پاکستان میں انتہا پسندی کی کہانی

تحریر اجمل شبیر

pakistan-2
ہر مذہب کے ابتدائی زمانے کے بارے میں عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ اس مذہب کو الہی رہنمائی حاصل ہے ۔دنیا کا کوئی بھی مذہب اٹھا کر دیکھ لیں ،اس کا ابتدائی زمانہ الہی قصے کہانیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ہر مذہب کے ابتدائی زمانے کی تعلیمات انتہاتی سادہ بھی ہوتی ہیں ۔عام و خاص ان تعلیمات کو آسانی کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ابتدائی زمانے کے مذہب میں بہت زیادہ مسائل بھی نہیں ہوتے،لیکن جب یہ مذہب دوسرے اور تیسرے دور سے گزرتا ہے تو پھر تبدیلیاں آتی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ بدل جاتا ہے ،اسی وجہ سے مذہب اور معاشرے کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں ۔دوسرے اور تیسرے مرحلے میں پھر مذاہب کی تشریح کی جانے لگتی ہے ،ان مذاہب کی تفسیریں لکھی جانے لگتی ہیں ۔اسلام کو ہی دیکھ لیں ،کتنی تفسیریں لکھی گئی۔کتنی تشریحات کی گئی ۔حتی کہ سائنسی تفسیریں تک لکھی گئی ۔دوسرے اور تیسرے مرحلے میں مذہب کے خدا کا رول بھی ختم ہو کر رہ جاتا ہے،انسان اب جو تشریح کرتا ہے ،اسی کو اہم سمجھ لیا جاتا ہے ۔ہر مذہب ہمیشہ سادگی سے پیچیدگی کی جانب سفر کرتا ہے،اور زمانے کے مطابق اسے ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے
جب کبھی کبھار سماج میں تبدیلیاں زیادہ ہونے لگتی ہیں اور سماج تیزی سے ترقی کرتا ہے تو اس وجہ سے مذاہب بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔جب کوئی بھی مذہب پیچھے رہ جاتا ہے اور تبدیلیوں کا ساتھ نہیں دے سکتا تو پھر سماج میں مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔دنیا میں اب نئی نئی ایجادات ہورہی ہیں ،سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ فلسفے،نفسیات اور تاریخ کے علوم میں بھی نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ۔ان تبدیلیوں کی وجہ سے مذہب کے لئے مشکل صورتحال پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ کس طرح ان تبدیلیوں کا مقابلہ کرے ۔عیسائیت میں جب اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تو عیسائی مذہب کو زاتیات تک محدود کردیا گیا ۔عیسائیت کی سماجیات اور سیاست میں دخل اندازی روک دی گئی ۔اسلام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے،ہم مذہب کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے کو ملانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ہر مذہب کے ساتھ ہمیشہ دو تحریکیں جنم لیتی ہیں ۔ایک تحریک یہ ہوتی ہے کہ مذہب کو جدید انداز میں پیش کیا جائے،زمانے کے مطابق ڈھالا جائے ۔اس کو جدیدیت کی تحریک کہا جاتا ہے ۔دوسری تحریک یہ ہوتی ہے کہ مذہب کو وآپس اس کی جڑوں کی طرف لایا جائے اور تبدیلیوں کو ختم کیاجائے ۔اس تحریک کے مطابق جدیدیت اور تبدیلیاں مذہب کو آلودہ کرتی ہیں ۔اسے بنیاد پرستی کہا جاتا ہے ۔ہندوستان میں دیو بندی اور بریلوی تحاریک ہمارے سامنے ہیں ۔دیو بندی تحریک میں پینٹنگ،موسیقی کی مخالفت کی گئی ۔دیوبندی تحریک کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں ۔اس تحریک میں انتہا پسندی کے خیالات واضح دیکھے جاسکتے ہیں ۔دیو بندی تحریک کے شروع میں انگریزی لباس کو فتوے کے زریعے حرام قرار دیا گیا ۔دیوبندی تحریک میں انتہا پسندی کے خیالات ہمیشہ سے بہت زیادہ رہے ہیں ۔اس کے مقابلے میں ہندوستان میں بریلوی تحریک تھی،اس تحریک میں ہندوستان کے رسوم و کلچر کو اسلام میں جگہ ملی ۔ان میں تہواروں کو اہمیت دی گئی ۔مزاروں کی زیارت،فاتحہ خوانی کی اجازت تھی ۔بریلوی تحریک میں دیوبندی تحریک کی نسبت زیادہ جدیدیت اور دلکشی کا عنصر نمایاں ہے ۔دیوبندی تحریک میں شہروں کے متوسط طبقے کے لوگ انتہا پسندی کا شکار ہوئے ،وہ انتہا پسندی کے نظریات کی طرف چلے گئے ۔لیکن عام لوگ جو گاؤں ،دیہاتوں سے تعلق رکھتے تھے وہ بریلوی تحریک سے متاثر نظر آئے ۔اس تحریک میں زندگی ہے۔ بریلوی طبقے کا انتہا پسندی اور جہاد و قتال کی جانب کبھی بھی جھکاؤ نہیں رہا۔
دیوبندی ہندوستان کو ایک زمانے میں داراالحرب مانتے رہے،لیکن بریلوی کبھی بھی دارالحرب کے حق میں نہیں رہے ۔یہ جہاد کے بھی اس قدر قائل نہیں رہے ۔دیوبندی تحریک جہاد سے بھرپور ہے۔ جہاد افغانستان میں دیوبندی ،وہابی اور اہلحدیث ملوث رہے جبکہ بریلویوں نے ہمیشہ جہاد افغانستان کی مخالفت کی۔ ان تحریکوں میں یہ بنیادی فرق ہے ۔پاکستان میں دیوبندی اور بریلوی اثرات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔اس تناظر میں پاکستان کے مسائل کو سمجھنے کی ضروت ہے ۔پاکستان کا مسئلہ کیا ہے؟کیا پاکستان اسلام کے لئے بنا تھا یا مسلمانوں کے حقوق کے لئے یہ ملک تخلیق کیا گیا تھا؟اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر وجود میں آیا ،قائداعظم اس ملک کو سیکولر خطوط پر چلانے کے خواہش مند تھے ۔گیارہ اگست کی تقریر کے علاوہ قائداعظم کی شخصیت ،ان کا رہن سہن ،خیالات اور ان کی زندگی ہمارے سامنے ہے ۔پاکستان بننے کے بعد جناح صاحب کو جان بوجھ کر رد کیا گیا ۔ان کے خیالات پر پابندی لگ گئی اور اس طرح انہیں اور ان کے خیالات کا قتل کیا گیا ۔قائداعظم کی وفات کے بعد انیس سو انچاس میں قرارداد مقاصد لائی گئی جو جناح کے نظریات کے خلاف تھی ۔لیاقت علی خان نے مذہب کو ریاست اور سیاست کا حصہ بنا دیا ۔اس قرار داد کے بعد جناح اجنبی بن گئے۔اقلیتوں کے حقوق پامال ہونے لگے ۔احمدیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے ۔شعیہ مسلمان ہزاروں کی تعداد میں اس انتہا پسندی کا شکار ہو ئے اور ابھی تک ہو رہے ہیں ۔جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کی اشاعت پر پابندی لگی ،نجانے وہ تقریر اب کہاں پڑی ہے ۔پاکستان کا دستور اس لئے جلدی نہ بن سکا کیونکہ مولویوں کا خوف تھا ۔خوف یہ کہ دستور کس حد تک اسلامی ہوگا؟چار مولوی اکھٹے ہو کر اسلام کی کسی ایک بات پر متفق نہیں ہو سکتے تو وہ اسلامی دستور وغیرہ پر کیا اتفاق کرتے ۔
انیس سو چھپن کا دستور پاکستان کو اسلامک ریپبلک آف پاکستان بتاتا ہے،یہ پہلا دستور تھا جس میں منافقت کی گئی ۔مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی ،ان کے حق کو اس دستور میں تباہ کیا گیا ،ان کی اکثریت کو ختم کیا گیا ۔۔ایوبی دور میں سیکولر سوچ کو اہمیت ملی،جدیدیت کی بھی پرورش کی گئی ،جماعت اسلامی جیسی انتہا پسند تنظیموں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے سیکولرزم کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔پھر انیس سو باسٹھ کے دستور میں پاکستان ریپبلک آف پاکستان بنا۔لیکن مولویوں کے خوف کی وجہ سے پھر اسلامک ریپبلک بن گیا ،کہا گیا کہ ٹائپ رائیٹنگ کی غلطی کی وجہ سے اسلامک لفظ نہیں لکھا جاسکا ۔ایوب کے دور میں انتہا پسندی کی جگہ روشن خیالی کے نظریئے کو اہمیت ملی ۔۔لیکن ایوب بھی مولویوں کا دباؤ برداشت نہ کرسکا ۔ایوب کے دور کے بعد انیس سو تھتر کا دستور آیا ۔بھٹو کے دور میں انیس سو تھتر کے دستور میں اسلام ریاست کا مذہب بنادیا گیا ،اس دستور میں کہا گیا کہ صدر اور وزیراعظم صرف مسلمان ہی ہوسکتا ہے اور اس طرح غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ۔بھٹو نے مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کیا،پاکستان اسٹڈی اور اسلامک اسٹڈی جیسے علوم متعارف کرائے گئے ۔جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا گیا ۔احمدیوں کو اس دستور میں غیر مسلم قرار دیا گیا ۔انیس سو تھتر کے قانون میں انتہا پسندی کو طاقت ملی ۔یہی انتہا پسندی بھٹو کی موت کا بھی سبب بنی۔
پھر ضیاالحق آئے ۔انہوں نے تو معاشرے کو انتہا پسندوں سے بھرپور کردیا اور کوٹ کوٹ کر پاکستانی معاشرے میں انتہا پسندی بھری۔ موجودہ پاکستان کو ضیاالحق کا پاکستان کہا جاسکتا ہے۔اب کسی میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ وہ ضیاءالحق کے پاکستان کے سامنے سر اٹھا سکے ۔ضیائی قوانین میں مولوی طاقتور ہوئے،دستوری اور قانونی طور پر مولویوں کو طاقتور بنا دیا گیا ۔یہ ضیاء ہی کا کارنامہ ہے کہ فتوؤں کے زریعے لوگوں کو کافر قراردیا جانے لگا اور ان کا قتل عام کیا گیا اور ابھی تک کیا جارہا ہے ۔ستر کی دہائی سے اب تک عربوں کا پیسہ اس ملک میں آنا شروع ہو گیا ۔مولوی کو اقتصادی طور پر طاقتور بنایا گیا ۔سعودی عرب کی السعود فیملی نے اپنی شہنشاہیت کو طاقتور بنانے کی خاطر دیوبندی،وہابی اور سیلفی تحریکوں والی مذہبی جماعتوں کو کھل کر پیسہ دیا ۔اس طرح انتہا پسندانہ نظریات کی آبیاری کی گئی جس کے نتائج جماعت اسلامی،القاعدہ،لشکر جھنگوی کی شکل میں پاکستان کے انسان بھگت رہے ہیں ۔
پاکستان میں ریاست کی پالیسیوں کی وجہ سے انتہا پسند عناصر طاقتور ہوئے ۔لیفٹ اور روشن خیال طبقے کو ہمیشہ ریاست نے دبایا ۔لیفٹ کا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ انہوں نے سوسائیٹی کے خیالات کو بدلنے کی کوشش نہیں کی ۔یہ لوگ چین اور روس کے پیچھے بھاگتے نظر آئے ۔لیفٹ کا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے موثر کردار ادا نہیں کیا ،کھلونا بنے رہے،کبھی روس کے ،کبھی چین کے تو کبھی امریکہ کے ۔۔یہ ایک حقیقت ہے ۔آج پاکستان میں مذہب ایسا ہتھیار بن گیا ہے جس سے خوف پیدا کیا جاتا ہے اور لوگوں کو یرغمال بنایا جارہا ہے۔انتہا پسندی کی وجہ سے پاکستان میں لوگ جہالت اور عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔اب کسی کو یہ سمجھ نہیں آرہی کے ان انتہا پسند عناصر اور انتہا پسندی کو کیسے روکا جائے ؟اور کس طرح ان کا مقابلہ کیا جائے ۔
پاکستان کو مسائل سے نکالنا ہے تو اب ہمیں شخصیتوں سے نکلنا ہوگا۔اقبال اور جناح کو بھلانا ہوگا۔ان کے چکر سے نکلنا ہوگا ۔اب پاکستان کو جمہوریت اور سیکولرزم کی ضرورت ہے ۔ریاست کو مذہبی معاملات میں غیر جانبداری دیکھانی ہوگی ۔اب شخصیات سے ہٹ کر نطریات کی بات کرنی ہوگی ۔تعلیم کے نصاب کو سیکولر اور لبرل کرنا ہوگا ۔پاکستان میں لبرل علوم کو جگہ دینی ہوگی ۔لبرل علوم سے ہی انتہا پسندی کی طاقت کمزور ہوگی ۔لوگوں کے زہن کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔اس کے لئے دانشوروں ار سائنسدانوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔وہ لوگ جو معاشرے میں انتہا پسندی کو چیلج کررہے ہیں اور باغی ہیں ان کی عزت کنی ہوگی ۔یہی لوگ ہی معاشرے کو تبدیل کرسکتے ہیں ۔سیکولرزم کے نظریئے کے بارے میں بھی پاکستان میں جان بوجھ کر غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں ۔اور یہ سب کچھ ریاست اور ریاست کے اداروں نے کیا ہے ۔سیکولرزم کا ترجمعہ لادینیت کیا گیا ہے۔لادینیت کو مذہب مخالف نظریہ کہا جاتا ہےَ۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم لادینیت کا نام نہیں ہے ۔اس کا مطلب ہے ریاست مذہب کے معاملے میں غیر جانبدار رہے ۔اگر ریاست کسی ایک مذہب کی طرف جانبدار ہوگی تو یہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ۔سیکولرزم کے نہ ہونے کی وجہ سے انتہا پسندی ہے اور فرقہ واریت ہے ۔اور انتہا پسند طاقتور ہو رہے ہیں ۔پاکستان میں ریاست کا ماڈل ایسا بنا دیا گیا ہے جہاں حکمران ،ملاں اور جرنیل فائدے حاصل کررہے ہیں اور عوام تکلیف میں ہیں اور انتہا پسندی میں جکڑے ہوئے ہیں ۔اسی وجہ سے اداروں میں ٹوٹ پھوٹ ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ریاست اور ریاست کے کچھ طاقتور ادارے انتہا پسندوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ۔آمریت کے ادوار ہمارے سامنے ہیں ۔ضیاء کا دور ۔۔۔مشرف کا دور ۔۔پاکستان میں فوج کو اب بھارت کے ساتھ مخالفت والی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے ۔دو قومی نظریئے سے نکلنے کی ضرورت ہے ۔لگ رہا ہے فوج کی پالیسیوں میں بھی اب تبدیلی آرہی ہے ۔پاکستان کے انسانوں کو سمجھنا چایئے کہ ہر مذہب اور ہر نطریئے میں کچھ نہ کچھ سچائی ہوتی ہے ۔لیکن ہر مولوی اور ہر بنیاد پرست اپنی اپنی سچائی کو اٹل سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے مسائل ہیں اور انتہا پسندی ہے ۔