Articles Comments

Pak Tea House » Pakistan » بڑا کام

بڑا کام

تحریر: زہیب اختر

گرمیوں کی آمد آمد تھی، لاھور میں مئ کے سورج میں دن بدن شدت کا اضافہ ہو رہا تھا۔ محمد علی کے اسکول میں بھی گہما گہمی کا عالم تھا کیوں کہ جمعہ کا روز تھا اور ہفتے سے موسمِ گرما کی چھٹیوں کی شروعات ہونی تھیں۔ معمول کے مطابق محمد علی کی جماعت چہارم بی کے اساتذہ باری باری آتےاور چھٹیوں کا ہوم ورک بچوں کے ہاتھ میں تھما کے چلے جاتے۔ اس دن آخری جماعت معاشرتی علوم کی تھی، معا شرتی علوم محمد علی کا پسندیدہ مضمون تھا اور اس نے سوئم جماعت کے سالانہ امتحانات میں اس میں سب سے زیادہ نمبر حا صل کیے تھے۔ سو جہاں محمد علی کو بے چینی سے چھٹی کا انتظار تھا، اتنا ہی انتظار معاشرتی علوم کی جماعت کا بھی تھا۔ خدا خدا کر کے جب چھٹی میں صرف تیس منٹ باقی رہ گیے تو معاشرتی علوم کی جماعت شروع ہوئ۔ معاشرتی علوم کے ہوم ورک کیلئے بچوں کو دس موضوعات پر مضامین لکھنے تھے۔ استانی صاحبہ نے رفتہ رفتہ ہر موضوع کا تعارف کروایا اور طلباءکو کاپی میں نوٹ کرنے کی ہدایت دی۔ ان دس میں سے ایک موضوع تھا ”ملک و قوم کی خدمت“۔ محمد علی کو یہ موضوع قدرے دلچسپ لگا، مگر اس سے پہلے کے وہ اس پر کچھ سوچ وچار کرتا، چھٹی کی گھنٹی بج اٹھی ۔ بچوں نے لپک کر اپنی کاپیاں کتابیں سنبھالیں اور دروازے کی راہ لی، محمد علی بھی تیز قدم اٹھاتا ہوا گھر کی طرف روانہ ہوا۔
گھر پہنچا تو اس کے والد صاحب بھی گھر آ چکے تھے، جمعے کے روز ان کا دفتر ”ہا ف ڈے“ کی بدولت جلدی اختتام پذیر ہو جاتا تھا۔ محمد علی کی ماں نے بھی کھانے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ جمعے کے روز دونوں باپ بیٹا نماز کیلئے مسجد ضرور جاتے تھےسو دونوں نے تیزی سے چند نوالے نگلے اور وضوع کر کے جمعے کی نماز کیلئے مسجد روانہ ہوئے۔
مسجد میں مولانہ صاحب جنت کے حصول کی اسکیم پر وعظ فرما رہے تھے اور مختلف درود کے فضائل اور ان سے ملنے والی نیکیوں کی فہرست گنوانے میں مشغول تھے۔ حاضرینِ مسجد بھی گاہے بگاہے سبحان اﷲ کا نعرہ بلند کرکے مولانا صاحب کی حوصلہ افزائ کر رہے تھے۔ جب محمد علی مسجد میں آن بیٹھا تو مولانا صا حب درود کے سہی استعمال کا نسخہ پیش کرنے لگے، محمد علی بھی انہماک سے ان کی بات سننے لگا۔

”مسلمانوں اگر جنت کیلئے اگلی صف والوں میں شامل ہونا چاہتے ہو تو نبی پاکؐ پر روزانہ کم از کم تین سو مرتبہ درود بھیجتے رہو۔ “

مولانا صاحب کی بات نے محمد علی کو سوچ میں مبتلا کر دیا، اس نے تو کبھی بھی اپنے والد صاحب کو کسی ایسے ورد کا قائل نہیں پایا تھا تو کیا وہ اگلی صف والوں میں نہیں شامل ہو پائیں گے؟ وہ تو اپنے والد صاحب کو اعلی اخلاقیات ، دیانتدار اور دیندار آدمی جانتا تھا۔ وہ کچھ دیر اس پر سوچ وچار کرتا رہا مگر مولانا صاحب کی بات سمجھنے سے قاصر رہا جس پر اس نے معاملے کو رفع دفع کرنا ہی بہتر سمجھا، مگرمولانا صاحب کے وعظ میں اس کی مزید دلچسپی جاتی رہی۔ اس وقت اُس کے ذہن میں پھر وہی مضمون کا موضوع آن پہنچا جو معاشرتی علوم کی جماعت میں اس کی دلچسپی کا مرکز بنا تھا۔جلد ہی جمعے کی نماز کا آغاز ہوا، دونوں باپ بیٹے نے نماز پڑھی اور جوتیاں سنبھال کر گھر روانہ ہوۓ۔
جمعے کے روز محمد علی کے والد دن کا بقیہ حصہ گھر پر گزارنے کو ہی ترجیح دیتے۔ عام طور پر اخبار یا کسی کتاب کا مطالعہ کرتے یا کبھی کبھار ریڈیو پر کسی شاعری کے پروگرام کو ڈھونڈ نکالتے۔ قریباً پندرہ برس قبل انھوں نے اپنی وراژتی زمین بیچ کر لاہور میں واقع فیض باغ کے علاقے میں ایک پانچ مرلے کا گھر خرید لیا تھا اور ایک مدت سے وہاں مقیم تھے۔ محمد علی ہی ان کی تن تنہا دیرینہ اولاد تھی جو اسی گھر میں پیدا ہوا۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انھوں نے لاہور کے میونسپیلیٹی کارپوریشن (MCL)سے کیا تھا ، جہاں وہ ایک کلرک کے طور پر بھرتی ہوۓ تھے اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ MCL کو وقف کر چکے تھے۔ پھر جب ؁٢٠١٠ میں لاہور ویسٹ میینیجمنٹ کمپنی (LWMC) کا ادارہ تشکیل دیا گیا تو انھیں سینیٔرکلرک کے عہدے پر بھرتی کر لیا گیا۔ ہمیشہ وقت کے پابند رہے اور اپنے پیشے سے مکمل ایمانداری نبھائ، اگر دفتر میں کسی افسر نے ان سے ناجایٔز رویہ بھی برتا تو صبر وتحمل سے کام لیا۔ نہ کبھی بے ایمانی کی اور نہ ہی اپنے کسی ماتحت کوکرنے دی۔ ان کا یہ رویہ ان کی ترقی کی راہ میں حائل بھی رہا، مگر انھوں نے پاکدامنی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
اس شام محمد علی بتدریج اس سوچ میں مبتلا رہا کہ آخر وہ کون سا کام ہے جس سے وہ ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہے۔ کبھی سوچتا کہ فوج میں بھرتی ہو کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے،کبھی سوچتا کہ وہ پولیس میں بھرتی ہو کر ملک سے چوروں اور ڈکیتوں کا صفایا کر سکتا ہے، یا پھر ڈاکٹر بن کر غریب لوگوں کا علاج معالجہ کرسکتا ہے، اسی سوچ نے اسے اضطراب میں مبتلا کیے رکھا۔ بلآخر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ سبھی کام ملک و قوم کی عظیم خدمت کے ہیں بشرطیکہ ایمانداری سے کیے جائیں۔ مگر ان میں سے کسی بھی کام کو سرانجام دینے کیلیے اسے برسوں کی محنت اور مشقت درکار تھی۔ اسے تو کچھ ایسا کام کرنا تھا جو اس کی موجودہ استطاعت میں ہو۔
دن اسی کشمکش میں گزر رہے تھے کہ ایک دن محمد علی کی ماں نے اسے گلی کی نکڑ پر واقع بشیر کریانے سے چاۓ کی پتی لانے کو بھیجا۔ محمد علی جب بھی اپنی گلی میں نکلتا تو بکھرے ہوۓ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہمیشہ اسے گندگی کا احساس دلاتے تھے اور وہ ایک عجیب ہیجان کی کیفیت محسوس کرتا تھا۔ بشیر کریانے کے ارد گرد کوڑے کا ایک خاص ڈھیر موجود رہتا تھا۔ چلتے پھرتے گاہک اکثر استعمال شدہ اشیاء وہیں پھینک کر چلے جاتے تھے۔ محلے کے لڑکے جب کرکٹ کھیل کر آتے تو بشیر کریانے پر اپنی محفل جماتے۔ ٹافیوں اور بوتلوں کا دور دورہ ہوتا مگر ٹافیوں کے کاغذ اور خالی بوتلیں وہیں پھینک جاتے۔ محمد علی نے سوچا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری گلی بھی صاف رہے۔ پچھلے برس محمد علی کے والد اس کو عید کا جوڑا دلوانے لاہور ڈیفینس کے ایک شاپنگ مال لے گئے تھے۔ وہاں کی صاف، رنگ برنگ روشنیوں سے سجی کشادہ سڑکیں اور ان پر رواں خوبصورت گاڑیاں اسے بہت بھائ تھیں اور اس نے تہے دل سے یہ چاہا تھا کہ کاش وہ بھی اس علاقے میں رہتا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی گلی کو بھی اس طرح صاف رکھا جائے جیسے ڈیفینس کی سڑکیں ہیں۔ شاید تبھی وہاں بھی دلکش عمارات بنیں گی، بشیر کریانے کا بھی خوبصورت سٹور ہو گا اور نت نئ گاڑیاں گلی کی زینت بنیں گی۔ وہ پورا رستہ اسی سوچ میں مبتلا رہا، شاید جس بڑے کام کی اسے کیٔ دنوں سے تلاش تھی اسے مل چکا تھا۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا گھر پہنچا، چائے کی پتی ماں کے حوالے کی اور گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ وہ سوچ چکا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے، سیدھا والد صاحب کے دفتر پہنچا اور ایک خاکروب سے جھاڑو اور بوری کیلئے منت سماجت کرنے لگا۔ جب منت سماجت سے کام نہ چلا تو اپنے والد صاحب کا حوالہ دے کر دونوں چیزیں حاصل کرنے میں بلآخر کامیاب ہو گیا۔
جب گلی واپس پہنچا توکام کے آغاز کیلئے اُس نے بشیر کریانے کو ہی بہترین ہدف سمجھا اور جھاڑو اور بوری سے لیس گلی کی نکڑ کی طرف روانہ ہوا۔ جلد ہی اس نے اپنا کام شروع کر دیا۔ بشیر صاحب نے جب جھاڑو کی آواز سنی تو کچھ حیرانی کے عالم میں باہر نکلے اور محمد علی کو اپنے مشن میں مشغول پایا، کچھ تعجب ہوا مگر اظہار کیے بغیر واپس دکان میں داخل ہو گئے۔ محمد علی کوڑا بوری میں اکٹھا کرتا جاتا اور بوری کو برابر والی گلی میں رکھے کوڑا دان میں انڈیل آتا۔ جون کی چلچلاتی گرمی نے اس کے کپڑوں کو پسینے سے شرابور کر دیا تھا۔ کچھ دیر بعد جب محمد علی کی گھر پر عدم موجودگی نے ماں کو پریشان کیا تو وہ اسے ڈھوندنے گھر سے باہر نکلی، بیٹے کو عجیب و غریب کام میں مشغول دیکھ کر حیران بھی ہوئ اور اس کی پسینے میں لت پت قمیز دیکھ کر کچھ متاثر بھی۔ وہ چپکے سے کھڑی کچھ دیر دیکھتی رہی اور پھر واپس گھرمیں داخل ہو گئ۔
شام کو جب گھر لوٹا تو ماں سے کچھ ذکر نہ کیا، کہ کہیں ماں اس کے ذوقِ خاکروبی کو کم تر جان کر اسے روک نہ دے، ماں نے بھی حُسنِ ظن سے کام لیا اور کچھ چھان بین نہ چاہی اور نہ ہی محمد علی کے والد کو خبر ہونے دی۔
اس کے بعد کئ دنوں کیلئے محمد علی کا یہی معمول رہا۔ جب دوپہر کو ماں کام نبٹا کر ذرا سستانے کیلئے لیٹ جاتی تو دبے پاؤں باہر نکل جاتا۔ جھاڑو اور بوری وہ گزشتہ روز کوڑادان کے نیچے چھپا آتا تھا، وہاں پہنچ کر اپنے اوزار برامد کرتا اور کام میں مصروف ہو جاتا۔ ادھر ماں بھی اس کے نکلنے کے کچھ دیر بعد بیدار ہو جاتی اور وقتاً فوقتاً جھانک کر کن اکھیوں سے اسے دیکھ لیتی۔ جب کبھی محمد علی کے جذبے کو دیکھتی تو کچھ فخر محسوس کرتی اور جب کبھی محلے کا کوئ باسی اسے دھتکارتا یا طنزیہ جملہ کس جاتا تو پریشان ہو جاتی، اب تک وہ بھی نہ جان پائ تھی کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے محمد علی کو اس مشن پر معمور کر دیا تھا۔
رفتہ رفتہ گلی کے حالات بہتر دکھائ دینے لگے تھے، اکثر جو جگہ محمد علی صاف کر چکا ہوتا وہاں پھر کوئ مردود کوڑا پھینک جاتا، مگر محمد علی اطمینان سے واپس مڑتا اور پھر کوڑا سمیٹ دیتا۔ اس کے چہرے پر کئ دنوں کی مشقت کے آثار نمودار ہونے لگے تھے۔ گرمیوں کے سورج نے اس کی سانولی رنگت کو مزید گہرا کر دیا تھا اور مسلسل جھاڑو لگانے سے اس کے ہاتھوں میں متعدد چھالے بن چکے تھے۔ مگر گلی کی صفائ کا کام تقریباً پایہِ تکمیل کو پہنچنے والا تھا۔ رفتہ رفتہ بس اِتنا ہی کام رہ گیا کہ ایک یا دو دن میں مکمل گلی کی صفائ ہو جا تی۔ اس دن محمد علی گھر سے نکلتے وقت اپنا مٹی کا گلہ بھی ساتھ لے گیا۔ والد سے جو کچھ بھی تھوڑا بہت جیب خرچ ملتا تھا وہ اس گلے میں جمع شدہ تھا۔ وہ پھر سیدھا بشیر صاحب کے کریانے پر پہنچا پر آج صفائ کی خاطر نہ آیا تھا۔ ماں بھی کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
اس نے احتیاط سے گلے کو دکان کے سامنے فرش پر ہلکی سی ضرب لگائ اور اسے توڑ کراندر سے برامد ہونے والے سکوں کو گننے لگا۔ پھر گلے کی کرچیوں کو سمیٹ کر کریانے سے تین بڑے سائز کے کاغذ، لکھائ کیلئے ایک موٹی قلم اور گوند کی ایک بوتل خرید لایا۔
پھر خاموشی سے ایک طرف جا کر کاغذات پر کچھ لکھنے لگا۔

” گلی کو صاف رکھیں تا کہ ہمارے ہاں بھی ڈیفینس جیسی عمارات بنیں اور خوبصورت گاڑیاں چلیں“۔ منجانب: محمد علی

پھر اس نے گلی میں تین جگہ کا انتخاب کیا اور ایک ایک کر کے اپنا پیغام وہاں چسپاں کر دیا۔ ماں کی نظر جب اس کے پیغام پر پڑی تو بلااختیار محمد علی کی سادگی پر مسکرا دی اور ممتا کے جذبے سے اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔ محمد علی نے جب کاغذ چسپاں کر دیے تو گلی پر ایک فاتحانہ نظر ڈالی، اس کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا اطمینان اور رونق واضح تھی، آخر کار وہ کئ دنوں کی مشقت کے بعد اپنا بڑا کام مکمل کر چکا تھا۔ تھکا ہارا گھر پہنچا اور ماں سے چہک چہک کرکھیلنے لگا۔ وہ ماں کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ کئ دنوں سے کس مہم پر تھا، مگر ہمت نہ باندھ پایا۔
اگلے روز صبح سے ہی اسے باہر جانے کا انتظار تھا۔ وہ ایک مرتبہ پھر سے اپنی مشقت کا پھل دیکھنا چاہتا تھا، لوگوں نے ضرور اس کی محنت کا پاس رکھا ہو گا۔ خداخدا کر کے جب دوپہر کو ماں لیٹ گئ تو اس کی جان میں جان آیٔ اور لپک کر دروازے سے باہر نکل گیا۔ پہلے اس طرف چلا جہاں اس نے ایک کاغذ چسپاں کیا تھا، وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کے کاغذ تو پھٹا پڑا ہے، جیسے کسی نے اسے دانستہ طور پر دیوار سے اتار کھینچا ہو۔ وہ پریشانی سے دوسرے کاغذ کی طرف بھاگا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بھی شکل بگڑی ہوئ ہے۔ لوگوں نے مضحکہ اڑانے کا یہ موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا، کسے راہ چلتے نے اپنے مصورانہ شاہکار بنانے کیلئے دعوتِ عام سمجھی اورایسے خاکے تراش دیے تھے جو قابلِ ذکر نہ تھے۔ وہ خوف کے عالم میں تیسری جگہ کی طرف دوڑا، تو دیکھتا ہے کے اس کے لکھے پیغام پر کسی نے سیاہی مل رکھی تھی اور اس کے بجاۓ کاغذ پر گالی گلوچ اور بد اِخلاقی جملے گھڑے ہوۓ تھے۔
انھیں دیکھ کر محمد علی کا سر شرم سے جھک گیا، وہ کئ لمحوں کیلئے خاموش کھڑا رہا۔ مایوسی کے عالم میں اس نے ایک نظر گلی پر ڈالی اور پھر دیوار پر لگے کاغذ کو اس نے خود ہی کھینچ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ غم و غصے کے مارے اس کا جسم کانپ اٹھا، اسے یہ معلوم نہ تھا کہ آخر وہ چِلاۓ یا ان لوگوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوجنھوں نے اس کی کئ دن کی محنت کو سنگدلی سے ملیامیٹ کر ڈالا تھا۔ اس کی آنکھوں سے بلااختیار آنسو جاری ہو گئے اور وہ اپنے آپ کو کوسنے لگا۔ اس دن محمد علی کو اپنے والد کی کلرکی پر بہت ندامت محسوس ہوئ۔ اس دن اس کے والد کی ایمانداری اور محنت اس کیلئے کوئ معنی نہ رکھتی تھی، نہ ہی ان کی اعلی ظرفی اس کو
بھائ۔ جب غم و غصے کا غلبہ کچھ کم ہوا تو سر لٹکاۓ گھر پہنچا اور ماں کو دیکھتے ہی چِلا اٹھا۔

”کیا ابا سے کچھ اور نہیں ہو پایا تھا کہ ساری عمر کلرکی کرتے، اگر کچھ بڑا کرتے تو آج ہم بھی ڈیفینس میں رہتے“

ماں سن کر پشیمان ہوئ مگر کچھ نہ بولی، وہ دل ہی دل میں خوش تھی کہ محمد علی کے والد کی ایمانداری اور انتھک محنت کا کچھ اثر اس کے بیٹے میں بھی موجود تھا، مگر ظلم اور سفاکیت کا مقابلہ کرنے کا جذبہ ابھی پختہ نہ ہوا تھا اور بیشک ظلم ،سفاکیت اور جہالت کے سامنے بھلائ پر ڈٹے رہنا ایک بڑا کام ہے۔

مصنف سے رابطہ اس ای میل پر کیا جا سکتا ہے: zahaib.akhtar@gmail.com

Written by

Filed under: Pakistan

Comments are closed.