آیا تجھے سلام

تحریر: حسن ایلیا

edhi3

ماں کا نام ہی محبت ایثار قربانی کی علامت ہے مگر میں جس ماں کی کہانی سنانے جا رہا ہوں وہ ان تمام جذبات سے عاری ہے۔ سن ستاون کی بات ہوگی ایک نوزائیدہ ملک میں وبا پھیل گئی کیا بوڑھا کیا بچہ سب ہی اس سے متاثر ہونے لگے جو کچھ صحت مند اور توانا تھے وہ تو جلد صحت یاب ہو گئے کمزور اور ناتواں کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی ماں سسکتے بلکتے بچوں کو چھوڑ چھاڑ اپنے عاشق الف بہادر کے پاس چلی گئی الف بہادر کے سامنے خوب ٹسوے بہائے الف بہادر نے کچھ رقم امداد اور کچھ رقم قرض کی صورت میں ماں کو دے دی ماںنے مجال ہے جو ایک پیسہ بھی اپنے سگوں پر خرچ کیا ہو ساری رقم اپنے ناجائزبچوں ج، س، م، ف میں تقسیم کر دی” ج“ زمیں کا خدا تھا”س“ نے استحصال کے کارخانے لگائے ہوئے تھے” م“ انسان کے روپ میں بھیڑیا اور” ف“ ڈنڈے کے زور پر ماں کے سگوں کو ہانکنے کا کام سر انجام دیتا ۔ خیر جب یہ سب لوگ عیاشیوں میں مصروف تھے تو ایک درد مند آیا نے ان بلکتے بچوں کو سینے سے لگایا ان کے زخموں پر مرہم رکھا اور علاج معالجے کے لئے اپنے گھر لے آئی دن و رات ان کی تیمارداری کی اب معاشرے کے دھتکارے ہوئے آیا کی طرف ہی دیکھنے لگے آیا نے ماں سے کبھی کچھ مانگا اور نہ ہی اس کی ناجائز اولاد سے۔ آیا تو صرف ماں کے ان بچوں سے مانگتی تھی جو خود محنت کر کے اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے تھے ۔لوگ آیا کے خلوص ، انسان دوستی، ایمانداری سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے بھر پور امداد کی اور اس طرح آیا نے ایک بڑا ادارہ بنا لیا جہاں یتیم، مسکین،منشیات کے عادی غرض یہ کہ معاشرے کے دھتکارے ہوئے پناہ لینے لگے۔ آیا جانتی تھی کہ وہ تمام لوگوں کو اپنی خدمات مہیا نہیں کر سکتی بس وہ تو اپنے حصے کی شمع جلا رہی تھی۔

دوسری جانب وہ بچے جو ماں کے پاس ہی تھے بھوک سے نڈھال ہو کر زور زور سے رونا شروع ہو گئے تو ماں بہت پریشان ہوئی ایک مرتبہ پھر الف بہادر کے پاس گئی الف بہادر بہت فکر مند ہوا اسے فکر تھی کہ کہیں چیخ و پکار کرنے والے دونوں کے ناجائز تعلقات کے بارے میں سب کو آگاہ نہ کر دیں اس نے ماں سے کہا کہ جو ان میں سب سے زےادہ چیختا ہے اسے ایسی عبرتناک سزا دو کہ کوئی آئندہ نہ چیخ سکے۔ ماںنے ڈنڈا بردار” ف“ کی مدد سے فلک شگاف آواز بلند کرنے والے کو شاہی قلعہ میں بند کر کے اےسا غائب کیا کہ آج تک کسی کو اس کے بارے میں کچھ پتا نہ چلا اس کامیابی کے بعد یہ عمل مستقل دھرایا جانے لگا جو بھی آواز بلند کرتا زمین میں گاڑ دیا جاتا یا دھتکار دیا جاتا آہستہ آہستہ یہ آوازیں مدھم ہوتی چلی گئیں۔

آیا تندہی سے اپنے کام میں مصروف رہتی اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا لوگوں کی خدمت بنا لیا تھا اپنے بچوں کو بھی اس ہی طرح رکھتی جس طرح ماں کے بچے پالتی۔ ایک مرتبہ آیا کے بچے نے سائیکل کی ضد کی آیا نے کہا میں تم کو سائیکل دلواﺅں گی تو اور بچے احساس کمتری کا شکار ہوں گے ان کے پاس سائیکل کیوں نہیں بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں پھر ٹی وی کی ضد کرنے لگے آیا کے منع کرنے پر بچے آیا سے چھپ کر ٹی وی لے آئے جب شام کوآیا آئی تو ایک بچے نے مخبری کر دی آیا کو بہت غصہ آیا بچوں کو وہ ٹی وی واپس کر کے آنا پڑا ۔

آیا کو کئی مرتبہ ماں کے چہیتوںنے اپنے ساتھ شامل ہونے کا کہا مگر آیا نے ہمیشہ انکار کر دیا کیونکہ آیا کو کسی در کی کیاضرورت تھی اس کا تو اپنا در خلوص، ایثار محبت سے میٹھا درہو چکا تھا ۔آیا نے ایک جھولا مہم شروع کی ان بے شعور لوگوں کے لئے جو اپنے شیر خوار بچوں کو یا تو قتل کر دیتے ہیں یا معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ان شیر خوار بچوں کوآیا نے اپنے سینے سے لگایا اپنے سگے بچوں کی طرح پالا ان کی شادیاں کیں مگر کچھ بانجھ روحانی پیشوا جو اپنے جسمانی نقائص کی وجہ سے محبت کرنے سے عاری ہوتے ہیں بلکہ وہ لفظ محبت کے نام سے ہی نا آشنا ہوتے ہیں آیا کے خلاف میدان میں آگئے حرام بچوں کو آیا کیوں پال رہی ہے یہ بچے گنا ہ کا استعارہ ہیں ان کے ساتھ آیا کو بھی عبرت کا نشان بنایا جائے ان بچوں اور آیا کو دوزخ کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے شروع کر دئیے جس پر اللہ میاں کے نام نہاد وکیل کے طور پر ان کی ہی مہر ثبت تھی۔مگر آیا ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود اپنے کام میں مشغول رہی۔

ایک مرتبہ آیا کے پاس شہر کے کچھ سیانے پہنچے انہوںنے کہا کہ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں بلکہ ماں کا فرض ہے ماں جاگیر داروں ، سرماےہ داروں مُلا اور فوج کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ امریکہ بہادر اس کا نام نہاد عاشق ہے جس نے قرضوں کے بوجھ تلے ماں کو دبایا ہوا ہے ہمیں ان لوگوں کے چنگل سے ماں کو آزاد کرانا چاہیے تا کہ وہ خود اپنے بچوں کو پالے نہ کہ خیرات ، زکوٰة سے اس کے بچے پلیں اس طرح تو وہ بھکاری بن جائیں گے ۔سیانوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے مارکس اور دیگر انقلابیوں کے حوالے دئیے آیا ان کی بات خاموشی سے سنتی رہی اس نے ےہ نہیں کہا کہ جاﺅ کھیت وڈیروں سے لے لو، ملیں لٹیروں سے لے لو تمہارے کسی نے ہاتھ پکڑے ہیں انہیں منظم کرو آیا نے ےہ نہیں کہا کہ میں جانتی ہوں تم میں سے بہت سے بین الاقوامی بھکاری ہیں عوام کے نام پر بھیک مانگ کر خود ہڑپ کر جاتے ہیں اس نے ےہ نہیں کہا تم میں کچھ ایسے بھی ہیں جو الف بہادر کے خلاف بات کرتے کرتے اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنا مستقبل الف بہادر کی گود میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں آیا نے یہ نہیں کہا کہ تم میں کچھ موم بتی مافیا اور کچھ فیس بک انقلابی ہیں بلکہ آیا نے بڑی معصومیت سے کہا ”دیکھو میں زیادہ پڑھی لکھی نہیں بس مارکس اور لینن کو پڑھا ہے مجھے تو کھدمت کرنے کا کام آتا ہے بس میں وہی کر رہی ہوں“۔

مجال ہے ماں اور اس کے چہیتوں نے آیا کو کبھی ایک آنہ بھی دیا ہو اور نہ ہی آیا کو ان سے توقع تھی مگر جب آیا زندگی کے آخری دن گن رہی تھی ماںنے پیغام بھیجا کہ وہ مےرے عاشق الف بہادر کے پاس علاج کرانے چلی جائے کیونکہ جب مجھے چھینک بھی آتی ہے تو میں اور میرے چہیتے وہیں جاتے ہیں۔آیا نے صاف انکار کر دیا تمہارا عاشق تمہیں مبارک میں تو ان بچوں کے عشق میں مبتلا ہوں میرا جینا مرنا ان ہی کے ساتھ ہے آیا نے مرتے وقت اپنی آنکھیں بھی ماں کے بے Hasan Ailyaکس مجبور بچوں کو عطیہ کر دیں آیا کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی قوم کا بچہ بچہ یک زبان ہو کر آیا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنے لگا”آیا تجھے سلام“ دوسری طرف دنیا کو دکھانے کے لئے ماں اور ان کے چہیتوں نے سر پر خاک ڈالی اورردولیوں کی طرح ایسے بین کئے کہ آسمان سر پر اٹھا لیا آیا کی میت میں اگلی صف میںیوں کھڑے ہو گئے جیسے وہ ہی آیا کے اصل چاہنے والے ہیں ۔ ردولی ماں کی چیخ و پکار سن کر لوگوںنے پوچھا تم کون ہو؟”میں ماں ہوں“ اور میرا نام” ریاست “ہے۔