مریم نواز مسلم لیگ نون کا نیا چہرہ‎

تحریر: عماد ظفر

maryum
حکمران جماعت کی دھڑے بندیاں اور وفاقی وزراء کی آپس میں سرد جنگ آج کل منظر عام پر ہے ۔کسی بھی بڑی جماعت میں دھڑے بندیاں یا اختلافات کوئی نہیں بات نہیں لیکن جب اختلافات کھل کر سامنے آجائیں وزراء اور رہنما ٹی وی چینلز اور اخبارات پر ایک دوسرے کے خلاف بیان داغیں تو بہرحال اس سے سیاسی جماعت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔یہ دھڑے بندیاں انتخابی نتائج پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں جسکا نتیجہ نون لیگ نے 2013 کے عام انتخابات میں راولپنڈی میں اور حال ہی میں لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں صوبائی نشست کی ہار کی صورت میں دیکھا ۔

اسی طرح خواجہ آصف اور چوہدری نثار اور احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کے اختلافات بھی سب کے سامنے ہیں جبکہ فیصل آباد میں چوہدری شیر علی اور رانا ثناالله ایک دوسرے کے خلاف بیان داغتے نظر آتے ہیں ۔ شریف خاندان نے وطن واپسی کے بعد حمزہ شہباز کو جانشین کے طور پر تیار کرنا شروع کیا تھا اور عام انتخابات 2013 کے بعد حمزہ کو حلقوں کے امیدواروں کے انتخاب اور ان کی مہم کا سرپرست مقرر کیا گیا ۔لیکن حمزہ شہباز یہ ذمہ داری سنبھالنے میں کچھ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ان کی سیاست میں تنقید برداشت نہ کرنے کا حوصلہ اور محض جزباتی بنیادوں پر حلقوں کے امیدواروں کے چناو نے مسلم لیگ نون کے اندر دھڑے بندیوں میں اہم کردار ادا کیا ۔لاہور میں ہارنے والے صوبائی امیدوارمحسن لطیف کو حمزہ شہباز ٹکٹ ہی نہیں دینا جا رہے تھے اور نہ ہی ان کے حامیوں کا کوئی کام کرواتے تھے۔ گو حمزہ نے انتہائی محنت کے ساتھ ہر مشکل وقت میں اپنی جماعت کے لیئے خدمات سر انجام دیں لیکن ان کی شخصیت میں وہ کرشمہ اور اپیل نظر نہ آ سکے جو کہ ایک عوامی لیڈر بننے کے لیئے ضروری ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ پنجاب کی حد تک اپنی جماعت کے آپس کے اختلافات دور کر سکے۔ ایک لیڈر ہمیشہ اختلافات کو دور کرنے کے لیئے نیوٹرل رہتا ہے تا کہ لڑائی جھگڑوں کو نمٹایا جا سکے لیکن حمزہ نے بجائے نیوٹرل بننے کے فریق بننا پسند کیا چنانچہ ان کی جماعت آج دھڑے بندیوں اور گروپ بندیوں کا شکار نظر آرہی ہے۔

ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے شریف خاندان نے ایک طویل مشاورت کے بعد نواز شریف صاحب کی صاحبزادی کو بطور میاں صاحب کے جانشین سیاسی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہے.میاں صاحب کے دورہ امریکہ میں بھی مریم نواز مشعل اوبامہ کے خصوصی دعوت نامے پر ان کے ہمراہ موجود رہیں اور امریکہ میں انہیں پاکستان میں تعلیمی ریفارمزـکے کام کی اہم ذمہ داری سونپی گئی. دورہ امریکہ کے بعد پارٹی کے تنظیمی امور مریم صاحبہ کے حوالے باقاعدہ طور پر کر دیئے جاییں گے اور فیصل آباد میں شیر علی صاحب اور رانا ثناالله  کے درمیان صلح کروانے کا ٹاسک بھی انہی کو سونپا جائے گا۔

مریم نواز کا نون لیگ کے رہنما کے طور پر آنا اس جماعت کے لیئے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے ۔اپنی پرکشش شخصیت ادبی ذوق اور حس مزاح کی وجہ سے وہ نوجوان طبقے میں بھی کافی پاپولر ہیں اور تحریک انصاف کی نوجوانواں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کو مریم صاحبہ کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ مریم نواز کا تنظیم میں امور کی بھاگ دوڑ سنبھالنا مسلم لیگ نون کے تشخص کیلئے بھی اچھا سمجھا جائے گا اور یقینا مکمل معنوں میں ایک متوازن لبرل پارٹی کا تشخص بھی قائم ہو گا۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی مریم کی وجہ سے نون لیگ کو سپورٹ کرنے کے ساتھ ووٹ دینے کا بھی سوچے گی۔ مریم نواز نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے پراپیگینڈے کو انتہائی کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے ایک مربوط سوشل میڈیا ونگ نون لیگ میں قائم کیا اور پھر اسے جدید خطوط پر استوار بھی کیا ۔یوتھ لون سکیم کی سرپرست اعلی کے طور پر بھی مریم نے انتہائی مستعدی اور ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دیئے ۔مریم نواز میں جس خصوصیت کو دیکھتے ہوئے ان کو میاں صاحب کا جانشین مقرر کیا جا رہا ہے وہ ان کی صبر و تحمل اور برداشت سے مسائل کے حل کیلیے کوششیں اور بہتر مینیجمینٹ کی صلاحیتیں ہیں۔

مریم نواز کا پہلا امتحان اب پارٹی کے اندر موجود سیاسی دھڑے بندیوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو نون لیگ کی جانب راغب کرنا اور نئے خون کو جماعت میں شامل کرنا ہو گا ۔مسلم لیگ نون کے بزرگ رہنما یقینا قابل اور ذہین سیاستدان ہیں لیکن بڑھتی عمر اور دور جدید میں بالخصوص شہری علاقوں کے نوجوانوں سے ان کا ایک فاصلہ موجود ہے جو مریم نواز انتہائی آرام سے دور کر سکتی ہیں ۔اپنے وسیع مطالعہ کی عادت اور ادبی ذوق کی بدولت وہ ایک انٹیلیکچوہل لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتی ہیں ۔مریم صاحبہ کی ایک اور خاصیت ان کا مسلسل پارٹی کے وورکرز کے ساتھ رابطے میں رہنا اور انہیں عزت و تقریم دینا ہے جو کبھی کبھی بی بی شہید کی یاد دلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مریم نواز شریف اپنی جماعت کے تقریبا تمام رہنماوں میں مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی قابلیت کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ۔ یہ فیصلہ مسلم لیگ نون کی قیادت بہت پہلے کر لیتی تو اس کے مثبت اثرات اس وقت تک نمودار ہو گئے ہوتے۔ مریم نواز کیلئے سب سے بڑا چیلنج اپنی جماعت میں سے دھڑے بندیوں کے خاتمے کے علاوہ ان عناصر کو پارٹی سے نکالنا بھی ہے جنہوں نے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے ۔انہیں بین الاقوامی دنیا میں پاکستان مسلم لیگ نون کا نیا اور لبرل چہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انگلیش لیٹریچر میں ماسٹر کے بعد وہ اس وقت پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی بھی کر رہی ہیں ۔ایک سلجھی ہوئی اور پڑھی لکھی خاتون ہونے کے ناطے سے ان سے توقعات بھی بہت زیادہ ہیں ۔پاکستان مسلم لیگ نون کی پالیسیوں میں وہ کتنی مثبت تبدیلیاں لے کر آرہی ہیں اس کا اندازہ آینده آنے والے کچھ دنوں میں ہو جائے گا ۔مریم اپنی جماعت کے کارکنوں سے اگر ایسا رشتہ بنانے میں کامیاب ہو جاہیں جیسا بی بی کا اپنی جماعت کے کارکنوں سے تھا تو پھر بہت حد تک نہ صرف وہ مسلم لیگ نون کو دیگر صوبوں میں بھی فعال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی بلکہ بہت سے لبرل اور داہیں بازو کے ووٹرز کی حمایت بھی اپنی جماعت کے لیئے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاییں گی ۔مریم نواز کیونکہ نوجوان ہیں اور بدلتے ہوئے سیاسی ٹرینڈز پر گہری نگاہ رکھتی ہیں اسـں لیئے محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ بتدریج اپنی جماعت میں نوجوان کارکنوں کو بھی آگے آنے کا موقع دیں گی ۔ یہ تمام اقدامات ایک ایسی جماعت میں کرنا جو بنیادی طور پر باہیں بازو اور پرانی روایت کی سیاست کرنے کے طور پر جانی جاتی ہے یقینا ان کے لیئے آسان نہیں ہو گا ۔یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے میں انہیں پارٹی کی تنظیم سازی سپرد کی جا رہی ہے تا کہ وہ نون لیگ میں اپنی گرفت مزید مضبوط کر سکیں۔

بین الاقوامی دنیا سے روابط کی جہاں تک بات ہے تو مریم کو اسـمیں کوئی دقت نہیں ہو گی کیونکہ خود ان کے والد بیرونی دنیا میں ایک اچھی اور قابل بھروسہ شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور مریم بذات خود خارجہ پالیسی کے معاملات اور انٹرنیشنل افیئرز پر گہری اور مضبوط گرفت رکھتی ہیں ۔ انہیں البتہ اپنی شخصیت میں صبر اور برداشت کے پہلووں کو مزید بڑھانا ہو گا کیونکہ ہماری سیاست اور معاشرے میں بدقسمتی سے آج تک خواتین کے بارے میں انتہائی نازیبا کلمات استعمال کیئے جاتے ہیں اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے خواتین کی کرار کشی سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا اس ضمن میں وہ شہید محترمہ بی بی کی سیاسی زندگی سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں ۔ ان کی سیاست میں انٹری دیکھ کر بی بی کی یاد بھی تازہ ہو جاتی ہے بھلا آج سے کچھ دہائیاں قبل کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ مسلم لیگ نون کی قیادت مریم نواز سنبھالیں گی اور یہ جماعت ایک باہیں بازو کی پر و ایسٹیبلیشمنٹ جماعت کے بجائے ایک متوازن لبرل اور اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ جماعت کے طور پر جانی جائے گی ۔مریم نواز پاکستانی سیاست میں کتنی بہتری لانے پاتی ہیں اور عوام کے دلوں سے سیاستدانوں اور جمہوریت کے خلاف بڑھتی ہوئی بددلی کو کیسے کم کر پاتی ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن انہیں اپنا نیا چہرہ بنا کر مسلم لیگ نون نے بلاشبہ ایک احسن اور مثبت فیصلہ کیا ہے۔