میں پاکستان کا “مالک” کیا چاہتا ہوں‎

عماد ظفر

maalik

پاکستانی فلم “مالک” وفاقی حکومت کی جانب سے پابندی کا شکار ہو جانے کے بعد آج کل میڈیا پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر رائٹر اور ہیرو عاشر عظیم ہیں جنہوں نے لگ بھگ دو دہائیوں قبل پاکستان ٹیلی ویژن سے ایک سپرہٹ ڈرامہ دھواں میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ اس فلم مالک میں سیاستدانوں اور نظام کو ناکارہ دکھاتے ہوئے ہیرو جو کہ ریٹائرڈ کمانڈو ہوتا ہے خود ہی منصف اور جج بن کر سندھ کے چیف منسٹر جسے کہ وڈیرہ دکھایا گیا ہے اس کا قتل کر دیتا ہے۔
فلم میں طالبان کے سابقہ کمانڈر کو بھی ایک گلوریفائیڈ قسم کے رول میں دکھایا گیا ہے۔ خاتون جسے کہ جبری زیادتی کا شکار دکھایا گیا ہے اس کا تعلق خاص قومیت سے دکھا کر بھی کچھ اچھا تاثر نہیں پیش کیا گیا۔ غرض کہ سیاستدان ججز بیوروکریٹس پولیس سب کو ہی فلم میں ناکارہ اور کرپٹ دکھایا گیا اور آخر میں فلم کے اختتامی گیت “سب اپنے نظریے پاس رکھو ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں” کے ذریعے فلم بنانے والی قوتوں نے واشگاف پیغام بھی دے دیا کہ ہم ابھی بھی اپنے “نظریے” کو ہی کے کر چلیں گے۔
عام حالات میں ایسی فلم کوئی خاص معنی نہیں رکھتی پڑوس کے ملک بھارت میں ایسی لاتعداد فلمیں آئے روز بنتی رہتی ہیں جو سیاستدانوں یا سسٹم کے خلاف ہوتی ہیں۔ لیکن ہماری فلم انڈسٹری اور بھارتی فلم انڈسٹری میں واضح فرق ہے۔ وہاں فلمیں پس پشت قوتیں نہیں بناتیں جبکہ ہمارے ہاں پس پشت قوتیں بھی ان فلموں کے پیچھے ہوتی ہیں۔ اس فلم مالک کے بارے میں بھی آئی ایس پی آر کی پشت پناہی کی خبریں گردش میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت اس میں سے چند مناظر بھی سنسر نہ کروا سکی اور فلم کی نمائش پر پابندی کے چند ہی لمحوں بعد اسے اس فلم کے اوپر سے پابندی ہٹانی پڑی۔ کم سے کم پاکستانی فلم انڈسٹری میں کوئی بھی فلم ساز یا ڈائریکٹر اتنا تگڑا نہیں ہے کہ وہ کسی صوبائی حکومت کی مخالفت کے باوجود فلم نمائش کے لیے پیش کر سکے۔
جن قوتوں نے یہ فلم بنوائی انہیں اظہار آزادی کا بھرپور حق حاصل ہے اور وفاقی حکومت کا اس فلم پر پابندی لگانے کا فیصلہ سراسر غلط ہے۔ ہونا تو یہ چاہیےکہ فلم مالک سے فی الفور پابندی اٹھائی جائے اور غلط یا صحیح اس فلم کا جو پیغام ہے وہ فلم بینوں تک پہچنے دیا جائے۔ اس کے بعد ایک فلم ایبٹ آباد واقعہ، کارگل جنگ یا سقوط ڈھاکہ یا پھر مشرف اور ضیا کے آمرانہ دور پر بنانی چاہیے۔ یوں فلم بینوں کو ایک اور سچائی بھی جاننے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن رکیے سانحہ ایبٹ آباد پر تو ہالی وڈ نے فلم “زیرو ڈاٹ تھرٹی” بنائی تھی جسے پاکستان میں بین کر دیا گیا تھا۔ اور وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس سے ملک کا وقار متاثر ہوتا ہے۔ اسی منطق کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا مالک جیسی فلمیں جو ایک سیاسی پارٹی کے چیف منسٹر کو ریپ کرتا ثابت کریں اور پورے سیاسی نظام کو بدعنوان دکھائیں کیا اس سے ملک کی شان میں اضافہ ہوتا ہے؟
خیر افسوس کا پہلو یہ ہے کہ وطن عزیز کے باشندوں کو اب تفریحی مواقعوں کے مقامات پر بھی اپنی اپنی مرضی کے نظریات ٹھونسے جاتے ہیں۔ فلم تفریح کا باعث ہوتی ہے نا کہ اقتدار کی جنگ اور اپنے نظریات کی پرچار کا۔ ہمارے ہاں پہلے ہی ڈراموں کی جگہ سیاسی نوٹنکی پر مبنی ٹاک شوز عوام کو دکھائے جاتے ہیں اور اب یہ آخری تفریح کا ذریعہ فلم باقی بچا ہے جو کہ رفتہ رفتہ پس پشت قوتوں کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔ یقیناََ اس فلم مالک کے جواب میں کل کو کسی سیاسی جماعت سے وابستگی رکھنے والا شخص آمرانہ دور یا سقوط ڈھاکہ کے حقائق پر فلم بنائے گا تو پھر اسے کیسے نمایش سے روکا جائے گا۔ یہ سول ملٹری کشمکش کم سے کم انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے دور رہنی چاہیئے۔ عاشر عظیم جیسے لوگ فلم انڈسٹری کو غالبا پھر سے اندھیروں کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ سیاسی اور ملٹری کشیدگی کی جنگ فلم انڈسٹری میں بھی شروع ہو گئی تو نہ صرف اس سے ملک کا امیج خراب ہو گا بلکہ فلم انڈسٹری کو بھی تباہ کر دے گا۔ اس ضمن میں خود فلم انڈسٹری کے اداکاروں کو بھی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری نے حال میں ہی اپنے عروج کی جانب سفر کا آغاز کیا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں فلمیں اچھے معیار اور سبجیکٹ پر بننا شروع ہوئیں اور اس وقت دنیا بھر میں ہماری فلمیں دیکھی جا رہی ہیں۔ اچھے موضوعات بہترین اداکاری ڈائریکشن اور کہانیوں نے لالی وڈ کو پھر سے زندہ کر دیا۔ ٹی وی ڈراموں کے ڈائریکٹر اور اداکار ان فلموں میں اداکاری اور ڈائریکشن کے جوہر دکھا کر فلم بینوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ایسے میں اس طرح کی کشیدگی کسی بھی طور فلم انڈسٹری کے لئے اچھی خبر نہیں۔
رہی بات نظریات کی اور اپنا نظریہ رکھنے کی تو کچھ یہی بات ہم سویلینز بھی کہتے ہیں کہ ہم بھی اپنا نظریہ رکھتے ہیں تم بھی اپنا نظریہ اپنے پاس رکھو۔ اب نظریات کی جنگ فلموں سے جیتنا تو ممکن ہے نہیں وگرنہ امریکہ ہالی وڈ کے ذریعے کب کا افغانستان فتح کر چکا ہوتا۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جن کا فرض وطن کی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردوں کا خاتمہ ہے وہ فلمیں اور گانے بنا کر دشمن کو اینٹرٹینمنٹ کے میدان میں شکست دینا چاہتے ہیں۔ پہلے دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا خیال آیا پھر دشمن کے بچوں سے بدلہ لینے کا خیال جاگا۔ جب دشمن ان گانوں سے بھی نہ مانا تو اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے ہی ملک کے جمہوری نظام کو لپیٹنے کا خیال سوجھا اور کرپشن کی نئی رام کہانی سنا کر فلم مالک بنا ڈالی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہمارے جوان سرحدوں پر اور دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کر کے وطن عزیز کی سالمیت کو ممکن بناتے ہیں انہی جوانوں کی قربانی اور بہادری کے باعث میرے جیسے افراد بڑے بطور سکون سے گھروں کے لائبریری روم میں بیٹھ کر تجزیے بھی تحریر کرتے ہیں لیکن ان جوانوں کے افسران کا شوق فنون لطیفہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
آپ نے فنون لطیفہ کا شوق ہی پورا کرنا ہے تو عسکری بنک یا عسکری سیمنٹ کی طرح ایک انٹرٹینمنٹ کمپنی عسکری اینٹرٹینمنٹ ہی کھول لیجئے۔ جہاں تمام معزز افسران گانوں فلموں اور اداکاری کا شوق کھل کر پورا کر سکیں اور فلمیں دیکھتے ہوئے فلم بینوں کو بھی پتا ہو کہ یہ فلم کس ادارے نے بنوائی ہے۔ اپنے ہی وطن کو فتح کرنے اپنے ہی لوگوں کے نظریات کو مسخ کرنے کا یہ کھیل اب بند ہونا چاھیے۔ نوجوانوں کو جنگ یا سیاستدانوں کے قتل پر مت اکسائیے۔ 80 کی دہائی کے نوجوانوں کو بھی کافر سویت یونین کے فوجیوں کے قتال پر اکسایا گیا تھا اور اس اکساہٹ کا نتیجہ آج بھی وطن میں بسنے والے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بھگت رہے ہیں۔ فلمیں بنانا جن کا کام ہے انہیں کرنا چاہیئے حکومت جن کا کام ہے وہ ان کو راس اور سرحدوں کی ذمہ داری جن کا فرض ہے انہیں وہ فرض نبھانا چائیے۔
پس پشت قوتوں کی ہی بنائی گئی فلم “مالک” کے بقول میں پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہوں اور بطور مالک میں چاہتا ہوں کہ ارض پاک کی حفاظت پر معمور ادارہ جمہوریت یا موجودہ سیاسی

عماد ظفر
عماد ظفر

نظام پر حملہ کرنے کے بجائے طالبان اور دیگر کالعدم شدت پسند تنظیموں پر حملہ کر کے ملک سے شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کر دے۔ کیا میری یہ سوچ اور میرا یہ نظریہ غلط ہے؟ بطور مالک میری خواہش ہے کہ تمام آمر احتساب اور قانون کے کٹہرے میں آئیں کیا یہ نظریہ بھی غلط ہے؟ کارگل اور سقوط ڈھاکہ کے حقائق عوام تک پہنچائے جائیں اوت ان کے گناہ گاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے کیا یہ نظریہ بھی غلط ہے؟ ملک میں دفاع پر معمور ادارہ کاروباری سرگرمیوں سے گریز کرے کہ اس سے خود اس ادارے کی ساکھ پر آنچ آتی ہے کیا یہ نظریہ غلط ہے؟ اچھے دہشت گردوں اور برے دہشت گردوں میں تمیز ختم کر کے معاشرے سے شدت پسندی کے عفریت کا خاتمہ لیا جائے کیا یہ نظریہ غلط ہے؟ بندوق نہیں بلکہ علم اور تحقیق میں ہمارا مستقبل روشن ہے کیا یہ نظریہ غلط ہے؟ نظریات بندوقوں کے سہارے نہیں بلکہ علم و آگہی اور منطق کے سہارے زندہ رہتے ہیں۔ آپ اپنا نظریہ رکھیں لیکن ہمارے نظریات کو بھی وقعت دیں آخر کو آپ کے پیغام کے مطابق ہی میں پاکستان کا مالک ہوں۔ بطور مالک میں ووٹ کی طاقت کو بندوق کی طاقت پر ترجیح دیتے ہوئے یہ سمجھتا ہوں کہ نظام میں تبدیلی بندوق سے نہیں بلکہ ووٹ اور شعور کی طاقت سے آئے گی۔