لہو لہان کوئٹہ اور جز و کل کی جنگ

تحریر:تنویر آرائیں

cadets

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک بار پھر لہو سے بھیگ گیا جب کالعدم تنظیم کے کارندے پولیس ٹریننگ سینٹر میں گھسے اور بارود کی بو دور دور تک بکھیر دی۔ بارود کی اس بو نے ٹریننگ سینٹر کی حدود متعین کرنے والی کچی دیواروں کو شرما دیا اور خوں سے لت پت لاشیں منہ تکتی رہ گئیں جبکہ ملک میں بسنے والی کروڑوں زندہ لاشیں یہ سوچنے پر ایک بار پھر مجبور ہو گئیں کہ یہ ٹوٹی کمر والے کیسے پہنچ گئے اور چست و چوبند کمر والے کہاں رہ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سانس ٹوٹی لاشوں کا اسکور بڑھتا گیا اور 61 تک پہنچ گیا۔ ہمارے وزیر صاحباں کمال ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے سنائی دیے کہ بروقت کاروائی سے بھاری نقصان سے بچ گئے۔ یقینا 61 لاشیں بھاری نقصان کیسے ہو سکتا ہے کیوں کے بلوچستان والوں کو تو لاشیں اٹھانے کی عادت ہو گی ہے اور ریاست کو کوئی فرق نہیں پڑتا غریب کا بچا مر گیا خیر ہے چند دن بدمعاش میڈیا صف ماتم بچھائے گی، موم بتی مافیا رونما ہوگی چند نعرے چند تقریریں اور پھر سب کچھ پہلے کی طرح معمول کے مطابق چلنا شروع ہو جائے گا۔ اس بار ستم بالائے ستم تو یہ تھا کہ شہدا کی لاشوں کو ایمبولینس تک میسر نہیں ہوئی لاشیں ہائی لکس کی چھتوں پر ڈال کر آبائی علاقوں روانہ کی گئیں اور یہ ثابت کر دیا کہ حکومت تجارت کے سوا کچھ نہیں اور یہ لاشوں کی تجارت ایسی تجارت ہے کہ جس میں قوم کو خوں پسینے کی کمائی دینی پڑتی ہے اور حکومت بدلے میں خوں سے لت پٹ لاشیں فراہم کرتی ہے۔
غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ معاشرے کی ترتیب ہی بکھری پڑی ہے ادارے آپس میں متصادم، سیاسی فریقوں کے مابین بھی رسہ کشی با حصول اقتدار، مذہبی گروہ ایک دوسرے کو کافر بنانے میں مصروف، عدالتیں مقدمات سننے سے گریزاں، میڈیا ریٹنگ کی بھوک میں اندھی، سول سوسائٹی موم بتیوں تک محدود، مفکر و دانشمند یا جیلوں کے حوالے یا چپ کا روزہ رکھے ہوئے، اہل قلم درباری بنے بیٹھے ہیں، چوکیدار مالک بن گئے اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے ٹھیکیدار۔ ایسے میں معاشرہ بکھرے گا نہیں تو کیا متحد ہوگا کہ جب معاشرے کا ہر فرد کل کی بجائے جز میں مبتلا ہوگا اور اجتمائی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ ہمارا معاشرہ اس وقت جنگل کی ذاتیت اور چیونٹیوں کی اجتماع پرستی کے درمیان کھڑا ہے اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اجتمائی جبلتیں آہستہ آہستہ تعاون کی قدر بقا بڑھنے سے مضبوط ہو رہی ہیں۔
ریاست و حکومت کے مابین جاری جنگ نے قوم کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے جبکے حقوق کی وافر مقدار میں لوٹ کھسوٹ نے نفرت اور دشمنی کی طرح ڈال دی ہے جو کہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ حکومت کوئی اخلاقی ادارہ نہیں ہوتی، وہ تو لوگوں کے نمائندوں کا ایسا مرکب ہے کہ جس کی ترتیب بدلتی رہتی ہے مگر ہماری حکومت تو بے ترتیب نظر آتی ہے، حکومت تو حکومت لیکن یہاں اداروں کی ترتیب تو حکومت سے بھی زیادہ بکھری ہوئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاستی اداروں کی بے لغام پالیسیوں نے ایک ایسے اندھے جانور کو جنم دیا تھا جو ہر دن بچے دے رہا ہے اور بچے فطری قوانین کے برعکس تیزی سے بڑھے ہو رہے ہیں اور یہ آدم خور بچے ملک کی نوجوان نسل کو تیزی سے کھا رہے ہیں یا اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ ہم اس وقت ملک کو درپیش تقریباً مسائل کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہرانے کا راگ الاپتے ہیں، اپنے کردار کو دیکھنے کے بجائے دوسرے کے کردار پر انگلیاں اٹھانے سے کبھی اپنا دامن صاف نہیں ہو سکتا۔ اپنی کوتاہیوں کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں خوف محسوس ہوتا ہے کیوں کے ہم نے دیوتا بنا لئے ہیں جن کو سچائی کہنے سے وہ جلال میں آجاتے ہیں اور ہم پر عذاب الہی نازل ہونے کا خدشہ ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے کے حقائق سے منہ موڑنے سے حقائق تبدیل نہیں ہو جاتے اور حقیقت عقل کی کسوٹی ہے جس کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔ ہم بد اخلاق دوشیزہ دیکھ کر کانپ اٹھتے ہیں لیکن اخلاق بد ہونے کی وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کرتے حالت اور واقعیات کا جائزہ نہیں لیتے، مشاہدہ کرتے ہوئے ڈر محسوس ہوتا ہے کیوں کے کہیں نہ کہیں ہماری ذات بھی منسلک نکلے گی۔ ہم کتابوں کو سنسر کر رہے ہیں مگر اسلحہ سازوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اسی طرح ہم آج شدت پسندوں کو دیکھ رہے ہیں اور حقائق سے رو گردانی کر رہے ہیں۔ آج بھی ہمارے درمیان ایسی صنعتیں موجود ہیں جو تسلسل کے ساتھ شدت پسندی کی ترغیب دے رہیں ہیں اور اپنے کارندے و سپاہیوں کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں لیکن انفرادی مفادات کی خاطر انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے جو اجتمائی نقصان کا سبب بن رہا ہے۔
شدت پسندی کے اس خونخوار جانور سے جان چھڑانے کے لیے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں سامنے رکھ کر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جبکہ حقائق تسلیم کرنے سے پہلے انھیں جاننے اور حقائق کو سننے کی اخلاقی جرات پیدا کرنے پڑے گی اور اپنی ماضی کی کوتاہیوں غلط پالسیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا کر انھیں دفنانا پڑے گا، حدود متعین کرنے پڑے گے۔ آئین و قانون کی بالادستی، سستا اور دہلیز پر انصاف مہیا کرنا پڑے گا، سماجی، سیاسی، مذہبی، ریاستی اور اخلاقی قتل و غارت گری بند کرنی پڑے گی انفرادی مفادات ان تمام معاملات کی راہ میں رکاوٹ بنیں گی اور انفرادی مفادات ہمیشہ اجتمائی فلاح و بہبود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جز کا بقا کل کے ساتھ ہی ہے اگر کل ختم ہو جائے گا تو جز بے معنی رہ جائے گا۔