظ مقامات ہم دیتے رہے ہیں اور میں ساتھ علاج کی سہولیات بھی۔ افغانستان میں جو End game چل رہی ہے اور اس کے سلسلے میں چار ملکی مذاکرات چل رہے ہیں یا یوں کہیے کہ افغانستان میں طاقت کی بندر بانٹ ہو رہی ہے نیز امریکا میں بھی اسی سلسلے میں پاک امریکا سٹریٹجک مذاکرات چل رہے ہیں اس دوران میں وہ سب جو دراصل سب کو معلوم ہے اور میز پر جو پتے پھینکے جا رہے ہیں ان کی کچھ نمائش عام کی گئی ہے۔
اس کے بعد آئی ایس پی آر کی پشاور کے سکول اور مردان یونیورسٹی پر حملے کے بعد کی گئیں پریس کانفرنسوں کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے جن میں یہ الزام دہرایا گیا کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ آخر جب آپ دوسرے ملک میں شرمناک حد تک در اندازی کریں گے تو کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ آپ کے ملک کی سرحدوں کے تقدس کا کوئی دوسرا خیال رکھے گا؟ جب آپ اپنے بھیانک کھیل کی بدولت دوسرے ملک میں مرنے والے لوگوں کی پرواہ نہیں رکھیں گے تو دوسروں کے لیے بھی آپ کے عوام کا خون گدلے پانی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
ریاست کو دہشت گرد بیانیہ سے ہٹ کر جو راہ متعین کرنی ہے اور جس کا ڈھنڈورا ہم گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے ساری دنیا میں پیٹ رہے ہیں، اس میں اگر دہشت گردی کی تعریف ڈیورنڈ لائن کے شرقی جانب مختلف اور غربی جانب کچھ اور ہوگی تو ایسی راہ اپنی شروعات میں ہی ٹیڑھی ہے اور یہ کسی منزل کو نہیں جاتی۔ بے ثمر ورزش ہے، کرتے جائیے!