جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

کنور نعیم

ماں آج میری پسند کا کھانا بنا کر رکھیو، آج جلدی آجاؤں گا۔ ماں نے ہامی بھر کے ماتھا چوم لیا۔
مما میرا نیا ڈریس کب آئیگا؟یہ والا بہت گندا ہو گیا ہے۔ مما نے سر پر ہاتھ پھیر کر دوسرے دن کا وعدہ کر لیا۔
آج اسنے اپنی ہم جماعت محبوبہ سے دل کی بات کہنی تھی، بہت عرصے سے پکنے والے لاوے کو آج اگلنا تھا۔
وہ پوری رات بیٹھی اپنے لیکچرز تیار کر کے صرف چند گھنٹے ہی سو سکی تھی۔بچے اسے بہت پسند کرتے تھے۔
پھر وہ سب پڑھنے کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ ڈاکٹر بننے، انجینئر بننے، سائنسدان بننے اور نجانے کیا کچھ بننے کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ مگر پھر ایسا ہوا کہ کچھ لوگ اسکول کے دروازے کے بجائے ایک غیر متوقع راستے سے داخل ہو ئے اور مٹی کے گھروندوں جیسے نازک فرشتوں پر گولیاں چلا دیں۔ وہ ننھے نونہال، جو ایک دوسرے کو پانی کی پستول سے گیلا کرتے تھے، حیران و پریشان رہ گئے کہ الٰہی!یہ کیسی پانی والی پستولیں ہیں جن سے کپڑے لال ہو رہے ہیں لیکن ان بیچاروں کو کیا خبر تھی کہ یہ لالی اور گیلا پن کتنی ہی آنکھیں خشک کر جائیں گے۔ وہ جو غلط راستے سے آئے تھے، انہیں واقعی صراطِ مسطقیم کی خبرنہ تھی۔
وہ جسے کھانا پسند کا چاہیئے تھا، اسکی بھوک میں اتنی تڑپ تھی کہ دسترخوان جنت میں لگوادیا گیا۔
اسکا ڈریس اتنا گندا تھا کہ صرف اسی کے لہو سے ہی صاف ہو سکتا تھا۔
جسے ڈاکٹر بننا تھا، وہ اب بیماریوں اور دُکھوں سے بہت آگے جا چکا۔
وہ اپنی ہم جماعت محبوبہ کے ساتھ اب جنت کے باغوں میں ٹہلتا ہوگا۔
وہ ٹیچر بچوں کو اتنی پسند تھی کہ جنت میں بھی اسے ساتھ ہی لے گئے۔
جنت کے جنگل میں منگل ہو گیا ہوگا۔ بڑے بڑے اعلٰی پائے کے جنتی، ان جنتیوں پر رشک کرتے ہونگے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت حاجرہؑ چہکتے ہونگے۔  جنت کسی غریب کے محلے کی عید کا سا نظارہ پیش کرتی ہوگی۔ ادھر سے ادھر بھاگتے دوڑتے بچے ان بد بختوں کو دعائیں دیتے ہونگے کہ اُس دنیا سے کتنی خوبصورت دنیا میں بھیج دیا ہے اور وہ بیچارے جہنم میں بیٹھے سوچ رہے ہونگے کہ کاش! ہم بھی بچے ہوتے اور کوئی ہمارے اسکول میں آکر ہمیں بھی مار جاتا۔

آج وہ بچہ، جو کسی ہوٹل پر چھوٹا، کسی دکان پر کالو، بس میں کنڈکٹر یا موچی ہوگا۔ اسکی ماں نے اسے بہت چومتی ہوگی اور شکر بھی کرتی ہوگی کہ اسکا بیٹا اسکول نہیں جاتا اور انشااللہ کبھی جائیگا بھی نہیں۔
دکھ تو بہرحال ایک فطری عمل ہے اور اس واقعے کی مذمّت عین واجب ہے اور  رہیگی بھی مگر اسکے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی روشن خیالی کو بھی داغ دار ہونے سے بچایا ہوا ہے اور نیم عریاں اشتہارات کا سلسلہ سوگ کے دنوں میں بھی نہیں روکتے۔

!آج کسی عورت نے  بانجھ پن سے خاتمے کی گولیاں پھینک دی ہونگی

انسان کے بچے اور انڈے میں فرق ہی کیا ہے؟ اُسے چوزا بننے سے پہلے بھون دیا جاتا ہے اور اِنہیں بھی کچی حالت میں بھون دیا جاتا ہے۔