پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت: پاناما پیپرز کے اثرات

تحریر: آمنہ افضل

Nawaz Raheel3

جب پاناما لیکس کی وجہ سے وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کی غیر ملکی کمپنیوں اور “آف شور اکاؤنٹس” میں خفیہ دولت کی خبریں سامنے آنے لگیں تو پاکستان میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ جب حکومت نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کے تحقیقاتی اقدامات اٹھانے سے گریز کیا تو آرمی چیف راحیل شریف نے اپنے ایک بیان میں وسیع پیمانے پر احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے اگلے ہی روز چند حاضر سروس فوجی افسران کو بدعنوانی کے الزام میں اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔ عموماً سیاست دانوں کی بدعنوانی کے انکشافات کے بعد پاکستانی عوام بےبسی سے خاموش ہو جاتے ہیں، مگر اس مرتبہ فوج کے رد عمل کی بدولت ایسا نہیں ہوا۔ فوج کا اس معاملے میں ملوث ہونا خوش آئیند ہے اگرچہ اس سارے معاملے کے پیچھے فوج کا ہی نافذ کردہ ایک قانون ہے۔ پھر بھی، اب چونکہ حزبِ مخالف اور عوام اس مسئلہ پر بیدار ہو چکے ہیں، آئندہ مستقبل میں پاناما لیکس کا سکینڈل مرکزِ توجہ بنا رہے گا۔
وزیرِ اعظم نواز شریف کی دل کی سرجری اور اس کے نتیجے میں ملک سے طویل غیر موجودگی کے باوجود پاناما لیکس کا مسئلہ برقرار ہے۔ نا صرف یہ، بلکہ یہ بھی ثابت ہو گیا کے ان کے بغیر حکومت بخوبی چل سکتی ہے۔ اس غیر موجودگی سے نواز شریف کے مخالفین کو ان کی معذولی کے مطالبات کرنے کا بھی سنہری موقع مل گیا۔ مخالفین نے وزیرِ اعظم کی وطن واپسی اور ان کے سوالات کی جوابدہی کرنے تک پارلیمانی “سیشنز” میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ حزبِ مخالف نے، جس میں تحریکِ انصاف، پاکستان عوامی تحریک اور پیپلز پارٹی شامل ہیں، شریف خاندان کے خلاف “نیب” میں ریفرنس بھی درج کروایا۔ ان جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے پاس بھی شکایت درج کرائی جس میں نواز شریف کے الیکشن کی نامزدگی کے کاغذات میں بیرونی اساسے نہ دکھانے کے بنیاد پرانہیں نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
فوج کی مداخلت کی وجہ سے نواز شریف نے اپنے اہلِ خانہ سمیت خود کو احتساب کے لیے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیا، اور کہا کہ اگر ان پر لگائے ہوئے الزامات ثابت ہو گئے تو وہ وزیرِ اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو جایئں گے۔ اس طرح جنرل شریف کے احتساب پر زور دینے سے سیاسی حکومت کے لئے ایک مثال قائم ہوئی، خاصکر جب خبریں ابھرنے لگیں کہ فوج کے عہدے سے ہٹا دینے والوں میں ایک تین سٹار جنرل بھی شامل ہیں۔ فوجی حکام نے برطرف ہونے والوں کی تعداد یا ان پر لگائے ہوئے الزامات کی کوئی تفصیلات نہیں پیش کیں۔
پاکستان میں فوج کی جمہوریت کے دائرے میں مداخلت پر ایک عرصہِ دراز سے بحث چل رہی ہے۔ مگر فوج کا یوں اندرونی سطح پر دیانت داری اور “پروفیشنلزم” پر زور دینا ایک خوش آیند پیشرفت ہے۔ جنرل شریف کے بیان اور فوجی افسران کی برطرفی کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت میں بڑے عہدہ داروں کا بغور جائزہ لیا جانے لگا۔ انہی پیشرفتوں کی بدولت میڈیا کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی اور اور جنرل مشرف کے اثاثوں پر بھی تحقیق شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں یہ خبریں موصول ہونے لگیں کے “انکوائری کمیشن” جنرل مشرف سے ان کے “آف شور اکاؤنٹس” میں بڑی تعداد میں دولت کی منتقلی کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے بیچ پاناما لیکس کے معاملے کا مک مکا کرانے کے سمجھوتے کے بارے میں افواہیں غلط ثابت ہو چکی ہیں۔ بلاول بھٹو نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ نواز شریف وطن واپسی کے بعد بھی پاناما لیکس کے مسئلے سے اپنی جان نہ چھڑا پائیں گے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے پاناما لیکس کی تحقیقات پر ایک مرتبہ پھر گفتگو شروع کر دی ہے، تاکہ حکومت کے تاخیری حربوں سے ان کے اتفاق کو نقصان نہ پہنچے۔ آپوزیشن جماعتیں بظاہر اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف مظاہرے کریں گے۔ تحریکِ انصاف نے اس معاملے میں پہل کر کے اگست کے مہینے میں ملک بھر میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔
آج پاک فوج کی پاکستانی سیاست کی اعلیٰ تفہیم کو سراہا جا رہا ہے، مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پاناما لیکس کے اس تمام تر معاملے میں کسی حد تک فوج کا ہی ہاتھ ہے۔ جنرل مشرف نے “نیشنل ریکنسیلیشن آرڈنینس” یا “این آر او” نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت بےنظیر بھٹو کو اپنے خلاف درج بدعنوانی کے مقدموں کی جوابدہی کئے بغیر وطن واپس لوٹنے کی اجازت ملی۔ این آر او کا فائدہ نواز شریف نے بھی اٹھایا۔ این آر او کی ہی وجہ سے سیاستدانوں کی بدعنوانی سے نمٹنے کی ایک منفی مثال قائم ہو گئی۔ بعد میں مشرف نے این آر او کو ایک سیاسی غلطی تسلیم کیا، اور قوم سے معافی بھی مانگی۔
اس کے باوجود، پاناما لیکس میں فوج کے کردار کی وجہ سے عوام کا رد عمل تبدیل ہوا ہے، کیونکہ عموماً عسکری یا سیاسی قیادت کے بدعنوانی اور بددیانتی کے ایسے کھلے واقعات کے بعد عوام بےبسی اور لاچاری کی وجہ سے لاپرواہی کا رویہ اختیار کر لیتی ہے۔ پاناما لیکس پر تحقیقات کا نتیجہ چاہے جو بھی ہو، بدعنوانی کے سامنے عوام کی خاموشی اب معمول نہیں رہے گی۔ اب چونکہ عوام حرکت میں آ چکی ہے، یہ مسئلہ نواز شریف اور نون لیگ کی حکومت کو آئندہ مستقبل میں پریشان رکھے گا۔

An earlier version on this article was published by southasianvoices.org.

  • Kamath

    The prime minister Sharif must be applauded for his remarkable efforts and energies to keep Pakistan from he hands of the military. He may go down in history as the greatest leader to have kept it well protected .