پانامہ کی ریس اور مردہ گھوڑا

تحریر: عماد ظفر

پانامہ لیکس کا مردہ ہاتھی جس مضحکہ خیز انداز سے اس قوم کے گوڈوں گٹوں میں بیٹھ گیا ہے اس کو دیکھ کر اکثر اس لال بتی اور ہاتھی کے پیچھے بھاگنے والوں پر ترس آتا ہے۔ عمران خان نے اس ایشو کو لے کر قوم کے اعصاب پر زبردستی سوار ہونے کی جو کوشش کی ہے اس کا نتیجہ مختلف ملکی اور بین الاقوامی سروے رپورٹوں کے ذریعے سامنے آ رہا ہے جن کے مطابق اگلے عام انتخابات جو کہ 2018 میں منعقد ہونے ہیں ان انتخابات میں بھی حکمران جماعت کی ایک واضح اکثریت سے کامیابی یقینی دکھائی دیتی ہے۔ پانامہ لیکس میں سے نواز شریف کو تو تقریبا کلین چٹ مل چکی ہے، البتہ عمران خان اینڈ کمپنی کی بھرپور کوشش ہے کہ مریم نواز کو کسی بھی طرح آف شور کمپنیوں کا مالک ثابت کر کے اگلے انتخابات میں مریم نواز کا اقتدار تک راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ یہ پانامہ لیکس جنگ اب محض انا اور ضد کی ایک ایسی لڑائی بن چکی ہے جس میں عمران خان کا ہدف صرف شخصیات ہیں۔ در حقیقت شاید عمران خان بھی سمجھ چکے ہیں کہ حکمران جماعت کو پنجاب سے شکست دینا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے محض اپنی شکست خوردہ انا کو ایک جھوٹی تسلی دینے کے لئے عمران خان اینڈ کمپنی کی توپوں کا رخ مریم نواز کی جانب ہے۔
ہونا تو یہ چائیے تھا کہ عمران خان کوئی نیا مدعا اٹھاتے۔ عوام کو درپیش مسائل یعنی مہنگائی صحت اور تعلیم کی سہولیات کا فقدان یا گیس کی لوڈ شیڈنگ کو جواز بنا کر عوام کو باہر نکالنے کی کوشش کرتے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح شاید عمران خان پھر اس نکتے کو سمجھنے میں ناکام رہے کہ نہ تو عوام کو پانامہ لیکس کے مردہ گھوڑے میں کوئی خاص دلچسپی ہے اور نہ ہی عمران خان کے دھاندلی کے بے سرے راگ کو عوام سننا چاہتے ہیں۔ آپ پنجاب کے کسی شہر یا گاؤں چلے جائیے عوام آپ کو عمران خان سے نالاں نظر آئیں گے۔ سندھ اور بلوچستان میں چونکہ خان صاحب کی سیاسی موجودگی سرے سے ہی موجود نہیں، اس لئے وہاں خان صاحب کا اچھے یا برے الفاظ میں تـزکرہ سرے سے نظر ہی نہیں آتا۔
لے دے کر ایک خیبر پختونخواہ کا صوبہ بچتا ہے جہاں خان صاحب کی جماعت اقتدار میں ہے لیکن وہاں بھی سوائے چند شہروں کے، اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت ناممکن نظر آتی ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ خان صاحب کی سہل پسندی اور سیلیبریٹی سنڈروم سے نہ نکل پانا ہے۔ سیاست میں ایشوز کی انتہائی اہمیت ہوتی ہے کون سا ایشو کس وقت اچھال کر سیاسی مخالف کو کمزور کرنا ہے اور کس وقت پینترہ بدلنا ہے، خان صاحب اس رمز سے بالکل ناآشنا اور نابلد ہیں۔ یہی وجہ ہے سیاست کے میدان میں کچھ کر دکھانے کی بجائے عمران خان الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے میدانوں میں ایک تصوراتی دنیا میں بستے ہوئے خود کو اور اپنے مداحوں کو فریب میں مبتلا کئے رکھتے ہیں۔ حال ہی میں پانامہ لیکس کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ اور جرمن اخبار میں شائع ہونے والی خبر اس بات کا ثبوت ہے۔ بی بی سی اور جرمن اخبار نے پانامہ کیس دوارے کچھ ایسا نیا انکشاف نہیں کیا جس سے کہ عدالتی کارروائی کی زد میں آتے ہوئے مریم نواز یا نواز شریف کو کسی قانون کے تحت سزا دی جا سکتی۔ لیکن خان صاحب نے اپنی سلطنت یعنی فیس بک اور ٹوئیٹر پر نہ صرف ان خبروں کو اپنی فتح کے طور پر پیش کرنے کا پراپیگینڈہ کیا۔ بلکہ کچھ مایوس ٹی وی سیٹھوں اور اینکرز کے ساتھ مل کر ٹی وی سکرینوں کے ذریعے بھی یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ جیسے ان کا موقف درست ثابت ہو گیا۔ حالانکہ اگر اخباری تراشوں اور رپورٹوں کو سچ مانا جائے اور عدالتیں انہیں ثبوت سمجھ لیں تو پھر آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی رو سےمتعدد اخباری رپورٹوں کی بدولت خان صاحب خود باآسانی نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ اس سارے گھن چکر میں سیاسی نقصان کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف نے عام آدمی کے مسائل کو تقریبا دفن کر دیا ہے۔اب رہی بات مریم نواز کی تو قرائن بتاتے ہیں کہ اگلے انتخابات کے بعد انہیں انتہائی اہم ذمہ داری سونپی جائے گی۔ ویسے بھی پانامہ لیکس کے معاملے سے عدالتی کلین چٹ کا حصول شریف خاندان کو پنجاب میں اگلی دہائی تک ناقابل تسخیر بنا دے گا۔
اگر حقیقی معنوں میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی دنیا سے نکل کر پنجاب کے مختلف اضلاع بلکہ اٹک سے صادق آباد بارڈر تک سفر کیا جائے تو حکمران جماعت بالخصوص شہباز شریف کے ترقیاتی کام ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں اور تھوڑے ہی سہی لیکن بہرحال ان کے ثمرات پورے پنجاب میں عوام تک پہنچے ہیں۔ اس کے برعکس جناب عمران خان کا کبھی دھاندلی تو کبھی پانامہ کا شور شاید دانشوارانہ تسکین یا آئیڈیلازم کی بحث کے کام آنے کے سوا عام آدمی کی زندگی میں کوئی بھی تبدیلی لانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ ٹی وی چینلز یا سوشل میڈیا کی حد تک یہ مسئلہ ایسے افراد کی ذہنی اور دانشوارانہ ذوق کی تو تسکین کرتا ہے جو لوازمات زندگی کے پورا ہونے کے بعد آئیڈیل معاشرے اور آئیڈیل سیاست پر بحث کر کے وقت گزاری کرتے ہیں۔ لیکن ملک کی 70 فیصد سے زائد آبادی جو غربت کی چکی میں پستی ہے اس کو نہ تو دانشوارانہ ذوق کی تسکین چاہیے ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی زندگی میں آئیڈیلازم کی گنجائش ہوتی ہے کہ خالی پیٹ نہ تو روٹی کے علاوہ کچھ اور سوچ سکتا ہے اور نہ ہی محروم آنکھیں کوئی خواب دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔
عام آدمی اور اس کے مزاج سے مکمل ناآشنائی نے عمران خان اور ان کی جماعت کو ڈبویا اور بدقسمتی سے عمران خان اس حقیقت کو سمجھنے سے ہی انکاری ہیں۔ پانامہ لیکس کا جو پھندا پس پشت قوتوں نے نواز شریف کے لئے تیار کیا تھا خود اس پھندے میں پھنس کر ان کا گھوڑا عمران خان اپنی رہی سہی سیاسی ساکھ بھی ختم کرواتا دکھائی دیتا ہے۔ ویسے بھی لنگڑے گھوڑے کو میدان میں ریس جیتنے کے لئے نہیں بلکہ ہارنے کے لئے اتارا جاتا ہے جس کا واحد مقصد محض جیتنے والے گھوڑے کو مزید تیز بھگانا ہوتا ہے۔ عمران خان پانامہ کی ریس کے لنگڑے گھوڑے ہیں جن کی لگام سنبھالنے والے محض ان کو دوڑا کر نوازشریف کی رفتار کو اپنی مرضی کے مطابق تو کروا لیتے ہیں لیکن ریس ہمیشہ نواز شریف کو ہی جیتنے دیتے ہیں۔